”واپسی“ کا حُسن 

       ”واپسی“ کا حُسن 
       ”واپسی“ کا حُسن 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  جس طرح اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن کا کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح پرنٹ، نیشنل، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر میاں نواز شریف کی واپسی پر ”بین“ ڈالنے والے ہی دراصل اس واپسی کا حقیقی ”حُسن“ ہیں۔منیر نیازی کے بقول بین ڈالتی عورتیں، رونقیں ہیں میت کی، اس سے شاعر کی مراد ہے کہ ایسے لوگ بد قسمت ہوتے ہیں جنہیں کوئی ”رونے“ والا نہ ہو۔تین دفعہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کی خوش بختی پر ویسے تو کوئی شک کی گنجائش نہیں تاہم وہ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ اُنہیں ”رونے“ والے بہت ہیں اور بنیادی طور پر یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے پوری ”رونق“ لگائی ہوئی ہے ورنہ واپسی اس قدر نہ ”سجتی“ جتنی اب سج چکی ہے۔

اگر پاکستان کے اخبارات، جرائد، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ”ورڈ کاؤنٹ“ یعنی ایک جیسے الفاظ کی گنتی کا کوئی میکنزم ہوتا اور کوئی ایسا ”فلٹر“ لگا کر میاں نواز شریف کی ”واپسی“ کے لفظ کی گنتی کی جاتی تو اس کی کم از کم تعداد لاکھوں میں نکلتی۔ سٹیج پر تقریرکرنے والے مقررین یا پھر ممبر پر واعظ کرنے والے مولوی صاحبان بھی کسی قابل ذکر واقعہ کو فوری بیان نہیں کرتے بلکہ تمہید کے ذریعے پہلے پورا ”ماحول“ بناتے ہیں۔تاہم میاں نواز شریف کا معاملہ مختلف ہے، ان کی واپسی پر ”فل ماحول“ ایسے لوگوں نے بنایا ہے جو واپسی کے قانونی و اخلاقی جواز پر دن رات تنقید کر رہے ہیں، جس طرح عید الاضحی کے موقع پر ہر موچی، کمہار یا ترکھان موسمی ”قصائی“ بن جاتا ہے بالکل اسی طرح واپسی کے ”پرمُسرت“ موقع پر ہر یو ٹیوبر ”قانونی ماہر“ بن کر العزیزیہ، ایون فیلڈ اور پانامہ وغیرہ کی باریکیوں پر روشنی ڈال رہا ہے۔ان قانونی ماہرین کی ٹیمیں دن رات سر جوڑ کر بیٹھی ہیں کہ کسی طرح واپسی ”ٹل“ جائے لیکن نہیں، آج بالآخر وہ دن بھی آن پہنچا ہے، جس دن کے لئے دن گنے جاتے تھے۔

ویسے تو میاں نواز شریف کی واپسی کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ واپسی کوئی پہلی مرتبہ ہو رہی ہے، گزشتہ برس میاں جاوید لطیف کے منہ سے واپسی کی بات نکلی تھی،جس کے بعد قانونی و اخلاقی ”ماہرین“ ڈیڑھ برس سے اس کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل روشنی بھی ڈالتے رہے ہیں تاہم ”واپسی“ کا سب سے خوبصورت پہلو اس میں موجود سسپنس اور تھرل ہے جو آخری منٹ تک قائم رہے گاکہ میاں نواز شریف لاہور لینڈ کرتے ہی گرفتار ہوجائیں گے، یا خود جیل چلے جائیں گے یا پھر سیدھے جلسہ گاہ پہنچ کر عوام سے خطاب کریں گے۔ اگرچہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے اور 24 اکتوبر تک سابق وزیراعظم کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو پاکستان واپس آنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔ دوسری جانب نیب نے بھی نواز شریف کی حفاظتی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

میرے ذاتی خیال میں مقتدرہ نواز شریف کی واپسی کی راہ میں رکاوٹ تھا تاہم چند ہفتے قبل نگران سیٹ اپ میں نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی بطور وزیر تعیناتی اس بات کا اشارہ ہے کہ طاقت ور حلقوں اور نواز شریف کے درمیان اعتماد کی بحالی کی جانب پیش قدمی ہوئی ہے،لیکن اس کے باوجود نواز شریف کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ فوج کے ساتھ ایک حد تک تو ”گزارہ“ کر لیتے ہیں تاہم اقتدار میں رہتے ہوئے یہ ضروری نہیں کہ وہ ان کی ہر بات مانیں یا صرف ایسے فیصلے کریں جو اُن کو پسند یا پھر قابل قبول ہوں۔

ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نواز شریف عمرے کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے دبئی پہنچ گئے ہیں جہاں ایئر پورٹ حکام کی جانب سے انہیں خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔ وہ اپنی صاحبزادی اسماء نواز کے ساتھ دبئی کے علاقے ایمرٹس ہل میں دو روز قیام کے بعد آج (ہفتہ) کی صبح خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان روزانہ ہونگے۔وہ دبئی ایئرپورٹ کے لئے متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق صبح 6 بجے گھر سے روزانہ ہونگے۔ پاکستان واپس پہنچنے پر نواز شریف کو درپیش قانونی پیچیدگیوں کے پیش نظر مسلم لیگ ن کے وکلاء نے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے، جنہوں نے اسلام آباد، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کے لئے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔جن میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں پہلے ہی 24 اکتوبر تک حفاظتی ضمانت فراہم کر دی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جب عدالتیں کسی ملزم کو حفاظتی ضمانتیں دے دیتی ہیں، یہ ضمانتیں دودن سے لے کر دو ہفتوں تک ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب میاں نواز شریف کی آمد سے قبل ہی ملک کے طول و ارض سے عوام کے لئے کچھ اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ڈالر اور پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد دیگراشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ چند روزقبل مرغی کے گوشت میں بھی واضح کمی ہوئی،جس کی وجہ پولٹری فیڈ کی قیمتیں کم ہونا ہے، پولٹری ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے سرکاری حکام کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر پیداواری لاگت اسی طرح کم ہوتی رہی تو عوام کو مرغی کا گوشت اڑھائی سو روپے فی کلو میں بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

ہمارا یہ ماننا ہے کہ ”نحوست“ کا وجود ہے اور یہ انسانوں میں ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 ء کے بعد ملک پر ایسے حکمران مسلط ہوئے کہ جن کی پھیلائی ہوئی نحوست نے پورے ملک اور عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب اس نحوست سے کافی حد تک عوام کی جان چھوٹ چکی ہے اور کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آج بروز 21 اکتوبر میاں نواز شریف مینار پاکستان پر اس نحوست کا ”انتم سنسکار، کریا کرم یا پھر جنازہ پڑھائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -