کیا خط لکھنے کی یقین دہانی شکوک سے بالا تر ہے؟

کیا خط لکھنے کی یقین دہانی شکوک سے بالا تر ہے؟
کیا خط لکھنے کی یقین دہانی شکوک سے بالا تر ہے؟

  

 وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بالآخر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کو یقین دہانی کروا دی ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھ دیا جائے گا اور اس حوالے سے خط کا مسودہ تیار کرنے کیلئے وزیرقانون فاروق ایچ کو ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔ خط کا مسودہ آئندہ تاریخ سماعت پر 25 ستمبر کو فاضل بنچ کو پیش کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے تاحکم ثانی راجہ پرویز اشرف کو عدالت عظمیٰ میں حاضری سے بھی مستثنیٰ کر دیا ہے تاہم توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی وزیراعظم کی طرف سے استدعا کی گئی تھی‘ بظاہر تو یہ اس کیس میں ایک بہت مثبت پیش رفت ہے تاہم کچھ سوالات ایسے ہیں جو شکوک وشبہات پیدا کر رہے ہیں اور اس سارے معاملے میں چالاکی کا پہلو نظرانداز کرنے سے روکتے ہیں۔ وفاقی وزیر چودھری احمد مختار کا بیان ان شبہات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ لڑائی ختم نہیں ہوئی آپ اسے سیز فائر کہہ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ سے جب سپریم کورٹ کے احاطہ میں ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا آپ قوم کو یقین دہانی کروا سکتے ہیں کہ عدالت کی منشا کے مطابق خط لکھ دیا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ میں ہر سوال کا جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔

سوال یہ ہے کہ اس خط کی عبارت بہت عرصہ قبل چودھری اعتزاز احسن نے تجویز کر دی تھی۔ فاروق ایچ نائیک بھی اس طرح کی عبارت کا عندیہ دے رہے ہیں کہ خط میں کہا جائے گا کہ سابق اٹارنی جنرل پاکستان ملک محمد قیوم نے منی لانڈرنگ کیس میں پاکستانی حکومت کا بطور فریق کردار ختم کرنے کیلئے جو خط لکھا تھا اسے پاکستانی سپریم کورٹ کالعدم کرچکی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں منی لانڈرنگ کیس میں پاکستانی حکومت کا کردار بحال کیا جائے تاہم اس مقدمہ کے دو کر دار محترمہ بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو اب اس دنیا میں نہیں ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری کو استثنیٰ حاصل ہے اس لئے ان کی حد تک کارروائی نہ کی جائے جب تک وہ صدارت کے عہدہ پر فائز ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ تاریخ سماعت پر خط لکھنے کے معاملے پر درمیانی راستہ نکالنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ان کے پاس 20 روز سے زیادہ وقت تھا کیا اس دوران ایک خط کا مسودہ تیار نہیں ہوسکتا تھا؟ انہوں نے گزشتہ روز اس معاملے کو جلد نمٹانے کی بات کی لیکن خط کا کوئی مسودہ عدالت میں پیش نہیں کیا ۔ پھر انہوں نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ خط کا مسودہ تیار کرنے کیلئے زیادہ وقت دیا جائے‘ کم ازکم ماہ رواں کے آخر تک وقت دیا جائے تاہم عدالت نے انہیں اس بابت 25 ستمبر تک کی مہلت دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ کام تو دو دنوں میں کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت اگر اس معاملے کو جلد نمٹانا چاہتی تو مہلت پہ مہلت طلب کرنے کا کیا جواز ہے؟

اس کیس کا ایک نیا پہلو یہ بھی ہے کہ اب خط لکھنے کی ذمہ داری وزیر قانون کے کندھوں پر آن پڑی ہے‘ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ وزیراعظم عدالت میں کہتے رہیں گے کہ انہوں نے وزیرقانون کو خط لکھنے کی بابت حکم دے دیا ہے اور وزیر قانون ایسے مسودے تیار کرتے رہیں گے جو عدالت کیلئے قابل قبول نہیں ہوں گے اور توہین عدالت کے الزام کا طوق وزیراعظم کے گلے سے اتار کر وزیر قانون کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ تب تک نگران حکومت کے قیام کا وقت آ پہنچے گا اور راجہ پرویز اشرف خط لکھے بغیر گھر چلے جائیں گے۔

سوئس حکومت سمیت دیگر متعلقہ حکومتوں کو منی لانڈرنگ کے مقدمات ری اوپن کرنے کیلئے خط لکھنے کا حکم فل کورٹ نے جاری کیا تھا۔ اس حوالے سے فل کورٹ کے فیصلے کے پیراگراف نمبر 178 میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک محمد قیوم کے خط کو کالعدم کیے جانے کے بعد ان مقدمات کو اسی مرحلہ سے دوبارہ شروع کرنے کیلئے خط لکھے جائیں جہاں پر یہ ملک محمد قیوم کے خط سے پہلے تھے۔ عدالت عظمیٰ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا سنانے کے اپنے فیصلہ کے پیرا گراف نمبر 40 میں کہہ چکی ہے کہ صدر کے عالمی استثنیٰ کا معاملہ نظرثانی کی درخواست میں اٹھایا گیا تھا لیکن فل کورٹ نے ان دلائل کو قبول نہیں کیا تھا۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ حکومت صدر سے استنثیٰ کا معاملہ سوئس کورٹ میں نہیں اٹھا سکتی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا پانچ رکنی بنچ فل کورٹ کے فیصلے کی تشریح کرسکتا ہے؟ ایسے بہت سے قانونی سوالات ہیں جن کا جواب آئندہ تاریخ سماعت پر 25 ستمبر کو مل سکتا ہے ۔ یہ سوالات تو ہم نے گزشتہ روز ہی اٹھا دیئے تھے کہ کیا حکومت بینظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل کرنے کی اجازت دینے پر رضا مند ہوگئی ہے اور یہ کہ اگر خط ہی لکھنا تھا تو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی قربانی کیوں دی گئی؟

مزید : تجزیہ