خط لکھنے پر آمادگی:عدلیہ اور حکومت کے مابین محاذ آرائی ختم کرانے کی مساعی کامیاب

خط لکھنے پر آمادگی:عدلیہ اور حکومت کے مابین محاذ آرائی ختم کرانے کی مساعی ...
خط لکھنے پر آمادگی:عدلیہ اور حکومت کے مابین محاذ آرائی ختم کرانے کی مساعی کامیاب

  

 عدالت عظمیٰ کے بڑے بنچ کے روبرو وزیر اعظم نے یہ بتا کرکہ وزیر قانون کو خط لکھنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، سب کو حیران کر دیا حالانکہ کچھ حضرات اور دوست وہ بھی ہیں جن کو یقین تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ راقم نے بھی دو تین مرتبہ مختلف اوقات میں یہ گزارش کی تھی کہ عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی ختم کرانے کی کاوش جاری ہے اور حکومت سوئس حکام کو ایک ایسا خط لکھنے پر آمادہ ہو گئی ہے جس کے تحت سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کا خط واپس لے لیا جائے گا اور اس کے لئے جو خط تحریر ہو گا وہ موجودہ اٹارنی جنرل کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے تا ہم اس میں آرٹیکل248 کے تحت حاصل استثنیٰ کا بھی ذکر کیا جائے گا۔ ہم نے تو گزشتہ روز شائع ہونے والے تجزئیے میں بھی یہی گزارش کی اور یہ بھی بتایا تھا کہ خط لکھنے کے مسئلہ پر پیپلز پارٹی کے اکابرین کی آرا میں فرق بھی ہے اور اختلاف پایا جاتا ہے جو آج واضح طور پر ظاہر ہو گیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق وزیر اعظم تحریری طور پر یہ ذمہ داری وزیر قانون فاروق اے نائیک کو سونپ دیں گے جو خط کا ڈرافٹ بنا کر سمری بھیجیں گے اور وزیر اعظم کی منظوری کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ایسا25 ستمبر ہی کو ہو گا۔ فاضل جج صاحبان اس تحریر پر غور کر کے اس کی منظوری دیں گے۔ اگر ان کے نزدیک کسی تبدیلی کی ضرورت ہوئی تو وہ تجویز کر دیں گے، اس کے بعد ہی خط حتمی شکل اختیار کرے گا اور سوئٹزر لینڈ کے سفر پر روانہ ہو گا،ہمیں یقین ہے کہ یہ خط اگلے ماہ ہی روانہ ہو کر سوئٹزر لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں پہنچے گا اور پھر وہ دفتر ہی فیصلہ کرے گا کہ کیا کرنا ہے۔منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت میں جو مفاہمانہ ماحول نظر آیا،اس سے ان تمام حضرات کو دھچکا لگا اور مایوسی ہوئی جو18 ستمبر کو ایک اور وزیر اعظم کی” شہادت “ کے متمنی تھے لیکن باخبر حلقوں کو ایسی کوئی توقع نہیں تھی، کچھ ہم نے خود محنت کی اور پھر اسلام آباد میں اپنے لاہور ہی کے ایک اہم صحافی کی بات چیت کا تجزیہ کیا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ پس پردہ عدلیہ اور حکومت کی محاذ آرائی کو ختم کرانے اور حالات معمول پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، گزشتہ ہفتے کے دوران ایوان صدر میں ایک اہم ملاقات میں بھی ” بس بھئی بس“ والی گفتگو ہوئی، جمہوریت کی بقاءاور ملک میں بے چینی کی فضا کو کم کرنے پر اتفاق کیا گیا چنانچہ اس عرصہ میں ” پریشر پالیٹکس “ والی حکمت عملی کو ٹھنڈا بھی کیا گیا، اس کا نتیجہ 18 ستمبر کو نکل آیا، اگرچہ لاہور کے ہی ایک اسلام آبادی معتبر صحافی اپنے طور پر موجودہ وزیر اعظم کا انجام گیلانی والا ہی دیکھ رہے تھے۔ بہرحال ہمیں اسی بات کا یقین تھا جو ہوا اگرچہ اس کے اثرات پارٹی کے اندر متحارب فریقوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف مزید الزام تراشی کی صورت میں مرتب ہوں گے جو شروع بھی ہو گئے ہیں۔قارئین کرام!ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت کا زیادہ احساس روسی فیڈریشن کے صدر ولادی میر پیوٹن کے متوقع دورے کی وجہ سے بھی ہوا، جو 2 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے روسی صدر ہوں گے۔ حکومت اس حوالے سے بہت محتاط رہنے اور ماحول میں تناﺅ کی کیفیت ختم کرنے کی شدت سے متمنی تھی، اب جو بھی اندازے اور تجزئیے کئے جا رہے ہیں وہ بھی زیادہ تر ذاتی خواہشات والے ہیں۔” عدالتی فعالیت “ کے ذریعے حکومت ختم کرانے اور آصف علی زرداری کو ایوان صدر سے باہر نکلوانے والوں کو پھر مایوسی ہوئی ہے اور اب وہ اختلافات اچھال کر سنورنے والے کام کو پھر بگاڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں مگر ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کو پھر ناکامی ہو گی، ان حضرات کو اسلام آباد کے اسی لاہوری صحافی سے رجوع کرنا چاہیے جو خط کے حق میں خبر دے رہے تھے، لوگ ان کے تعلقات اور ان تعلقات کے حق میں دلائل سے بھی واقف ہیں، اس لئے وہ کچھ جان کر ہی کہہ رہے ہوں گے۔جہاں تک معروضی حالات کا تعلق ہے تو صدر آصف علی زرداری کو تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماﺅں نے ذاتی حیثیت سے خط تحریر کر دینے کا مشورہ دیا تھا ساتھ ہی یہ بھی یقین دلایا تھا کہ پیپلز پارٹی اور صدر زرداری جو فیصلہ کریں گے، ہم اپنی رائے کے خلاف ہونے کے باوجود ساتھ نبھائیں گے، بہر حال اب شعلے مدہم تر ہو گئے ہیں تا ہم راکھ میں ابھی چنگاری موجود ہے، اس لئے فاروق اے نائیک پھونک پھونک کر قدم اٹھائیں گے، وہ عید کی چھٹیوں میں سوئٹزر لینڈ کا دورہ بھی کر آئے تھے، اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ستمبر کا مہینہ گزر گیا تو سوئس عدالتوں میں منی لانڈرنگ کیس زائد المعیاد ہو جانے کی وجہ سے داخل دفتر ہو جائے گا۔ جو کچھ بھی ہوا فاروق اے نائیک بہتر جانتے ہیں اور وہی بتا سکتے ہیں کہ خط کے بعد کیس کھلے گا یا دفن ہو چکا ہے۔ اس کے لئے اب 25 ستمبر اور اس کے بعد اگلی تاریخ کا انتظار کیجئے۔ اس خوشگوار ماحول کے بعد کچھ اور حیرتیں بھی آپ کی توجہ کی منتظر ہیں۔ پریشانی کی بات نہیں اقتدار کے کھیل میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمارے ذوالفقار مرزا آج کل کہاں ہیں، ان کی خبر نہیں آتی کیا وہ اپنا کردار ادا کر چکے یا فی الحال خاموش ہیں تو ان کو دوبارہ بھی متحرک کیا جا سکتا ہے۔

مزید : تجزیہ