پنجاب حکومت سے 1200 بسیں درآمد کرنے کے حوالے سے متعلقہ دستاویزات طلب

پنجاب حکومت سے 1200 بسیں درآمد کرنے کے حوالے سے متعلقہ دستاویزات طلب

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت سے1200 بسیں درآمد کرنے کے حوالے سے متعلقہ دستاویزات طلب کر لی ہیں۔ عدالت نے ان بسوں کے ٹینڈر کھولنے کے خلاف جاری حکم امتناعی میں یکم اکتوبر تک توسیع بھی کر دی ہے۔ عدالت نے یہ ہدایت بسوں کی درآمد کے خلاف گوجرانوالہ سٹی ٹوﺅرز پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد جاری کی۔ گزشتہ روز ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا یہ کہنا درست نہیں کہ مجوزہ درآمدی بسوں کے معیار کا ڈیزل دستیاب نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ان بسوں میں یوروٹو© ڈیزل استعمال ہوتا ہے جو پاکستان میں ہرجگہ دستیاب ہے اور اس ڈیزل کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کو کالجوں ، یونیورسٹیوں اورعوام کو سفری سہولتوں کی فراہمی کیلئے یہ بسیں درکار ہیں جن کی درآمد کے لئے کچھ کمپنیوں سے معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لئے خط وکتابت بھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی بسوں کی درآمد کے خلاف جاری کیا گیا حکم امتناعی واپس لیا جائے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے حکم امتناعی خارج کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے درخواست دائر کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ ان بسوں موزونیت رپورٹ ، متعقلہ کمپنیوں سے ہونے والی خط و کتابت اور مجوزہ معاہدوں کی نقول آئندہ تاریخ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائیں۔

مزید : صفحہ آخر