امریکی سفیر کی ہلاکت القاعدہ کے راکٹ حملے سے ہوئی

امریکی سفیر کی ہلاکت القاعدہ کے راکٹ حملے سے ہوئی

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) مصری نژاد امریکی نکولا کی مکروہ فلم کے خلاف مشرق وسطیٰ اور دوسرے مقامات پر مسلمانوں نے جو احتجاجی مظاہرے کئے ان کی آڑ میں القاعدہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں نے بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ اوباما انتظامیہ نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ لیبیا میں بن غازی کے قونصلیٹ کے باہر احتجاجی مظاہرے کے دوران عمارت پر جو راکٹ حملہ ہوا تھا، وہ القاعدہ کی دہشت گرد کارروائی تھی جس سے دیگر تین سفارتکاروں سمیت امریکی سفیر ہلاک ہوگئے تھے۔ کیپٹل ہل کے قانون ساز ادارے مسلسل یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس قونصلیٹ کی سیکیورٹی اتنی کمزور کیوں تھی اور امریکی انٹیلی جنس کو لیبیا میں القاعدہ کی سرگرمیوں کے بارے میں ضروری معلومات کیوں حاصل نہیں ہوئیں۔ سینیٹ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران انٹیلی جنس حکام نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مختلف مقامات پر اسرائیلی ٹھکانوں پر حملوں میں ایران کی انتہا پسند ملیشیا ملوث ہے جو امریکی تنصیبات پر بھی حملے کرسکتی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل سنٹر کے ڈائریکٹر میتھیو اولسن نے کمیٹی کے سامنے پہلی مرتبہ یہ سرکاری مو¿قف اختیار کیا ہے کہ ناپسندیدہ فلم کے یوٹیوب پر اپ لوڈ ہونے والے ٹریلر کے خلاف بن غازی میں احتجاجی مظاہرین نے قونصلیٹ پر دھاوا ضرور بولا تھا لیکن امریکی سفارتکاروں کی ہلاکت اس راکٹ کے نتیجے میں ہوئی تھی جو اس موقع پر القاعدہ کے کارکنوں نے فائر کیا تھا۔ امریکی افسر نے بتایا کہ عراق سے امریکی افواج کے نکلنے کے عرصے میں گزشتہ ایک سال سے وہاں مسلح گروہ سرگرم ہوگئے تھے جہاں امریکی تنصیبات کی حفاظت مقامی گارڈز کے ذمے تھی اور اس بات کا امکان ہے کہ بن غازی میں بھی ان گارڈز نے دہشت گردوں کی مدد کی ہو۔ وائٹ ہاﺅس کے ترجمان جے کارنے سے بھی قونصلیٹ کی سیکیورٹی کے بارے میں تندوتیز سوالات کئے گئے کہ وہاں امریکی میرین کیوں تعینات نہیں تھے جس کا انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ یہ حملے اچانک ہوئے۔ ایف بی آئی کے آفیسر کیون پرکنز نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے بیان میں الزام لگایا کہ ایران کے انقلابی گارڈز کا ایک مخصوص دستہ ”قدس فورس“ دہشت گردی میں بہت سرگرم ہے جس نے واشنگٹن میں سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ یہ گروہ حزب اللہ سے بھی مدد لیتا ہے جو امریکہ کے لئے سخت تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے شامی جنرل عدنان سلو کے ٹائمز آف لندن کو ایک انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے ارادہ ظاہر کیا تھا کہ شام کی حکومت اسرائیل کے خلاف راکٹ حملے کرنے کے لئے حزب اللہ کو کیمیائی ہتھیار فراہم کرے گی۔ ایران کی شام کو حمایت کے حوالے سے عراق کے لئے امریکہ کے نامزد سفیر رابرٹ بیکرافٹ نے یہاں کیپٹل ہل میں سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی توجہ احتجاجی مظاہروں کی طرف مبذول ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران شام کودھڑا دھڑ اسلحہ بھیجنے میں مصروف تھے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ شام اس اسلحے کو اپوزیشن کو دبانے کے لئے استعمال کرے گا لیکن عراق نے ایرانی طیاروں کو اپنی سرزمین سے گزرنے کی اجازت کیوں دی ہے۔

مزید : صفحہ اول