مسجد اقصی کے قریب فلسطینیوں کے مکانات گرانے کے نئے نوٹس جاری

مسجد اقصی کے قریب فلسطینیوں کے مکانات گرانے کے نئے نوٹس جاری

مقبوضہ بیت المقدس (اے این این )اسرائیلی حکام نے فلسطین کے شہر مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب سلوان کے مقام پر تین فلسطینی مکانات کے مالکان کو ایک ماہ کے اندر اندر مکانات خود ہی گرانے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینیوں نے اپنے مکانات خود نہ گرائے تو انہیں طاقت کا استعمال کرکے گرادیا جائے گا اور فلسطینیوں کو اس پر جرمانہ بھی کیا جائے گا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصی کے جنوب میں سلوان ٹاو¿ن میں جن مکانات کی مسماری کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا ان کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ مکانات غیر قانونی طورپر تعمیر کیے گئے ہیں۔ لہذا ان کا گرایا جانا ضروری ہے۔ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات اور جائیدادوں کا قانونی ریکارڈ جمع کرنے والے ادارے وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں صہیونی انتظامیہ کی طرف سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے نوٹسز کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت ایک سوچے سمجھے اور منظم منصوبے کے تحت فلسطینیوں سے بیت المقدس کو پاک کرنا چاہتی ہے۔ جن فلسطینیوں کو مکانات خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ وہ گذشتہ پندرہ سے بیس سال کے عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں۔ جہاں انہوں نے مکانات تعمیر کیے ہوئے ہیں وہ ان کی موروثی زمین ہے، جس پرکسی دوسرے فلسطینی کا بھی کوئی دعوی نہیں ہے۔ اسرائیل کا یہ دعوی قطعی طورپر بے بنیاد ہے کہ یہ مکانات غیرقانونی طورپر تعمیر کیے گئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر