عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت رکن سینیٹ کیخلاف کاروائی نہیں ہوسکتی

عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت رکن سینیٹ کیخلاف کاروائی نہیں ہوسکتی
عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت رکن سینیٹ کیخلاف کاروائی نہیں ہوسکتی

  

سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کیس میں 11 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے جبکہ وزیر داخلہ رحمن ملک کی نااہلی کا ریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بھیجا گیا ہے۔ رحمن ملک کے خلاف ریفرنس بھیجنا اس لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے سینیٹ کے اپنے پہلے الیکشن میں جھوٹا بیان حلفی داخل کیا تھا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جھوٹا بیان حلفی دینے پر کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تو فوجداری کارروائی ہے جس کا ذکر آگے آئے گا۔ دوسری کارروائی ایسے ارکان اسمبلی کی مستقبل میں نااہلی سے متعلق ہے۔ سینیٹ کے پہلے الیکشن میں جھوٹا ڈکلیئریشن داخل کرنے کی بناءپر سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں، وہ پارلیمینٹ کی رکنیت کی اہلیت کی شرائط پر پورا نہیں اترتے، اس لئے ان کی نااہلی کا ریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بھجوانا ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62 (ایف) کے تحت رکن پارلیمینٹ کے لئے یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ سمجھدار، پارسا، صادق، امین اور راست باز ہو۔ اسی طرح عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976ءکے سیکشن (1)99 کے تحت بھی رکن اسمبلی لئے صادق اور امین کی شرط رکھی گئی ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ سپریم کورٹ نے رحمن ملک کے خلاف چیئرمین سینیٹ کو نااہلی کا جو ریفرنس بھیجا ہے، وہ آرٹیکل 62 کے تحت نہیں بلکہ عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976ءکے سیکشن (1)99ایف کے تحت کارروائی کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63(پی) کا سہارا لیا ہے جو کہتا ہے کہ وہ شخص بھی پارلیمینٹ یا اسمبلی (جیسی بھی صورت ہو) کی رکنیت کے لئے نااہل ہے جو اس وقت کسی دوسرے نافذ العمل قانون کے تحت نااہل قرار پاتاہو۔ اب عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976ءکی طرف آتے ہیں۔ اس ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس قانون کا اطلاق قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی امیدواروں پر ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں اس ایکٹ کے تحت صرف قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی اہلیت اور نااہلی کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ سینیٹ کے ارکان تو اس ایکٹ کے دائرئہ اختیار سے ہی باہر ہیں۔ عوامی نمائندگی ایکٹ مجربہ 1976 کے سیکشن (1)99 ایف کی عبارت کا وہی مفہوم ہے جو آئین کے آرٹیکل 62(ایف) میں بیان کیا گیا ہے، یعنی جو شخص پارسا، راست باز، صادق اور امین نہ ہو، وہ عوامی نمائندگی کے لئے نااہل ہوگا، لیکن فرق یہ ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ میں یہ شرط واضح طور پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لئے ہے۔ جبکہ آرٹیکل 62(ایف) کی عبارت میں سینیٹ کے ارکان بھی شامل ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کورحمن ملک کے خلاف جو ریفرنس بھیجا گیا ہے، اس میں آرٹیکل 62 (ایف) کے تحت کارروائی کا ذکر نہیں ہے، بلکہ عوامی نمائندگان ایکٹ کے سیکشن کا ذکر ہے۔ رحمن ملک سینیٹر ہیں، ایسی صورت میں ان کے خلاف عوامی نمائندگان ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوگا؟ سینیٹرز کا الیکشن تو سینیٹ ایکٹ مجریہ 1975 کے تحت ہوتا ہے، یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ نے ایسا کیسے کردیا۔ اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے۔ یہ تو ہوسکتا تھا کہ ریفرنس میںواضح کردیا جاتا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن (1)99 ایف کو آئین کے آرٹیکل 62 کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے، لیکن ایسا نہ ہوسکا یوں بظاہر تو مذکورہ حکم کے تحت رحمن ملک کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی، اس کی تصحیح کے لئے سپریم کورٹ کو وضاحتی فیصلہ صادر کرنا پڑسکتا ہے۔علاوہ ازیں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بظاہر رحمن ملک کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976 کے سیکشن 82 کے تحت فوجداری کارروائی بھی نہیں ہوسکتی۔

اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے دیگر نکات کی طرف آتے ہیں۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے دوہری شہریت کے حامل قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 11 ارکان کو نااہل قرار دے کر ان کی رکنیت کالعدم کردی اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔ الیکشن کمیشن کو ان ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے ان ارکان اسمبلی سے وہ تمام رقوم بھی دو ہفتے کے اندر اندر واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کروانے کا حکم دیا جو انہوں نے تنخواہوں، ٹی اے / ڈی اے اور دیگر تمام مراعات کی مد میں حاصل کی تھیں۔ سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر داخلہ کی نااہلی کا ریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بھجوا دیا ہے جبکہ ان کے خلاف نااہل ہونے والے دیگر ارکان اسمبلی کی طرح فوجداری کارروائی کے لئے الیکشن کمیشن کو حکم جاری کیا گیا ہے۔ رحمن ملک سے بھی وہ ساری رقم واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے جو انہوں نے 2008ءسے 11 جولائی 2012ءکے دوران بطور سینیٹر اور وفاقی وزیر تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد میں حاصل کی تھی۔ یہ وہ دور ہے جس میں انہوں نے برطانوی شہریت چھوڑے بغیر سینیٹر اور وزیر داخلہ کے عہدے کے مزے لوٹے۔ عدالت نے ان کے اس دور کو بھی غیر آئینی قرار دیا ہے۔ 11 جولائی 2012ءکو رحمن ملک نے سینیٹر کے عہدہ سے استعفیٰ دیا تھا اور دوبارہ سینیٹ کا الیکشن لڑ کر یہ عہدے ایک مرتبہ پھر حاصل کرلئے تھے۔ اس سے قبل 29 مئی 2012ءمیں انہوں نے برطانوی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرلیا تھا۔

سپریم کورٹ نے رحمن ملک اور دیگر 11 ارکان اسمبلی کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976ءکے سیکشن 82 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 193، 196، 197، 198 اور 199 کے تحت فوجداری کارروائی عمل میں لانے کا حکم دیا ہے۔ یہ دفعات جھوٹی شہادت، دیدہ دانستہ جھوٹی گواہی، شہادت کے درجہ کا حامل جھوٹا ڈیکلیریشن، انتخابی بدعنوانی، جھوٹی دستاویز یا گواہی تیار کرنا اور جھوٹ کو سچ سمجھ کر گواہی دینے کے جرائم سے متعلق ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دفعہ کے تحت 3 سال تک قید کی سزا مقرر ہے۔ یوں رحمن ملک اور دیگر ارکان اسمبلی میں سے ہر ایک کو مجموعی طور پر 18 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم اور اس کی آبزرویشنز کی روشنی میں چلنے والے مقدمات میں متعلقہ ٹرائل کورٹس کا کردار کیا ہوگا؟ کیا سپریم کورٹ کے اخذ کردہ نتیجہ سے انحراف کرنا ممکن ہوگا؟ کیا دستاویزی شہادتوں کو نظر انداز کیا جاسکے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کے لئے ٹرائل کورٹس کے فیصلوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے 1ارکان اسمبلی کا انتخاب تو خود سپریم کورٹ نے کالعدم کردیا ہے جبکہ رحمن ملک کی نااہلی کا ریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بھیج دیا گیا ہے۔ کیا یہ امتیازی اقدام نہیں ہے؟ اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے دوہری شہریت کا معاملہ تھا۔ آئین کے آرٹیکل (1)63 سی کے تحت دوہری شہریت کا حامل شخص پارلیمینٹ یا صوبائی اسمبلی کا رکن نہیں بن سکتا۔ رحمن ملک کا پہلا دور جو 2008ءسے 11 جولائی 2012ءتک ہے، کو سپریم کورٹ نے دیگر 11 ارکان کے الیکشن کی طرح کالعدم کردیا ہے۔ الیکشن میں حصہ لینے والا ہر امیدوار کاغذات نامزدگی کے ساتھ ایک بیان حلفی داخل کرتا ہے جس میں وہ اعلان کرتا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کے تحت صوبائی اسمبلی اور پارلیمینٹ کے ارکان کی اہلیت کی شرائط پوری کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص جھوٹا بیان حلفی داخل کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لینے کا اہل نہیں تھا۔ اسی نکتے کی بنیاد پر 11 ارکان اسمبلی اور رحمن کے پہلے دور کو کالعدم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیںہوا

مزید : تجزیہ