یوم عشق رسول ﷺ پر ”محمود و ایاز“ ایک صف میں، ناتجربہ کار پولیس اہلکار ساتھیوں پر شیلنگ کرتے رہے

یوم عشق رسول ﷺ پر ”محمود و ایاز“ ایک صف میں، ناتجربہ کار پولیس اہلکار ...
یوم عشق رسول ﷺ پر ”محمود و ایاز“ ایک صف میں، ناتجربہ کار پولیس اہلکار ساتھیوں پر شیلنگ کرتے رہے

  

لاہور ( نواز طاہر سے) گستاخ فلم کے خلاف یوم عشقِ رسول پر لاہور کی تاریخ میں طویل عرصے بعد ”محمود وایاز“ ایک ہو گئے اور لاہور بھر میں کسی اختلاف کے بغیر مکمل ہڑتال کی گئی۔ مساجد میں اس فلم کی مذمت کیساتھ ساتھ قوم کو متحد اور پرامن رہنے کی اپیل کی گئی اور سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کا پیغام دیا گیا جس دوران مسلم، غیر مسلم کی تمیز نہ رہی اور مسلکی و فرقہ وارانہ مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوا لیکن مال روڈ، ڈیورنڈ روڈ، گڑھی شاہو، ایجرٹن روڈ، ایمپریس روڈ اور پریس کلب چوک میدانِ جنگ بن گیا جہاں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں سے آنسو گیس چلانے والی تین گنیں اور تین شیل باکس بھی چھین لئے ۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک فوٹو گرافر اعجاز کا سر پھٹ گیا جبکہ ایک شخص کی ٹانگ ٹوٹ گئی دوسرے نے کنٹینر سے چھلانگ لگاتے ہوئے گھٹنا تڑوا لیا، متعدد افراد اور اہلکار پتھراﺅ اور لاٹھی چارج سے معمولی زخمی ہو گئے۔ حکومتی اعلان کے مطابق پہلی مرتبہ کسی تاجر اور سیاسی تنظیم نے اختلاف نہ کیا اور مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی جمعہ القادسیہ، گول باغ، مال روڈ اور امریکی قونصل خانے کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔ سب سے زیادہ سیکیورٹی امریکی قونصل خانے کی طرف جانے والے راستوں پر رہی اور عوام کو مال روڈ اور اسمبلی کی جانب جانے سے روکا گیا لیکن مسجدِ شہداءمیں نمازِ جمعہ کے بعد جماعت اسلامی، مسلم لیگ، تحریکِ انصاف، پیپلز پارٹی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے امریکی ملعونوں اور قیادت کیخلاف نعرہ بازی کی اور ان کے پتلے جلائے، مال روڈ سمیت پورے شہر میں نبی کی شان پر کسی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عزم کی تجدید کی گئی۔ مال روڈ پر رکاوٹوں کے ساتھ جماعت اسلامی پنجاب کے امیر ڈاکٹر وسیم اختر ابھی تقریر کر رہے تھے کہ انڈس ہوٹل والی گلی سے ایک نوجوان نے صوبائی اور مرکزی حکومت کو گالی دیتے ہوئے پولیس پر پتھراﺅ کا آغاز کیا جس کے ساتھ ہی مال روڈ پر پتھروں کی بارش ہو گئی۔ پولیس اہلکار بھی جوابی پتھراﺅ اور شیلنگ کرتے رہے اس دوران ڈاکٹر وسیم اختر کارکنوں کو پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے شیلنگ کی زد میں آکر نیم بے ہوش ہوگئے جبکہ لاﺅڈ سپیکر پر کارکنوں کو پر امن رہنے کی مسلسل اپیل کی گئی۔ اسی دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں لیکن ایک مرحلے پر ایک نوجوان نے لاﺅڈ سپیکر پر اعلان کیا کہ امریکی مدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کو مار بھگاﺅ جس کے ساتھ ہی پولیس اہلکار اور میڈیا کارکنوں پر اندھا دھند پتھراﺅ کیا گیا ۔

 پولیس کی ایک مختصر ٹولی پر پتھراﺅ کے دوران پتھرختم ہونے پر مظاہرین دکانوں کے باہر نصب ماربل اکھاڑ اکھاڑ کر مارتے رہے جبکہ پولیس کے پاس آنسو گیس کے شیل ختم ہو گئے اسی دوران ایک بڑا جلوس فیصل چوک عبور کرتے ہوئے اس ’میدان جنگ‘ تک پہنچ گیا تو پولیس پسپا اور مظاہرین نے کنٹینرز گرادئیے اور سڑک کھول لی۔ دوسری جانب مظاہرین کی بڑی تعداد رکاوٹیں توڑتی ہوئی ایجرٹن روڈ پر ایل ڈی اے پلازا کے سامنے جمع ہو گئی جہاں کنٹینرز کھڑے کر کے امریکی قونصل خانے کا راستہ بند کیا گیا تھا ۔ یہاں چار گھنٹے سے زائد ’جنگ ‘ کے دوران پولیس کے پاس آنسو گیس کم پڑ گئی جبکہ مظاہرین نے پولیس سے آنسو گیس کے شیل فائر کرنے والی تین گنیں اور تین شیل باکس چھین لئے ۔ مظاہرین نے شیلنگ کی پروا کئے بغیر کنٹینرز گرادئیے اور درجنوں بار امریکی قونصل خانے کی طرف پیش قدمی کی لیکن پولیس اور رینجرز کی فائرنگ کے باعث مغرب کے بعد پسپائی اختیار کرلی اس دوران مظاہرین نے یوریشن انسپیکشن نامی کمپنی کے دفتر میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔ اس سے پہلے پولیس اور مظاہرین میں ڈیورنڈ روڈ اور گڑھی شاہو میں بھی پتھروں اور آنسو گیس کے گولوں سے ’ جنگ ‘ ہوئی جبکہ گورنر ہاﺅس کے باہر بھی ایسی ہی ہلکی پھلکی جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران پشتو بولنے والوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی،جو مظاہرین کو اکسانے کیساتھ ساتھ ٹیلی فون سروس معطل ہونے کے باوجود موبائل فون استعمال کرتے اور’رپورٹنگ کرتے نظر آئے۔ مال روڈ اور امریکی قونصل خانے کے باہر پولیس کا کوئی سینئر افسر نظر نہیں آیا جبکہ وہاں تعینات اہلکاروں کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ بھی مظفر گڑھ، لیہ اور دوسرے اضلاع سے لائے گئے تھے جنہیں آنسو گیس کے استعمال کی بھی پوری ٹریننگ نہیں تھی اور نہ ہی پولیس اہلکار وائرلیس سسٹم استعمال کرتے دکھائی دئیے جس کی وجہ سے یہ اہلکار مظاہرین کے ساتھ ساتھ پولیس کی نفری پر بھی شیلنگ کرتے رہے جس کے باعث سیکیورٹی پر مامور اہلکار مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے بجائے زیادہ وقت آنسو گیس کے اثرات سے بچتے رہے ۔ اس کے برعکس امریکی قونصل خانے کے باہر تعینات پولیس کی نفری ٹارگٹ پر شیلنگ کرتی رہی لیکن اسے بھی ملحقہ عمارتوں پر کھڑے مظاہرین پتھراﺅ سے بے بس کرتے رہے ۔

مزید : لاہور