وہ دونوں شہادت سے پہلے روزہ افطار کرنے کی تیاریوں میں تھے

وہ دونوں شہادت سے پہلے روزہ افطار کرنے کی تیاریوں میں تھے

24 اگست بروز جمعة المبارک انجینئر احسن عزیزشہید اور میری بیٹی کی غائبانہ نماز جنازہ منصورہ لاہور میں شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک صاحب نے پڑھائی، جبکہ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے انجینئر احسن عزیز کے جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کے حوالے سے عظیم کردار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی شہادت کی قبولیت اور درجات کی بلندی کی دعا کی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈرون حملے رکوانے کے لئے اقوام متحدہ یا انسانی حقوق کے کسی ادارے سے امید باندھنا خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ۔ حکمرانوں کے اندر اگر ایمانی غیرت اور جرا¿ت کی کوئی رمق باقی ہے تو پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق فوج کو ڈرون طیارے گرانے کا حکم دیں ۔ ہم کب تک اپنے معصوم بچوں اور خواتین کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے ۔ امریکہ کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق ان ڈرون حملوں میں 98 فیصد بے گناہ لوگ لقمہءاجل بنتے ہیں، لیکن غیرت و حمیت سے عاری حکمران امریکی خوف سے دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ لڑنے پر بھی تیار نہیں ہیں ۔ سید منور حسن نے کہاکہ مدت سے اہل پاکستان امریکی ڈرون حملوں کے خلاف سراپا احتجا ج ہیں، جن میں ہزاروں معصوم شہری شہید ہوچکے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی گئی ہے ۔ 57 مسلم ممالک کی حکومتوں کی بے حسی اور فوجوں کی بے شرمی اور ڈھٹائی سے تنگ آ کر ہر جگہ دشمن سے نمٹنے کے لئے نہتے لوگ اپنی جانوں کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ امریکی مظالم اور اقوام متحدہ کے دوہر ے معیار نے دنیا کے امن کو تباہ کر دیاہے ۔ کشمیر ، فلسطین اور افغانستان میں عام مسلمان دشمن سے نبردآزما ہیں، جبکہ مسلم حکومتیں مسلمانوں کے تحفظ کے بجائے دشمن کا ساتھ دے رہی ہیں۔

24 اگست بروز جمعة المبارک انجینئر احسن عزیز اور میری بیٹی کی غائبانہ نماز جنازہ اسلام آباد میں حزب المجاہدین کے امیر اور متحد ہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے پڑھائی ۔نماز جنازہ میں دوسروں کے علاوہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنما جناب مولانا غلام نبی نوشہری ، رفاہ انٹر نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر انیس احمد ، سابق ممبر قومی اسمبلی جناب صابر اعوان ، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جناب راجہ فاضل تبسم ، جماعت اسلامی آزادکشمیر ضلع باغ کے امیر جناب نثار احمد شاہق ، جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما جناب زبیر فاروق خان اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے رہنما محمود احمد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حزب المجاہدین کے امیر سید صلاح الدین نے فرمایا کہ انجینئر احسن عزیز شہید اور ان کی اہلیہ نے سا لمیت پاکستان اور دفاع پاکستان کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے بھارت، امریکہ اور اسرائیل سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی تشخص کو بچانے کی کوشش کی ہے ،کیونکہ مشرق میں بھارت اور مغرب میں نیٹو پاکستان کا گھیرا¶ کر چکا ہے ۔ دفاع پاکستان کے لئے شہداءکی اس عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کمانڈر احسن عزیز شہید جہاد کشمیر سے لے کر جہاد افغانستان تک مجاہدین کے قائد کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ اس جہاد میں پروفیسر الیف الدین ترابی صاحب کی صاحبزادی بھی پوری طرح شریک رہیں۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالی کمانڈر احسن عزیز اور ان کی اہلیہ کی شہادت کو قبول فرمائے ۔

اس موقع پر مَیں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے یہ سعادت اور فخر کی بات ہے کہ میری بیٹی اور داماد نے عظیم مقصد کے لئے اپنی جانیں قربان کیں، مَیں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ مَیں دو شہیدوں کا باپ ہوں ۔ انجینئر احسن عزیز اور میری بیٹی کامیاب ہوگئے۔ وہ جس راستے پر گامزن تھے، اس کی منزل شہادت تھی اور اللہ رب العزت نے انہیں ان کی منزل مراد سے ہمکنار کر دیا۔

اس موقع پر میری ایک نظم بعنوان "اے شہیدان وفا ہو تم پہ اللہ کاسلام" بھی پڑھی گئی جو اس مضمون کے آخر میں دی جارہی ہے، 24 اگست بروز جمعة المبارک کو ہی ان کی غائبانہ نماز جنازہ راولاکوٹ آزادکشمیر میں جماعت اسلامی آزادکشمیر کے سابق امیر سردار اعجاز افضل نے پڑھائی اور جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کے سلسلے میں ان کے عظیم رول کو خراج عقیدت پیش کیا۔

24 اگست کو ہی ان کی نماز جنازہ باغ آزاد کشمیر میں مولانا خلیل الرحمن صاحب نے پڑھائی اور اس موقع پر اپنے خطاب میں جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کے حوالے سے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ 26 اگست کو ان کی غائبانہ نماز جنازہ پشاور میں بھی ادا کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر جناب سراج الحق اور امیر خیبر پختونخوا جناب پروفیسر ابراہیم نے جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کے حوالے سے ان کے کردار کے لئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

28 اگست بروز منگل امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن صاحب اور نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم ڈاکٹر محمد کمال اسلام آباد میں میرے غریب خانے پر تشریف لائے۔ انہوں نے میری بیٹی اور داماد انجینئر احسن عزیز شہید کی شہادت کے حوالے سے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی بیٹی عذرا بتول اور آپ کے داماد انجینئر احسن عزیز نے ایک عظیم مقصد کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں اور بلاشبہ ان کی شہادت ہم سب کے لئے باعث سعادت ہے ۔نیز اس دن وہ اسی مقصد کے لئے میرپور میں انجینئر احسن عزیز شہید کے والد کمانڈر عبدالعزیز صاحب کے گھر بھی تشریف لے گئے اور وہاں اپنے خطاب میں دونوں شہیدوں کی خراج عقیدت پیش کیا۔

اور اب آخر میں وہ نظم پیش کی جارہی ہے جو مَیں نے احسن عزیز شہید بیٹے اور عذرا بتول شہید بیٹی کی یاد میں کہی ہے اور جسے 24 اگست کو اسلام آباد میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پر پیش کیا گیا تھا۔

مزید : کالم