امریکہ چاہے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے

امریکہ چاہے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے

نائن الیون کے حوالے سے گزشتہ کالم میں مختصر طور پر کچھ سوالات اُجاگر کئے گئے تھے جو اس واقعہ کے روز اول سے اٹھتے رہے ہیںاور اب اُن کی ایک طویل فہرست مرتب ہو چکی ہے ۔ اس کالم میں قارئین کی معلومات کے لئے نائن الیون کے حوالے سے پیغمبر اسلام کی شان میں غلیظ گستاخی کے باہمی تعلق کی وضاحت کروں گا اور واضح کروں گا کہ اگر امریکہ اس مسئلے کو حل کرنا چاہے ، تو کس طرح آسانی سے حل نکل سکتا ہے۔ دی اینٹل ہب(The intel hub.com) کے ڈین اینڈرسن نے ایک طویل تجزیئے میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا امریکی سفیر سے سخت لب و لہجے میں یہ کہنا کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے کوئی واضح اعلان کیوں نہیں کر رہا؟ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی”سرخ لکیر“ کا تعین کیوں نہیں کرتا؟ جس کو عبور کرنے پر ایران کے خلاف مسلح کارروائی کی جائے۔ اب ایک بار پھر نیتن یاہو نے اوباما ایڈمنسٹریشن پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران پر بم باری کے لئے اسرائیل کو سبز جھنڈی دکھانے میں کمزوری کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔

 اس بیان سے مشکل میں آ کر وائٹ ہاﺅس نے ایک بیان جاری کیا: ”کھلے عام اس قسم کی گفتگو اس مسئلے میں معاون نہیں ہو گی“۔ اس کے ساتھ ہی اشارہ دیا گیا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم سے صدر باراک اوباما ملاقات نہیں کریں گے اور اسی روز یعنی11ستمبر کو اسلام کے خلاف بننے والی فلم کو منظر عام پر لایاگیا۔ فلم کے پروڈیوسر ملعون نکولا سبیلی نکولا نے پہلے پہل دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیل بدر یہودی ہے اور اس کے مصر کے قبطی عیسائیوں سے روابط ہیں۔ فلم میں جس شخص نے کنسلٹنٹ ہونے کا دعویٰ کیا، وہ سٹیون کلائین ہے ، جو سابق فوجی ہے اور فوج میں بھی انتہائی دائیں بازو کے متشدد مذہبی عیسائیوں کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے ۔ اسقاط حمل کے خلاف مہم میں بھی وہ آگے آگے رہا شاید یہ بات پہلے بھی کہیں لکھ چکا ہوں کہ امریکی فوج میں متشدد عیسائی سفید فام بالادستی کا عقیدہ رکھنے والے چھائے ہوئے ہیں اور انہیں ری پبلکن جیسی سیاسی جماعتوں کی بھی کھلم کھلا حمایت حاصل ہے ۔ امریکی فوج میں غیر سفید نسلوںکے خلاف یا اسلام ، قرآن اور مسلمانوں کی بے حرمتی کے واقعات امریکہ کے سرکاری موقف کے مطابق محض غلطی سے نہیں ہوتے، بلکہ ان کی ذہنیت کے عکاس ہوتے ہیں۔

 فلم کے کرتا دھرتا قرآن پاک جلانے کی جسارت کرنے والے نام نہاد پادری ملعون ٹیری جونز ہیں، جن کے بارے میں ڈین اینڈرسن کا کہنا ہے کہ فلوریڈا کے ایک مقامی اخبار ”ڈیلی بیل“ کے مطابق موصوف کا تعلق اطالوی پی ٹو فری میسن تنظیم اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے ہے ۔ ڈین اینڈرسن کا کہنا ہے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے اور عالم اسلام میں اوباما کے خلاف فضا پیدا کر کے صدر اوباما کو انتخابات میں نقصان پہنچانا مقصود ہے ۔ اینڈرسن کے مطابق ٹیری جونز اور نکولا وغیرہ سبھی ”موساد“ کے مہرے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح محمد عطا تھا، جس پر نائن الیون کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے جہاز ہٹ کرانے کا الزام تھا اور جس کا پاسپورٹ عجیب معجزاتی طور پر آگ سے محفوظ رہ کر امریکی تفتیشی اداروں کو صحیح سالم مل گیا تھا۔ قطع نظر اس کے کہ محمد عطا نائن الیون میں ملوث تھا یا نہیں یا اسے ایک مہرے کی طرح استعمال کیا گیا، جیسے کئی دوسرے مہرے آج بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

 ڈینئل ہوپ سیکر نے ایک کتاب لکھی تھی ....Wel Come to Terror land.... جس میں وہ لکھتا ہے کہ عطا نے1992ء میں ہیمبرگ میں حکومت امریکہ کے لئے کام کرنا شروع کیا تھا۔ بعد میں اسے ریاست الابا ماکے میکس ویل ایئر بیس منٹگمری میں بہت اعلیٰ درجے(Elite) کی ٹریننگ میں شامل کر لیا گیا۔ عطا اور اس کے ساتھ جن دیگر نو ہائی جیکروں کے نام آئے۔ انہوں نے امریکی فوجی مراکز میں تربیت حاصل کی۔ عطا کے پاس چھ ممالک سے پائلٹ کا لائسنس تھا، اس لئے یہ بھی تعجب انگیز بات ہے کہ اسے کسی فلائٹ سکول میں جانے کی کیا ضرورت تھی؟ عطا اچھا مسلمان یا بنیاد پرست بھی ہر گز نہیں تھا۔ وہ عبرانی بولتا تھا، خوب شراب پیتا تھا اور کوکین کا نشہ بھی کرتا تھا۔ نائین الیون سے قبل اس کی ملاقات کئی جرمنوں اور سوئس شہریوں سے بھی ہوئی اور ای میل کے ذیعے مشرق وسطیٰ پر بحث میں بھی حصہ لیتا رہا، جن میں کئی لوگ وہ بھی تھے جو امریکی محکمہ دفاع کے ٹھیکیداروں کے ملازم تھے۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کے عالمی باہمی تبادلوں کے ایک ایسے پروگرام کا حصہ تھا، جو امریکی کانگریس اور جرمن پارلیمنٹ کے تعاون سے چلائے جاتے ہیں اور جن کا ڈیوڈ راک فیلر اور ہنری کسنجر سے خصوصی تعلق ہے .... (ہو سکتا ہے یہ ادارے ان پروگراموں کے لئے فنڈز دیتے ہوں).... اس گروپ کے خرچے پر عطا کو استنبول، قاہرہ اور دمشق بھیجا گیا، جہاں اس نے خود کو بنیاد پرست مسلمان ظاہر کر کے معلومات جمع کیں۔

پنسلوانیا سے ری پبلکن کانگرس مین کرٹ ویلڈن نے اپنی یادداشتوں میں2005ءمیں لکھا ہے کہ کس طرح اس نے نائن الیون کے سانحہ کے دو ہفتے بعد صدر بش کی حکومت کو ایک چارٹ پیش کیا، جس میں دکھایا گیا تھا کہ عطا اور دیگر ہائی جیکر پینٹاگان کے ایک خصوصی پروگرام کے تحت زیر نگرانی تھے۔ اس پروگرام کے تحت اندر کے لوگ جو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اُن پر نظر رکھی جاتی ہے ۔ اس پروگرام کوAble Danger programکہا جاتا ہے ۔ ستمبر2006ءمیں پینٹاگان کے انسپکٹر جنرل نے جو بیان جاری کیا، اس میں اس چارٹ میں عطا کے شامل ہونے کا انکار کیا گیا تھا، جس پر مسٹر ویلڈن نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔ فلوریڈا میں جس فلائٹ سکول میں ہائی جیکروں نے تربیت حاصل کی، وہ ہف مین ایوی ایشن کا ہے ، جو بل کلنٹن کے دوست ویلی ہلیئرڈ اور روڈی ڈیکر کی مشترکہ ملکیت ہے ، جو نائن الیون کے سانحہ سے ڈیڑھ دو ماہ قبل عطا سے ملے تھے۔ ہف مین کے ایک ملازم نے کتاب کے مصنف کو بتایا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ یہ (ہائی جیکر اور عطا) بہت خاص لوگ ہیں، انہیں حکومت کی طرف سے خاص تحفظ حاصل ہے اور یہ کسی خاص مقصد کے لئے ملک میں آئے ہوئے ہیں گویا کوئی بہت بڑی بزنس ڈیل ہے ۔

وینس ایئر پورٹ پر ہف مین کے ہینگر CARIBE AIRکے لئے استعمال ہوتے ہیں جو سی آئی اے کی فرنٹ ایئر لائن ہے ، جس کے بیس جہاز منشیات لانے لے جانے کے چکر میں ضبط ہوئے تھے، جب سی آئی اے اس منشیات فروشی سے نکارا گوا کے کونٹرا باغیوں کی مدد کر رہی تھی۔ ہوپ سیکر کا خیال ہے کہ اسCaribe Air کا امریکہ کے معاشی سکینڈل میں ملوث معروف زمانہ انرون سے بھی کوئی تعلق ہے ۔ سرمایہ کاری کی اس کمپنی نے ٹیکس سے بچنے کے لئے کرپشن کی آڑ لی اور اس کی متعدد ذیلی کمپنیوں وغیرہ کے لئے سابق Caribe کا لفظ بطور لاحقہ استعمال ہوتا رہا ہے ۔

ایک جرمن اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں جہاں محمد عطا اور مروان الشہنی رہائش پذیر تھے، اس کے قریب موساد کے ایجنٹوں نے ایک اپارٹمنٹ لیا ہوا تھا۔ وہ رات دن عطا ، الشہنی اور فلائٹ سکول پر نظر رکھتے تھے، لیکن ”موساد“ نے امریکہ کو حملوںکے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ نیول انٹیلی جنس کے سابق افسر ولیم کوپر، جس نے انکشافات سے بھرپور ایک کتاب ....Behold a pale house.... لکھی، ایک پُراسرار حادثے میں دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گیا۔ فینکس میں ایک ریڈیو شو میں اُس نے اکتوبر 2001ءمیں بہت واضح طور پر کہا کہ نائن الیون میں سی آئی اے، برطانوی ایم16اور اسرائیلی موساد ملوث تھیں۔ اُس نے باقاعدہ موساد کے ایجنٹ جوسک ہیڈس کا نام لیا، جس نے عطا کے ہینڈلر کے طور پر کام کیا اور عطا کو بے وقوف بنا کر استعمال کیا۔ جس وقت یہ ریڈیو شو جاری تھا ،اس کا انٹرنیٹ اور کیبل منقطع کر دیئے گئے۔ اسی ماہ ولیم کوپر کو ماری کوپا کاﺅنٹی کے ڈپٹیز(پولیس افسران) نے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جو رات گئے اس کے گھر داخل ہوئے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ولیم کوپر نے گرفتاری کے خلاف مزاحمت کی تھی۔

جب بش ایڈمنسٹریشن نے عرب، اسلامی دہشت گردی کا چرچا شروع کر دیا اور نائن الیون کے ہائی جیکروںکی تصاویر جاری کیں، تو بہت سی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے موساد پر جو کام کیا تھا، اسے ترک کر دیا، حالانکہ اس وقت تک موساد کے متعدد ایجنٹ پکڑے جا چکے تھے۔13مئی2002ءکو فاکس نیوز میں اس کی ایک مفصل خبر تھی (یہ اب بھی یو ٹیوب پر موجود ہے ).... یاد رہے کہ اس وقت کئی یہودی پکڑے گئے تھے، جن سے مشکوک چیزیں برآمد ہوئی تھیں۔ ہوبوکن نیو جرسی میں اپنی چھت پر چڑھ کر جلتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تصویریں بنانے والوں کی گرفتاری کی خبر ہر کسی نے سنی، لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ جون2002ءمیں اے بی سی نیوز نے خبر دی کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب اپارٹمنٹ میں رہنے والی ایک عورت نے گواہی دی تھی کہ اس نے اپنی آنکھوں سے اسرائیلی یہودیوں کو عین جہاز بلڈنگ سے ٹکرانے کی ویڈیو بناتے اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔

ڈین اینڈرسن کا کہنا ہے کہ یہ سب اسرائیلی یہودی سازش ہے ، ٹیری جونز اور ایوینجلیکل، عیسائی انتہا پسند اس سازش کے آلہ کار ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح محمد عطا اور اسامہ بن لادن کو سازش کا شکار بنایا گیا۔ اینڈرسن کا خیال ہے کہ اگر امریکی عوام اس حقیقت کو سمجھ لیں اور امریکی حکومت اس سازش کی تہہ تک پہنچ پائے تو اس قسم کے نفرت انگیز واقعات کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ میرا خیال ہے یہ بھی ایک اچھی اپروچ ہے ، کیونکہ جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو ، اس کا علاج ممکن نہیں ہے ۔ امریکہ چاہے تو اِس سلسلے میں اس قسم کی قانون سازی کر سکتا ہے، جیسی قانون سازی بعض ممالک میں یہودیوں کے ہٹلر کے ہاتھوں قتل عام ”ہولو کاسٹ“ کو تسلیم نہ کرنے کو قابل سزا قرار دیتی ہے ۔ یہ کہنا کہ اس سے امریکہ کے اظہار آزادی ¿ رائے کے آئینی حق پر زد پڑے گی، کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اکثر اس حق پر قدغن لگی ہے ۔ اس میں یہ اصول بھی آفاقی طور پر استعمال ہو سکتا ہے کہ میری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے ، جہاں سے کسی کے جذبات مجروح ہونے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ میرے ہاتھ کو پھیلانے کی آزادی اگلے کی ناک تک محدودہے، جب کسی کی ناک میرے ہاتھ کی زد میں آتی ہے ، تو میرے ہاتھ کی آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔

 سابق میئر نیو یارک روڈی جولیانی نے اسی لئے اس فنکار کی مذمت کی تھی، جس نے حضرت مریم ؑ کا مجسمہ ہاتھی کے گوبر سے بنایا تھا۔ اس کی آزادی ¿ اظہار کو قابل مذمت ہی قرار نہیں دیا تھا، اس عجائب گھرکو فنڈز دینا بھی بند کر دیئے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے بنایا گیا ”پیٹریاٹ ایکٹ“ بہت سے آئینی حقوق سلب کرتا ہے ، اوباما نے اسے ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ایک اور قانون NDAA کے ذریعے اسے مزید سخت کر دیا گیا ہے اور یہ سرا سر آئینی بنیادی حقوق کے خلاف ہے ، تاہم اسے ایک ناگزیر ضرورت کے تحت تسلیم کر لیا گیاہے۔ اسی طرح اگر کسی بھی مذہب اور مذہب کے رہنماﺅں کی توہین کو آزادی ¿ اظہار کے مطلق حق سے خارج کر دیا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر کوئی فرق پڑے گا تو محض اتنا کہ آئندہ بن غازی جیسے واقعات نہیں ہوں گے اور امریکہ کے خلاف عالم اسلام میں نفرت کم ہو جائے گی۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)     ٭

مزید : کالم