ینگ ڈاکٹرز سڑکیں بند نہ کریں

ینگ ڈاکٹرز سڑکیں بند نہ کریں

ینگ ڈاکٹروں نے سروس سٹرکچر کا مسئلہ حل نہ ہونے پر بدھ کے روز احتجاج کرتے ہوئے لاہور میں جیل روڈ پر ٹریفک بند کر دی‘ تین سو سے زائد ینگ ڈاکٹرز نعرے بازی کرتے رہے۔ احتجاجی مظاہرے کے باعث ٹریفک کئی گھنٹے تک جام ہوگئی۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اکتوبر میں قومی کنونشن طلب کرنے کا اعلان بھی کیا۔

  ینگ ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کے حق میں طویل عرصے سے ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اگرچہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ہڑتال اور احتجاج سے روک رکھا ہے لیکن ینگ ڈاکٹر اپنے احتجاجی پروگرام پر عمل پیرا ہےں‘ ایسے لگتا ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل ٹریفک بند کرنے اور لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرنے میں ہی پوشیدہ ہے۔ ڈاکٹر پڑھا لکھا اور ذہین طبقہ ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے مطالبات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی حل ہوں گے‘ روز روز کے مظاہروں اور ٹریفک کا مسئلہ پیدا کرنے سے یہ سلسلہ حل ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا‘ ڈاکٹروں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انہیں سروس سٹرکچر ان لوگوں نے بنا کر نہیں دینا جن کو وہ ٹریفک بند کرکے مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں‘ لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹروں کو ہڑتال سے روک رکھا ہے لیکن مظاہرے کے وقت وہ عملاً ہڑتال پر ہی ہوتے ہیں اور اس دوران مریضوں کو نہیں دیکھتے اس لئے یہ ضروری ہے کہ ڈاکٹروں سے لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی پابندی کرائی جائے‘ تاہم ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کو بھی حیلوں بہانوں سے مو¿خر نہیں کرنا چاہیے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہیے ہمیں افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ڈاکٹر ٹریفک بند کرکے اور سڑکیں بلاک کرکے بالغ نظری کا ثبوت نہیں دے رہے۔ لاہور کے شہری پہلے ہی ٹریفک کی بدنظمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں ٹریفک کے اژدہام میں ایمبولینسیں بھی پھنسی ہوئی دیکھی گئی ہیں‘ ڈاکٹر اگر اپنے مسائل کا حل صرف احتجاج میں ہی پوشیدہ سمجھتے ہیں تو بہتر ہے وہ احتجاج ہسپتال کے صحن میں کرلیا کریں تاکہ خلق خدا پریشان نہ ہو اور ڈاکٹر اس کی بددعاﺅں سے بھی بچے رہیں۔     ٭

مزید : اداریہ