آہ جواناں

آہ جواناں
آہ جواناں
کیپشن:   1 سورس:   

  

پچھلے دنوںایک پرائیویٹ کالج کے چند طلبا سے ایک تفصیلی نشست ہوئی۔یہ جان کر حیرت ہوئی کہ 16سے 18برس تک کی عمر کے یہ نوجوان ملکی معیشت سے لیکر سیاسی و بحرانی کیفیت ، ملکی مسائل اور موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔یہ ایسے نوجوان تھے ۔ جو ملک کا درد جانتے اور سمجھتے ہی نہیں بلکہ اس کے حل کے لیے بھی بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔لیکن افسوس کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔کیونکہ وہ نوجوان ہونے کے باوجود بچے اور نابالغ تھے۔اور ووٹ ڈالنے سے لیکر منقولہ و غیر منقولہ جائیداد رکھنے تک انہیںکوئی بھی حق حاصل نہ تھا۔۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون انہیں بالغ اور میچور قرار دے ، تو وہ ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔18سال سے کم عمر نوجوانوں کی اس گفتگو نے میرے لیے سوچ کا نیا دروازہ کھول دیا۔ جوں جوں غور کرتا گیا، توں توںان نوجوانوں کے موقف کا حامی بنتا گیا۔کہ یہ نوجوان بالغ توہیں لیکن قانون کا انہیں بچہ تصور کرناکیا ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہے؟

اسلامی نقطہ نظر سے ہر وہ لڑکی جو ماں اور ہر وہ لڑکا جو باپ بننے کے قابل ہو بالغ کہلاتاہے۔ بلوغت اور میچورٹی انسانی جسم اور ذہن کی ایک ہی جیسی دو الگ الگ حالتیں ہیں۔ایک ریسرچ کے مطابق 1860میں دنیا میں بلوغت کی اوسط عمرساڑھے 16برس تھی۔جو 1920میںساڑھے 14سال ، 1950میں13سال ،1980میںساڑھے 12سال اور 2010میں محض ساڑھے 10سال رہ گئی ہے۔

آج انٹرنیٹ ، کیبل ، پورن فلموں اور جگہ جگہ باآسانی دستیاب فحش مواد، اس پر ملک کی گرم آب ہوا، مصالحے دار ، ثقیل ہضم غذاﺅں اور جنک فوڈ جیسے عوامل ملکر دنیا بھر کی طرح پاکستانی بچوں کو بھی وقت سے پہلے بالغ کررہے ہیں۔لیکن ہمارا قانون یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔

 پاکستانی قانون ہر بالغ مرد و عورت کو جوان قرار نہیں دیتا بلکہ 18برس کی عمر کو بلوغت کی عمر مقر رکرتا ہے۔حدود آرڈیننس 1979کے سیکشن 2(a)اور جوینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس 2000کے سیکشن 2(b)کے مطابق 18سال سے کم عمر افراد بچوںکے زمرے میں آتے ہیں۔چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ1929کا سیکشن1(a)کہتا ہے کہ 18سال سے کم لڑکی اور21سال سے کم عمر لڑکے کی شادی نہیں ہوسکتی ۔ خلاف ورزی کی صورت 15دن سے لیکر 3ماہ تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ یہ کیسا قانون ہے جس نے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔اورہم2014کے معاشرے کو 1929کے قانون سے قابو کررہے ہیں۔جہاںایک طرف پاکستانی نوجوان میجارٹی ایج کو لیکر گھٹن کاشکارہے ۔اور فرسٹریشن کو دور کرنے کے لیے پانچ سے 10سال کی معصوم بچیوں کو نشانہ بنا رہاہے تودوسری طر ف ہم ہی ایسے نوجوانوں کو معاشرے کا مفید شہری بننے سے روک دیتے ہیں۔ یہ اپنا برا بھلا سمجھتے ہیں لیکن ہم انہیں بچہ قرار دیکر ووٹ کاسٹ کرنے نہیں دیتے ۔یہ باپ بننے کے قابل ہوتے ہیں لیکن ہم انہیں بچہ قرار دیکرشادی نہیں کرنے دیتے ۔ یہ ہرطرح کا بزنس چلاسکتے ہیں لیکن انہیں بچہ قرار دیکر کاروبار کی اجازت نہیں دی جاتی۔یہ یتیم ہوجائیں تو 18برس سے قبل انہیں جائیداد نہیں ملتی۔یہ آزادانہ طورپر جائیداد خرید سکتے ہیں، نہ گاڑی....!

آخر یہ جائیں تو جائیں کہاں ؟

ایک غیر ملکی تحقیقی رپورٹ کے مطابق 15سے 20سال تک کے نوجوانوں میں کرپشن کی طرف مائل ہونے کی شرح سب سے کم صرف7فیصد ہوتی ہے۔ اس عمر میں نوجوان سچے ذہنوں کے ساتھ محنت، لگن اور ایمانداری پر یقین رکھتے ہیں۔ جبکہ 21سے 30سال کے دوران کرپشن کی طرف مائل ہونے والوں کی شرح 15فیصد ، 31سے 40سال کی عمر میںیہ شرح 35فیصد ہے۔ 41سے 65سال کے دوران یہ شرح 45فیصد ہے۔

آج برازیل ، آسٹریا، مالٹا، ارجنٹائن،جرمنی (جزوی) بولیویا، نکارا گوا، ازبکستان، کرغستان اورگوئٹے مالا میں 16برس کے نوجوانوں کو ووٹ کا حق دیدیا گیا ہے۔ امریکہ کی 19ریاستوں،کیوبا،ایتھوپیا، مشرقی تیموراور سوڈان میں 17برس کی عمر میں نوجوانوں کوووٹ کا حق حاصل ہے۔ برطانیہ ، بھارت ،سوئٹزلینڈ ، نیوزی لینڈ اوروینزویلہ میں ووٹر کی عمر 16سال کرنے کے لیے تحاریک چل رہی ہیں۔

لیکن ہمیں تواس سے کچھ غرض ہی نہیں۔ اور نہ ہی ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔

ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو11مئی کے عام انتخابات میں سب سے زیادہ متحرک نوجوان ووٹر رہے۔الیکشن کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق 2013کی ووٹنگ لسٹ میں ووٹروں کی مجموعی تعداد8کروڑ 55لاکھ میں سے ایک کروڑ 70لاکھ ووٹروں کی عمر18سے 25سال تھی۔31سے 35سال اور36سے 40تک کی عمرکے ووٹروں کی تعداد ایک ، ایک کروڑ تھی۔ اس کے بعد عمر کے تناسب سے یہ تعداد کم ہوتی گئی۔اورعام انتخابات میں نوجوان ووٹروں کا ٹرن آوٹ 60فیصد سے بھی زیادہ تھا۔یہ وہ ووٹر تھے جنہوں نے ہرلالچ اورخوف سے آزاد ہوکر مرضی سے ووٹ کاسٹ کیا۔وہ ووٹر جو ملکی تقدیر کو بدلنا چاہتے تھے۔جو ملک کی باگ ڈور کرپشن سے پاک، مضبوط ، باصلاحیت اور ایماندار ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ایسے میں16سے 18سال تک کی عمر کے لگ بھگ ڈیڑھ سے دو کروڑ نوجوانوں کو ووٹ کا حق دیا جاتا تو آج ملک کا منظرہی کچھ اور ہوتا۔ان نوجوانوں کو ووٹ سے محروم رکھناصرف انہی سے ہی زیادتی نہیںبلکہ یہ ارض پاک اور معاشرے کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔کیونکہ ہم 16سے 18سال کے ان بالغ نوجوانوں کوبچے کی بجائے نوجوان مان کر معاشرے سے بہت سے برائیوں کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔

مزید :

کالم -