تلاش مخلص قیادت کی!

تلاش مخلص قیادت کی!
تلاش مخلص قیادت کی!
کیپشن: 1

  

پاکستان آج تاریخ کے الم ناک موڑ پر کھڑا ہے۔ بم دھماکے، چوری چکاری، ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں، صوبہ بلوچستان، سندھ اورخیبرپختونخوا میں لسانیت کی اٹھتی ہوئی لہر۔ پنجابی، سندھی، پختون اور بلوچ کی تفریق۔ منافقوں، مفاد پرستوں کے ٹولے یا ٹولوں نے آج بنیادِ پاکستان کو ہلا کر رکھا ہوا ہے جبکہ چار قوتوں کا گٹھ جوڑ اور ان کے مذموم ارادے کھل کر قوم کے سامنے آ گئے ہیں۔ ان قوتوں میں جاگیردار، بیوروکریسی ، فوج کے چند طالع آزما جرنیل اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والی شخصیات شامل ہیں جنہوں نے ذاتی مفاد کی خاطر کبھی سیاسی عمل کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔

ایوب خاں کے دورِ حکومت تک ”ون یونٹ“ کے قیام سے مختلف زبانیں بولنے والے کسی بھی فرد یا افراد نے پنجابی، سندھی، پختون یا بلوچ ہونے کا نعرہ نہیں لگایا۔ لیکن جیسے ہی ون یونٹ ٹوٹا، سابقہ مغربی پاکستان میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نام سے چار صوبے بن گئے اور یہاں بسنے والے لوگ خود کو پنجابی، سندھی، پٹھان اور بلوچ کہنے لگے تو لفظ پاکستانی ثانوی حیثیت اختیار کر گیا، جس کا بھرپور فائدہ مفاد پرستوں اور ایسی ملکی اور غیر ملکی قوتوں نے اٹھایا جنہیںصرف اپنے مفادات سے غرض تھی اور ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ چاروں قوتوں نے طویل عرصہ تک پاکستان پر حکمرانی کر کے اس کے قیام کے اصل مقاصد کی نفی کی ہے اور انہی قوتوں نے ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری نظام کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں۔ ملکی تاریخ کے پہلے انتخابات قریب پہنچنے سے قبل یعنی 1958ءمیں جنرل ایوب خان نے مارشل لاءلگا دیا، اسی طرح جمہوریت کی راہ روکی گئی اور جمہوری نظام کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ عوام حق رائے دہی سے محروم رہ گئے اور وہ چار قوتیں گٹھ جوڑ کے ذریعے پاکستان پر حکمرانی کرنے لگیں، جو اس کا حق نہ رکھتی تھیں۔

فوجی ڈکٹیٹر کا جاگیرداروں اور بیوروکریسی نے اپنے مفادات کی خاطر بھرپور ساتھ دیا اور ان کا اقتدار طویل تر ہوتا چلا گیا۔ اس طرح پاکستانی عوام ایک خوشگوار تبدیلی سے محروم رہ گئے۔ فوجی ڈکٹیٹر شپ کے نتیجے میں کچھ سیاست دانوں کو جیل نصیب ہوئی اور کچھ سیاست سے دور یا کنارہ کش ہو گئے جن میں ایک معتبر نام خواجہ ناظم الدین کا بھی ہے۔ 1965ءمیں جنرل ایوب خان نے بحیثیت صدر بلدیاتی الیکشن کرائے، اس وقت مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) ایک ہی تھا۔ جہاں سے 80ہزار بی ڈی ممبر منتخب ہوئے۔ ان 80ہزار بی ڈی ممبران نے صدر پاکستان کا انتخاب کرنا تھا۔ صدر کی سیٹ کے لیے ان کا مقابلہ براہ راست محترمہ فاطمہ جناح سے تھا، لیکن بیورو کریسی کے گھناﺅنے کردار نے محترمہ فاطمہ جناح کو کامیاب نہ ہونے دیا اور جنرل ایوب خان ایک بار پھر صدر پاکستان بن گئے۔

1970ءمیںانتخابات ہوئے۔ مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ جیت گئیں۔ ان انتخابات کے بعد اُمید پیدا ہوئی کہ شاید حالات بہتر ہو جائیں، لیکن چند ہی برسوں میں بیوروکریسی، جاگیردارانہ سوچ رکھنے والوں ، فوج میں چند طالع آزماجرنیلوں اور غیر ملکی دشمن عناصر نے اس جمہوری نظام کو ختم کر دیا۔ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے بعد ایک بار پھر اُمید دم توڑ گئی اور ملک و قوم کے حالات بدستور وہی رہے جس کا وہ ماضی میں سامنا کرتے آئے تھے۔ضیاءالحق کے دور میں ایک ایسا عمل شروع ہو گیا جس نے ٹرائیکا کو تقویت دی۔ یعنی جاگیردار، بیوروکریٹس اور اعلیٰ فوجی افسر ایک دوسرے کے ساتھ اپنے بچوں کی شادیاں کرنے لگے۔ اسی طرح ان کے مابین رشتے اور بھی مضبوط ہو گئے۔

آخری مرتبہ یعنی 2009ءمیں بہت بڑی تبدیلی کے آثار نظر آئے، جب میاں نواز شریف نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک کی کال دی۔ اگرچہ اس سے قبل مشرف دور حکومت میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت بن چکی تھی، اوراس نے بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر آزاد عدلیہ کی بحالی کی تحریک میںبھرپور حصہ لیا تھاجس سے قوم میں امید پیدا ہو گئی تھی کہ سیاسی جماعتوں نے ماضی کی کوتاہیوں، لغزشوں اور غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہو گا اور اب وہ ہرگز وعدہ فراموشی نہیں کریں گی لیکن قوم کا یہ خواب خواب ہی رہا اور جس خوشگوار تبدیلی کے عمل کو وہ ایک جمہوری حکومت کے آنے کے باعث بدلتا محسوس کرنے لگے تھے ، اور اس کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ امید پھر دم توڑگئی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے باقاعدہ عملی سیاست کا آغاز کر دیا ہے۔ آج کل وہ پنجاب کا دورہ سیلاب کے متاثرین کے لیے کر رہے ہیں۔ علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری عمران خان کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر14اگست سے دھرنا دئیے ہوئے ہیں۔ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے بھی باقاعدہ عملی سیاست کا آغاز کر دیا ہے لیکن ملک کو بحرانوں سے بچانے کی صلاحیت کسی میں نظر نہیں آتی۔

ملک بم دھماکوں، خودکش حملوں کی زد میں ہے۔ مہنگائی کے طوفان نے ہر فرد کو متاثر کیا ہے۔ رہی سہی کسر سیلاب نے پنجاب میں پوری کر دی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ در بدر ہو گئے۔ معاشرے کا ہر طبقہ آج پریشان نظر آتا ہے۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کہاں جا رہے ہیں، ہماری منزل کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب ہر فرد کو تلاش کرنا ہو گا۔ملک میں لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ہر مُحبّ وطن پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ ہمیں قائداعظم محمدعلی جناح جیسی لیڈرشپ چاہیے تاکہ ملک اور قوم اس سنگین بحران سے نکل سکے جس کا آج اسے سامنا ہے۔

مزید :

کالم -