قوم کو آگے بڑھنے کا راستہ دیجئے

قوم کو آگے بڑھنے کا راستہ دیجئے
قوم کو آگے بڑھنے کا راستہ دیجئے
کیپشن: 1

  

اسے میری رجائیت کہیں یا کچھ اور مَیں رونما ہونے والے ہر واقعہ کو فروا کی طرف بڑھنے کا عمل سمجھتا ہوں۔ میرے اس نظری تناظر میں دھرنے بھی ایک بہت اہم پیش رفت ہیں، جنہوں نے سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔مالی حساب سو دوزیاں سے قطع نظر ان دھرنوں کی وجہ سے کئی نئے دروا ہوئے ہیں اور کئی ایسے خلاءسامنے آئے ہیں، جنہیں پُر کرنے کی ضرورت ہے۔ایک لمحے کے لئے اگر ہم یہ فرض کریں کہ 14اگست 2014ءکو کچھ بھی نہیں ہوا تو ہمیں لگے گا کہ ہمارا سب کچھ ایک جمود کا شکار ہے اور ہم کو لہو کے بیل بنے ہوئے ہیں۔قوموں کی زندگی میں اس قسم کے تجربے ہوتے رہنے چاہئیں، تاکہ ان کے اندر زندگی کی رمق برقرار رہے اور معاملات زنگ آلود نہ ہو پائیں۔اگر برطانیہ سکاٹ لینڈ کے قضیئے کو نمٹانے کے لئے ریفرنڈم نہ کراتا تو ملک پھر بھی چلتا رہتا، مگر شاید اس میں وہ تحرک اور اعتماد پیدا نہ ہوتا، جو اس ریفرنڈم کے بعد پیدا ہوا ہے۔اقبال نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ قوموں کی زندگی میں جمود ان کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ چیز ہوتی ہے، جب وہ کہتے ہیں:

آئینِ نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

تو اس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے۔ ہمارے اکابرین کو اب یہ سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کیارکاوٹیں ہیں کہ جن کی وجہ سے ہمارا سفر ایک دائرے میں جاری ہے۔وہ کیا معاملات ہیں کہ جنہیں نظر انداز کرنے پر ہماری روزمرہ زندگی مسائل و جمود کا شکار نظر آتی ہے۔وہ کون سے سیاسی وسماجی ایشوز ہیں کہ جن کے باعث ہم دنیا کی برادری میں ایک مستحکم اور ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے ابھر نہیں پا رہے۔وہ کیا حقائق ہیں جن سے نظریں چرا کر ہم نے ملک کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔آخر کیاوجہ ہے کہ ہر طرف سے بے چینی کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ مطالبات بھی سامنے آتے ہیں۔ علاقائی و سیاسی معاملات کو آخر ہم کیوں حل نہیں کر پا رہے۔کوئی دن دھرنوں کو ملک دشمنی سمجھے تو سمجھے ،مَیں نہیں سمجھتا میرے نزدیک یہ عمل ضروری تھا۔یہ دھرنے درحقیقت پریشر ککر کا وہ والوو ہیں، جس نے پریشر کو ریلیز کیا ہے۔یہ اگر نہ ہوتے تو سب کچھ اندر ہی اندر لاوے کی طرح پکتا رہتا۔کم از کم ان کی وجہ سے اتنا تو ہوا ہے کہ بہت سے معاملات اور مسائل ہمارے سامنے آ گئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر سنجیدہ توجہ دی جائے اور انہیں حل کرنے کے لئے قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر اپنی اپنی جگہ پر قربانی دی جائے۔

میرے رجائی نقطہ ءنظر میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔اگرچہ اس پر بہت تنقید کی جارہی ہے کہ کروڑوں روپے صرف کرکے صرف ایک مذمت کی قرار داد منظور کی گئی۔یقینا اس مشترکہ اجلاس میں اور بہت کچھ ہو سکتا تھا۔عوام کے لئے بہت سے قوانین بنائے جا سکتے تھے، جن ایشوز نے اس وقت قوم کو ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے، ان پر قانون سازی کی جا سکتی تھی، سب سے بڑھ کر یہ کہ دھرنے والوں کو بُرا بھلا کہنے کی بجائے انہیں یہ باور کرایا جا سکتا تھا کہ ان کے کون سے مطالبات آئینی اور زمینی حقائق کے مطابق نہیں اور کون سے خلافِ آئین ہیں، جو آئینی مطالبات تھے اور جن کا تعلق عوامی فلاح و بہبود سے بنتا تھا،ان کے بارے میں قوانین بنانے کی خوشخبری ہی سنا دی جاتی تو حالات میں موجود تناﺅ بڑی حد تک کم ہو جاتا، تاہم اس کے باوجود میں اس مشترکہ اجلاس کو قومی نقطہ ءنظر سے ایک اہم پیش رفت سمجھتا ہوں۔اس کے ذریعے کم از کم یہ پیغام تو دیا گیا کہ سیاسی قوتیں جمہوریت اور آئین کے لئے اکٹھی ہیں۔انہوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا، وہ ماضی میں مفقود نظر آتا ہے۔اس اجلاس میں پہلی بار سیاسی قوتیں ایک طاقت بن کر سامنے آئی ہیں۔یہ خوش آئند امر ضرور ہے، لیکن سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے کہ اس قدر اتحاد و یکجہتی کے باوجود انہیں عوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی قوتوں نے تو اپنے تمام اختلافات بھلا کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن پارلیمنٹ کی عوام کے ساتھ یکجہتی فی الوقت کمزور نظر آتی ہے، اگر یہی پارلیمنٹ عوام کی مکمل حمایت بھی رکھتی تو شاید اس سے بڑا استحکام پاکستان کی تاریخ میں کبھی پیدا نہ ہوتا۔

دھرنے دو ایشوز پر شروع ہوئے۔ ایک انتخابی دھاندلی اور دوسرا ناانصافی .... یہ دونوں ایشوز ہماری جمہوریت اور معاشرت سے بڑا گہرا تعلق رکھتے ہیں۔دھرنے کامیاب ہوں یا نہ ہوں، ان دونوں ایشوز کو حل کرنا اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔کوئی احمق ہی یہ تصور کر سکتاہے کہ ملک میں جو انتخابی نظام موجود ہے، وہ آئندہ انتخابات میں بھی برقرار رہے گا۔اب اس میں انقلابی تبدیلیاں لانا پڑیں گی، جو دھاندلی کے خلاہیں انہیں پُر کرنا پڑے گا۔ایک شفاف انتخابی نظام اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر اب انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔یہ جمہوریت کی پہلی خشت مبارک ہے جو درست رکھ دی جائے تو عالیشان عمارت تعمیر ہو سکتی ہے۔امید افزاءبات یہ ہے کہ اس نکتے پر تمام سیاسی قوتیں اب متفق ہیں، دھرنے والوں کے اس مطالبے کو متفقہ طور پر پذیرائی مل چکی ہے اور انتخابی اصلاحات سے کوئی بھی انکاری نہیں ہے۔ جہاں تک عدل و انصاف کو یقینی بنانے کا تعلق ہے تو پاکستان عوامی تحریک نے اس ایشو کو اپنے انقلاب مارچ کی بنیاد بنا رکھا ہے۔سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے بعد انہیں چونکہ انصاف نہیں ملا، اس لئے وہ اس مطالبے کو لے کر آگے بڑھے۔ مَیں سمجھتا ہوں اس حوالے سے بھی بہت سی کامیابیاں ملی ہیں۔ معاشرے میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا ہے کہ مظلوموں کو انصاف نہیں ملتا اور اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا نظام انصاف ہے، جس میں پولیس اور عدلیہ کا کردار سب سے اہم ہے۔اس تحریک کے بعد اب عدلیہ کے فیصلے بدلے ہوئے حالات کی نشاندہی کررہے ہیں۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ سمیت متعدد وزراءپر قتل کی دفعات کے تحت دو مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ایک زمانے میں تو یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے، عدالتوں نے سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف جس طرح فوری فیصلے دیئے ہیں، وہ بھی اس امر کا اظہار ہیں کہ اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظریہ قابل عمل نہیں رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں آگے کیسے بڑھا جائے۔بظاہر ایک ڈیڈ لاک کی صورت ہے اور دھرنے والے اپنے بے شمار مقاصد حاصل ہونے کے باوجود اس بات پر قائم ہیں کہ جب تک اس حکومتی نظام کی بساط نہیں لپیٹی جاتی، وہ نہیں جائیں گے۔دوسری طرف حکومت ان کے اس مطالبے کو بے وقت کی راگنی قرار دے چکی ہے اور وزیراعظم محمد نوازشریف نے تو واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ چند ہزار افراد کے کہنے پر وہ عوام کے دیئے ہوئے مینڈیٹ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔مَیں سمجھتا ہوں پچھلے 38دنوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔اب دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی طاقت کا بھی علم ہو گیا ہے اور اصل مطالبات کا بھی۔اب نئے سرے سے بدلی ہوئی حقیقتوں کے مطابق ایک دوسرے کا نقطہ ءنظر سننے کی ضرورت ہے۔لچک کا مظاہرہ کئے بغیربات نہیں بنے گی۔حکومت کو اقدامات اٹھانا ہوں گے اور دھرنے والوں کو بھی کچھ مطالبات سے دستبردار ہونا پڑے گا۔عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری خود کہہ چکے ہیں کہ ان 35دنوں میں انہوں نے قوم کو بیدار کر دیا ہے یہ واقعی درست ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملات کو الجھاﺅ سے سلجھاﺅ کی طرف لے جایا جائے۔قوم دیکھ رہی ہے کہ فتح یاب کون ہے اور شکست کسے ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ قوم آگے بڑھنا چاہتی ہے، اس لئے اسے آگے بڑھنے کا راستہ دینا وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضا بھی۔

مزید :

کالم -