شریعت میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں

شریعت میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں
شریعت میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں
کیپشن: 1

  

سعودی عرب کی اعلیٰ علماءکونسل نے اعلان کیا ہے کہ ہر قسم کی دہشت گردی قابل مذمت اور حرام عمل ہے، جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔دہشت گردی عظیم گمراہی ہے ،جس کے مرتکب کو سخت ترین سزا دے کر ایک مثال بنایا جانا چاہیے۔ علماءکونسل کے سینئر ارکان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امن وامان میں خلل ڈالنا، انسانوں اور سرکاری و نجی املاک پر حملہ کرنا، انہیں دھماکوں یا کسی بھی طریقے سے تباہ کرنا ،جہازوں کا اغوا یا انہیں نقصان پہنچانا بھی دہشت گردی کے زمرے میں شامل ہے ،جسے شریعت نے تخریب کاری اور قابل سزا جرم قرار دیا ہے، جبکہ شورش زدہ ممالک میں لڑائی کے لئے لوگوں کو اکسانا بھی فساد کی طرف دعوت دینے کے برابر ہے۔

 مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز ال الشیخ نے چند بیرونی عناصر کی جانب سے حج کے دوران مظاہرے کرنے کے اعلان کو شیطانی عمل اور امت مسلمہ سے خیانت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج اسلام کا اہم رکن ہے ،جسے کسی سیاسی مقصد یا پارٹی پروپیگنڈے کے لئے ہرگز استعمال نہیں کیا جاناچاہیے، ا س سے دیگر مسلمانوں کی عبادت میں خلل پڑے گا۔ دہشت گردی عالمی اور علاقائی خفیہ اداروں کی پیداوار ہے۔ اگرچہ پوری دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ،مگر مسلمان ممالک کو ایک سازش کے تحت دہشت گردی کی بھٹی میں جھونکا جارہا ہے۔ دہشت گردی کا ناسور حقیقی معنوں میں عالم اسلام کے لئے نہایت تباہ کن ہے ،اس نے اسلام کی اعتدال پسندانہ ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسی دہشت گردی نے مسلمانوں کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ غربت، فاقہ کشی، مایوسی اور تباہی و بربادی کی تمام شکلیں دہشت گردی کی پیداوار ہیں ،جبکہ دہشت گردی عالمی اور علاقائی خفیہ اداروں کی دین ہے۔ یہی خفیہ ادارے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرتے اور انہیں اسلحہ وجنگی سازو سامان مہیا کرتے ہیں۔

 دہشت گردوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ مسلمان معاشروں کو کافر قرار دیتے اور معصوم لوگوں کے قتل کو مباح سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے فتنے نام نہاد عالمی امن معاہدوں اور امن کے ٹھیکیدار ملکوں کے پیدا کردہ ہیں، اس لئے کہا جاتا ہے کہ دنیا میں دو قسم کی دہشت گردی پائی جاتی ہے۔ ایک دہشت گردی ،جس کا ارتکاب مختلف گروپ اور تنظیمیں کرتی ہیں ،جبکہ دوسری دہشت گردی وہ ہے، جو حکومتوں اور ممالک کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ظالم سے بر سر پیکار ہیں ،ان کی مدد نہیں کی جا رہی ۔ فلسطین اور شام کے مسلمانوں کو مظالم سے نجات دلانے کے لئے عالمی برادری کا کردار نہایت شرمناک ہے۔ فلسطین کے عوام اپنی آزادی اور بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ،دنیا انہیں بھی دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔

اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے ،جس نے ارض فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وہاں کے بچوں، عورتوں اور ہر سطح کے شہریوں کو نہایت بے رحمی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ فلسطین میں ہمارے بھائی اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی جدو جہد آزادی برحق ہے، جبکہ ان کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کے حملے منظم ریاستی دہشت گردی ہیں۔ اسرائیلی ریاست اور ان عالمی دہشت گرد گروپوں کے مابین کوئی فرق نہیں جو معصوم شہریوں کو قتل کرنا، پوری کی پوری آبادیوں کو نیست ونابود کرنا اور ہر خشک و تر چیز کو تباہ کرنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔

 دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہے ،جس سے معاشرے میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑے مقا صد کے لئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔

 یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے، لہٰذا جہاں دہشت گردی ہو گی، وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا، وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی،کیونکہ اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہیں۔ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آنحضرت دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔

 کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔ دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورت حال کو خراب کرکے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں، تاکہ حکومت کو دباو¿ میں لا کرحکومت سے اپنے مطالبات منوا لیں۔کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے ،اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں، جبکہ طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعے اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔

 برصغیرسمیت پ±وری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلا،جبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔ ایک م±سلم معاشرے اور م±لک میں ایک م±سلمان دوسرے م±سلمان کی جان کا د±شمن۔م±سلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔ چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔ اللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائے تو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔

مزید :

کالم -