بلاول کی عبوری آمد!

بلاول کی عبوری آمد!
بلاول کی عبوری آمد!
کیپشن: 1

  

بلاول بھٹو زرداری سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے پنجاب کا ایک ہنگامی چکر لگاگیا۔اس مختصر دورے میں بھی اس کے متعلق بہت کچھ کہا جانے لگا اور نمبر بنانے والے بھی میدان میں نکل آئے جو ان کی آمد کو اپنا کارنامہ بتا رہے ہیں، بہرحال بلاول نے چنیوٹ کے علاقے میں گاڑی خراب ہو جانے کے بعد سیلابی پانی میں داخل ہو کر یہ ظاہر کر دیا کہ اس میں اگر والدہ کی شباہت ہے تو نانا کا انداز بھی ہے۔ بلاول بھٹوکی ٹی وی کوریج دیکھ کر ہمیں بہت کچھ یاد آ گیا، اس کے کوٹ اور قمیض کے کف کھلے رکھنے کا انداز اور استقبال کرنے والوں کے نعروں کا جواب چرایا ہوا نظر آیا اور یہ چوری غالباً اس نے نانا کی ویڈیو دیکھ کر کی البتہ جب وہ پارٹی عہدیداروں سے بات کررہے،بعض حضرات سے کوئی سوال یا وضاحت چاہتے تھے تو بالکل محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے انداز ہی میں یہ عمل ہو رہا تھا، آپ کہہ لیں کہ اس بلاول بھٹو زرداری کو سیاست کے اکھاڑے میں اتارنے سے قبل یہ سب دکھایا اور بتایا گیا، تاہم ہماری اطلاع کے مطابق تو یہ سب خود محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کیا جو بچوں کی تعلیم اور تربیت کے حوالے سے ایک بہت ہی فکر مند ماں تھیں، محترمہ کی اپنی زبان ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کے لئے باقاعدہ وقت نکالتی ہیں اور ان کا ہوم ورک اپنی نگرانی میں کراتی تھیں، جبکہ بلاول کو دوبئی میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران مختلف پارٹی رہنماﺅں سے ملاتی بھی تھیں، یقینا اس کے بعد وہ ان حضرات کی صفات بابرکات سے بھی آگاہ کرتی ہوں گی اور بلاول کو یہ سب یاد بھی ہوگا۔

ستمبر کا آخری عشرہ شروع ہو گیا ہے۔اکتوبر آنے والا ہے اور یہ مہینہ محترمہ کی گھن گرج کے ساتھ آمد، سانحہ کارساز اور پھر لیاقت باغ میں ان کی شہادت پر منتج ہونے والا ہے، بلاول نے 18اکتوبر کو سانحہ کار ساز کی یاد منانے کا اعلان کر دیا ہے، جب کراچی میں محترمہ کی آمد پر خودکش حملے کرکے ان کی جان لینے کی کوشش کی گئی اور اس واردات میں دو ڈھائی سو کارکن جاں بحق ہوگئے۔اس اعلان سے ہم تو یہی اندازہ لگا سکتے یا کہہ سکتے ہیں کہ شاید سیاست میں ان کی باقاعدہ ”لانچنگ“ اسی روز ہوگی اور پنجاب کا یہ دورہ فروعی اور بعض حضرات کی منت سماجت کا پھل تھا جو بار بار تاریخیں دیتے اور ہر بارغلط ثابت ہو جاتی۔بلاول نہ آ پاتے، بہرحال یہ ”لانچنگ“ ہے تو غم اور دکھ والے دن کا انتخاب کرکے شاید بہتری کیا جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی تو تاریخ ہی غمناک اور دکھ والی ہے، ابھی سانحہ کارساز کی یاد میں تقریب ختم ہو گی کہ محترمہ کی شہادت والے دن کا انتظار شروع ہو جائے گا۔

لاہور میں دو مختلف تقریبات (عشائیہ+ناشتہ) پر جو سینئر حضرات پارٹی کے نوجوان سرپرست اعلیٰ سے ملے اور ان کی باتیں سنیں وہ کہتے ہیں کہ بلاول وقت سے پہلے ہی بلوغت کا معیار پار کر چکے ہیں اور مسائل پر سنجیدگی سے بات کرتے ہیں۔تنظیم نو کے بعد جب پارٹی کے اجلاس ہوں گے جن میں وہ خود موجود ہوئے تو بہت سے عہدیدار حضرات کو ان کے سوالات اور استفسارات کے جواب دیتے ہوئے پسینہ ضرور آئے گا کہ ان کو بہت کچھ پڑھایا اور سمجھایا گیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی بات کرتے وقت ان کی والدہ اور نانا کی یاد لازم و ملزوم ہے کہ وہ انہی کے سیاسی جانشین بن کر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نکلے ہیں، حالانکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق سیاست سے ہٹ کر کام کرنے کی بہت کوشش کی گئی اس کمبل نے بہرحال ان کو نہیں چھوڑا اور اب وہ بھی سنجیدگی سے پارٹی معاملات کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔

بلاول جب چنیوٹ گئے تو ان کی وہاں کی مصروفیات ٹی وی پر دیکھنے والوں کو بے اختیار محترمہ ہی یاد آ رہی تھی کہ جب بزرگ خواتین نے اسے پیار کیا تو ان کی نگاہوں میں بے نظیر کی تصویر تھی، ان خواتین کو بتایا گیا کہ بے نظیر بھٹو کا بیٹا آیا ہے تو وہ پنجاب کی قدیم تر روائت کے مطابق امداد کو بھول کر بے اختیار آ گے بڑھیں اور بلاول کو پیار دیا اور چوم لیا جیسے ان کی اپنی بیٹی یا بہن کا بیٹا آیا ہو، بلاول نے بھی اس خلوص اور پیار کا جواب دیا لتھڑے ہاتھوں سے پیار دینے والی ان بزرگ خواتین کو یہی کہا کہ وہ بے نظیر کا ہی بیٹا ہے۔اس نے اگر سیلابی پانی میں سے گزرنے کی فکر یا پرواہ نہ کی تو مٹی سے لتھڑے پیار والے ہاتھوں سے کیسے دوری پیدا کرتا جو صرف اور صرف خلوص کا اظہار تھے، یہاں تو بعض رہنما پورا ہاتھ نہیں ملاتے اور چار انگلیاں ٹکرا کر واپس لے آتے اور پھر ہاتھ کو صابن سے دھوتے ہیں۔

ناشتے کی ویڈیو دیکھ کر یہ بھی اطمینان ہوتا ہے کہ اس موقع پر اگرچہ بعض حضرات نہیں تھے تو اکثر سینئر رہنما موجود تھے جن کو تھوڑا عرصہ قبل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، ایسے ہی ایک سینٹر نے اطمینان کا اظہار کیا اور یقین ظاہر کیا کہ بلاول میں ایسی خوبیاں ہیں کہ وہ پارٹی کو آگے لے کر چل سکتے ہیں ان صاحب کا تاثر تھا کہ وہ (بلاول) سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور بعض استفسارات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ”اولڈ از گولڈ“ والے فارمولے پر بھی عمل کے خواہاں ہیں، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ جو حضرات اس وقت تنظیمی عہدیدار اور ذمہ داریاں نبھانے پر مامور ہیں ان کی فہرست کیسی ہے۔کیا وہ بھی بلاول کے اس جذبے کو ویسی ہی نظر سے دیکھتے ہیں جو پارٹی سربراہ کی ہے اور کیا بلاول والدہ کے ملائے اور بتائے ہوئے حضرات کی حاضری کو یقینی بنا لیں گے کیونکہ کافی لوگوں سے صرف نظر بھی کیا گیا ہے۔

پیپلزپارٹی وفاقی اور بڑی پارٹی ہے جو ملک پر تین ادوار برسراقتدار رہی لیکن آج اس کی پوزیشن یہ ہے کہ ایوان نمائندگان کے حوالے سے سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔باقی تینوں صوبوں میں تو تنظیم کی حالت بھی پتلی ہے اور یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔پھر سوال ہے کہ کیا بلاول چیلنج قبول کر چکے اور عوامی خواہشات پر پورا بھی اتر پائیں گے؟

مزید :

کالم -