عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

  

 تاریخ کے پرچہ میں سلطنت مغلیہ کے زوال کی کہانی اکثر پوچھی جاتی ہے اور آخر میں زوال کا فوری سبب ۔ اسی طرح اگر آپ مجھ سے آج کے کالم کی ہنگامی وجہ پوچھیں تو کہوں گا کہ ایک سرکاری کالج میں تدریسی معاون کا عہدہ حاصل کرنے میں میری ایک عزیزہ کی ناکامی ۔ بظاہر یہ ایسی خبر تو نہیں جس کے ٹکر چلا دئے جائیں ۔ ہاں ، حیرانی اس پر ہے کہ انٹرویو میں امیدوار کی خوشگوار کارکردگی کے باوجود سیلکشن بورڈ کے ہاتھ اس مارکنگ اسکیم نے باندھ رکھے تھے جس نے مطلوبہ تعلیمی شرط کے مقابلے میں اعلی تر ڈگریوں کا پلڑا بھاری کر دیا ۔ اس عارضی ملازمت کے لئے ایم فل اور طلائی تمغوں کی قطاریں دیکھ کر شرمندگی بھی ہوئی کہ آج انٹرویو لینے والے جب مجھ سمیت خود گریڈ سترہ کے لیکچرار بنے تو انگریزی کے مضمون میں تھرڈ ڈویژن والوں کو بھی ’ٹردے پھردے‘ نوکری مل جایا کرتی تھی۔

 یہاں یہ دلیل دی جائے گی کہ چلو ، اس زمانے میں پڑھے لکھوں کا تناسب کم ہو گا اور پرانی اصطلاح میں چودہ یا سولہ جماعتیں پڑھے ہوئے تو بہر حال نہ ہونے کے برابر ہوں گے ۔ بات تو صحیح ہے ، مگر امیدواروں کے چناﺅ کا کوئی نہ کوئی پیمانہ تو ہر دور میں ہوا ہی کرتا ہے ۔ ’بجنگ آمد‘ کے مصنف کرنل محمد خاں نے جنگ عظیم کے دوران اپنے کمیشن کا حال بتاتے ہوئے ایک بزرگ نما بریگیڈئر اور دو تین ادھیڑ عمر کرنیلوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے انٹرویو کے دوران ان کے خاندانی پس منظر اور ماضی میں فوج کے ساتھ امکانی رشتہ کے بارے جاننا چاہا ۔ اس وقت تک وہ بلا ابھی نازل نہیں ہوئی تھی جسے آئی ایس ایس بی کہتے ہیں ۔ اس لئے مصنف نے اپنے شجرہءنسب کو کھینچ تان کر اتنے صوبیدار چچاﺅں اور کپتان چچا زادوں کا احاطہ کر لیا کہ بورڈ کو مطمئن کر کے بھی کچھ باقی بچ گئے ۔

 ذاتی پسند کو معیار بناﺅں تو مجھے اپنے کزن اور منفرد صحافی خالد حسن کے قصہ کا لطف زیادہ آیا جنہوں نے ایک مرحلے پر خدا جانے کس جذبے سے مغلوب ہو کر انکم ٹیکس سروس کے امتحان میں شرکت کی اور سرکار پاکستان کی ملازمت سے منسلک ہو گئے ۔ میری حیرت کا جواز خالد حسن کا یہ اعتراف ہے کہ انہیں نہ تو انکم ٹیکس کے کام میں کوئی دلچسپی تھی اور نہ محکمانہ روایت کے مطابق پیسہ بنانے کا شوق ۔ سروس میں ان کی شمولیت کو اس لئے بھی محض اتفاق سمجھنا چاہئےکہ خالد صاحب کے بقول ، دوران انٹرویو انہوں نے بعض سوالوں کے ایسے جواب دئے جو بالکل ہی طبع زاد تھے ۔ سبب تھا بورڈ کا مشکل الفاظ معانی پوچھنے پر یہ سوچ کر اصرار کہ آپ کوئی چھ سال سے مرے کالج سیالکوٹ ، اسلامیہ کالج لاہور ، لارنس کالج گھوڑا گلی اور کیڈٹ کالج حسن ابدال میں انگلش پڑھا رہے ہیں۔

 دلچسپ صورتحال ’ہاو¾لر‘ کے لفظ پر پیدا ہوئی جس کے لغوی معنی ہیں ’احمقانہ یا فاش غلطی‘ ۔ زرد صحافت اور بھانت بھانت کے ٹی وی چینل کھل جانے کی وجہ سے اب اس اصطلاح کا مفہوم بہت حد تک آشکار ہو چکا ہے ، مگر 1960کے خالد حسن کے لئے یہ ایک نیا لفظ تھا ۔ چنانچہ انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ کبھی پڑھا یا سنا تو نہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ کسی مخصوص علاقہ یا طبقہ کی بولی ہو ۔ بورڈ کے رکن اور انگریزی ادب کے نامور استاد پروفیسر سراج الدین شائد اس دن چسکا لینے کے موڈ میں تھے ۔ کہنے لگے ’ذہن پہ زور ڈالو اور کوشش کرو‘ ۔ اب خالد صاحب نے جو جواب دیا اس پہ ان کی پر مزاح شخصیت کی مہر لگی ہوئی ہے ۔ کہنے لگے:

 Howler means one who howls

 پھر ایم اے میں متوقع سطح سے کمتر درجہ میں کامیابی کی یہ وضاحت کرنا کہ پنجاب بھر میں فرسٹ اور سیکنڈ ڈویژن کی ڈگریاں بس تین تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات میں بانٹ دی جاتی ہیں جبکہ میں ایک دور افتادہ کالج کا طالب علم ہونے کے سبب نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکا ۔ یہ بھی امتحانی نقطہ ءنظر سے کوئی مناسب جواب نہیں تھا ، اس لئے بھی کہ سراج صاحب کا نام نامی انہی میں سے ایک مخصوص درسگاہ کے ساتھ لازم و ملزوم تصور کیا جاتا رہا ۔ پھر بھی با اختیار سیلیکشن بورڈ کی مارکنگ اسکیم میں کچھ تو تھا کہ خالد حسن کا نام سر فہرست پایا گیا ، حالانکہ انہوں نے میرٹ لسٹ نیچے سے اوپر کی طرف دیکھنی شروع کی اور وسط تک پہنچ کر سمجھے کہ ’میں وہی حرف غلط ہوں کہ مٹایا جاﺅں‘ ۔ سات سال بعد ڈرامہ کا پردہ دوبا رہ اٹھا تو خالد حسن ’پاکستان ٹائمز‘ لاہور سے وابستہ ہو چکے تھے ۔

 خود میری عملی زندگی کا آغاز ایم اے کا رزلٹ آنے سے پہلے ہی اسلام آباد میں ایک حادثاتی جاب انٹرویو سے ہوا ۔ نئی نکور ائر کنڈیشنڈ سفارتی عمارت ، افسری ماتحتی نہ ہونے کے برابر اور ملازمت ملتے ہی کم و بیش ہر ہفتے ایمبسڈر صاحب کی گھریلو پارٹیوں میں ’ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے‘ ۔ کام مزیدار تھا کہ ویزے کے درخواست گزاروں کی امیگریشن افسر سے با ترجمہ ملاقات جن میں اکثریت ایسی نو باہتا دلہنوں کی ہوتی جنہیں ان کے شوہر برطانیہ سے سپانسر لیٹر بھیج چکے ہوتے ۔ بطور امیدوار میرا ’تکا‘ اس لئے لگ گیا کہ تحریری ٹیسٹ میں ایک تو ٹرانسلیشن کا اقتباس تھا ہی آسان ۔ ’ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاﺅں میں احمد نامی ایک لڑکا رہتا تھا ‘ ۔ دوسرے میں نے لفظی اور بامحاورہ ترجمہ کے الگ الگ عنوانات قائم کئے اور ممتحن اسی کی بدولت ’تھلے‘ لگا ۔ معمولی گفتگو کے بعد پانچ اضافی انکریمنٹس بھی مل گئیں ۔

 ہمارے کالج ٹیچر بنتے وقت بھی پبلک سروس کمیشن کے سامنے کوئی مارکنگ اسکیم تو ضرور ہو گی ۔ لیکن آپ کے خیر اندیش کو اپنی اس حرکت کا کوئی نقصان نہ پہنچا کہ وہ ویٹنگ روم کے ہرے ہرے صوفوں پہ بیٹھ کر انٹرویو کی باری کا انتظار کرنے کی بجائے کمیشن کے بیرونی احاطے کی دیوار پہ چڑھ کر باقاعدہ چٹکی مار اسٹائل میں سگریٹ پیتا رہا ۔ میرے قریبی دوست عمر فاروق کہا کرتے ہیں کہ اس دن پہلی نظر میں تم مجھے بہت شوہدے آدمی لگے تھے ۔ خیر ، کمیشن کی رائے ہمارے ذاتی اندازوں سے مختلف نکلی اور فاروق پنجاب بھر میں پہلے نمبر پہ رہے جبکہ میں دوسرے پر ۔ پینل کے تینوں سبجیکٹ اسپیشلسٹ میرے دائرہ اثر سے باہر مگر نیک نام استاد تھے ۔ پر میرا کام تو کمیشن کےچیئرمین نے بنایا جنہیں پتا چل گیا کہ میں شعر کہتا ہوں ۔ اس کے بعد اللہ دے اور بندہ لے ۔

 بی بی سی میں شمولیت کو یاد کروں تو درخواست فارم پر میرے اس بچگانہ دعوے نے بجائے خود مارکنگ اسکیم کے ڈھانچہ کو ہلا دیا ہوگا کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس کی آپ کو تلاش رہی ۔ جی ہاں ، یہی الفاظ تھے ، مگر تیس سال گزر جانے پر اس انکشاف پہ اخفائے راز کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا کہ اردو سروس کے سربراہ نے ، جو پاکستان کے دورہ پہ آنکلے ، میرا انٹرویو تحریری امتحان سے پہلے لیا ۔ کیا آدمی تھا ، جس نے نہ صرف مجھے فلیش مین ، راولپنڈی کے کمرے میں مسلسل پائپ نوشی کی اجازت دئے رکھی بلکہ دونوں گپ شپ میں اتنے مگن ہوئے کہ پون گھنٹہ کی طے شدہ ملاقات پونے دو گھنٹے تک چلتی رہی ۔ انٹرویو میں ’ٹیوا‘ لگا کر میں نے افغانستان میں موثر سوویت قبضہ نہ ہونے کی پیشگوئی کی ، جس سے افسر نے یہ مراد لی ہوگی کہ لگتا تو نہیں ، لیکن امیدوار واقعی کرنٹ افیئرز کا ماہر ہے ۔

 بات لمبی ہو جائے گی ، ورنہ یہ سب اس بات کے اشارے ہیں کہ روزمرہ کے ٹونٹی ٹونٹی کے میدان سے ہٹ کر کسی نظر نہ آنے والے گراﺅنڈ میں ہمارے ہونے اور نہ ہونے کا ٹیسٹ بھی کھیلا جا رہا ہے ۔ ٹونٹی ٹونٹی کی مارکنگ اسکیم کی جگہ شائقین کی نظر تو طویل تر میچ کے اسکور بورڈ پہ ہونی چاہئے ۔ سرکاری طور پہ بزرگی حاصل کر لینے پر اب اپنی تھوڑی سی توجہ اس طرف بھی ہے کہ آیا یہ ٹیسٹ میچ ڈرا ہو جائے گا ، ہمیں جیت نصیب ہوگی یا اننگز ڈیفیٹ ہو جائے گا ۔ کبھی سوچتا ہوں کہ بھئی ، ہماری دس گیندیں ٹھیک پڑ جائیں تو اگلی ساری ٹیم کو آﺅٹ سمجھو ۔ لیکن یہ ڈر بھی ہے کہ جب آواز آئی کہ ’پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے ‘ تو کہیں اس فائنل اوور کی مارکنگ اسکیم میں بھی یہ کہہ کر میرے نمبر نہ کاٹ لئے جائیں کہ تم نے میٹرک میں فزکس کیمسٹری کے ساتھ فارسی کا مضمون کیوں لے رکھا تھا ۔

مزید :

کالم -