نئے صوبوں کا مطالبہ!

نئے صوبوں کا مطالبہ!

  

متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے نئے صوبے بنانے کا مسئلہ ایک ایسے موقع پر چھیڑا گیا، جب پہلے ہی دھرنوں کی وجہ سے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ متحدہ کے سربراہ یا قائد الطاف حسین نے سندھ کی تقسیم کی بات کی، جس پر شدید ردعمل ظاہر ہوا تو اب رابطہ کمیٹی ملک بھر میں چار کی جگہ27صوبے بنانے کی تجویز لے آئی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انتظامی بنیادوں پر ملک کے 27ڈویژن، 27صوبوں میں منتقل کر دیئے جائیں، اس کے ساتھ ہی حیدر عباس رضوی نے رابطہ کمیٹی کی طرف داری کرتے ہوئے ان27صوبوں کو معاشی اعتبار سے خود کفیل اور قابل عمل بھی قرار دیا اور ہر ایک ڈویژن کے وسائل اور آمدنی کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ موقف اختیار کیا گیا کہ نئے صوبوں سے ملک کمزور نہیں مضبوط ہو گا۔ مثال بھارت کی دی گئی کہ آٹھ صوبوں پر مشتمل تھا اب یہ تعداد 37 ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ مطالبہ کرنے کا پورا حق رکھتی ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آئین کے مطابق صوبوں کے قیام کے لئے ہر صوبائی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری لازم ہے اور اس منظوری کے بعد ہی قومی اسمبلی اور سینٹ آئین میں ترمیم کی منظوری دے سکتی ہے۔ اس کے لئے پہلا مرحلہ صوبائی اسمبلیوں سے منظوری حاصل کرنا ہے۔ دوسری صورت میں اسے لاحاصل مطالبہ اور اس مرحلے پر تجویز اور تنازعہ کو کوئی اور ہی معنی پہنائے جائیں گے۔

متحدہ کی یہ تجویز نئی نہیں اور نہ ہی مطالبہ پہلا ہے۔ اس سے قبل ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز تحریک استقلال کی ایک کمیٹی نے پیش کی تھی ، جس کے چیئرمین میاں محمود علی قصوری تھے، اس کمیٹی کا تیار کردہ ڈرافٹ آج بھی کہیں موجود ہو گا تاہم حال کی تجویز اور میاں محمود علی قصوری کی صدارت میں کمیٹی کا منظور کردہ ڈرافٹ مختلف ہے۔ اس دستاویز کے ذریعے ملک کے تمام ڈویژنوں کو معمولی ردوبدل کے ساتھ صوبہ قرار دینے کے لئے کہا گیا، لیکن یہ مکمل صوبہ نہیں۔دہلی کی طرز پر چھوٹا انتظامی صوبہ ہونا چاہئے جس کا ایک ریذیڈنٹ گورنر اور تین چار وزراء اور وزیراعلیٰ پر مشتمل کابینہ اور مختصر اسمبلی ہو۔ تاہم متحدہ نے جو سفارشات پیش کیں ان کے مطابق تو یہ27ڈویژن مکمل طور پر صوبے ہوں گے۔ گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ اور اسمبلی بھی ہو گی، معترض حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ متحدہ کی تجویز سے اخراجات بہت بڑھ جائیں گے اور سرحدوں کے تعین پر بھی تنازعہ ہو گا، متحدہ کی تجویز کی منظوری مشکل ہے کہ مخالفت زیادہ ہوگی۔

مزید :

اداریہ -