مقبوضہ کشمیرکی قابض انتظامیہ متاثرین سیلاب کی مدد میں قطعی ناکام

مقبوضہ کشمیرکی قابض انتظامیہ متاثرین سیلاب کی مدد میں قطعی ناکام

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںقابض انتظامیہ متاثرین سیلاب کی مدد میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ سرینگر کے کئی علاقوں میںتاحال پانی موجود ہے جس کے باعث انتظامیہ کے خلاف شہریوں کے غم و غصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر کے علاقے خیام کے رہائشیوں نے قابض انتظامیہ کے خلاف ڈلگیٹ چوک میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے سڑک بلاک کر دی جسکے باعث ٹریفک کی آمد ورفت کئی گھنٹوں تک متاثر رہی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں تاحال سیلابی پانی موجود ہے اور قابض انتظامیہ پانی کو نکالنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مظاہرے میں شریک مومن نامی ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ سیلاب نے انکا سب کچھ چھین لیا ہے اور قابض انتظامیہ کہیں نظر نہیں آرہی، خیام اور سرینگر شہر کے دیگر پائیں علاقوںمیں دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال پانی موجود ہے جس کے باعث مکانات بوسیدہ ہو رہے ہیں اور ان میں موجود سامان تباہ ہو رہا ہے۔ سجاد احمد نامی ایک اور نوجوان نے کہا کہ پانی کی وجہ سے ان کے گھر تباہ ہو رہے ۔طارق احمد نامی شخص نے کہا کہ نچلے علاقوں میں صورت حال انتہائی خراب ہے اور پانی کئی فٹ تک کھڑا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جواہر نگر کے علاقے میں گزشتہ چار روز کے دوران پانی محض 8سے 10انچ کم ہوا ہے۔ غلام نبی نامی ایک معمر شخص نے کہا کہ انکے صبر کا پیمانہ لبریزہو رہا ہے اور وہ متاثرین کو کسی قسم کی راحت پہنچانے میں ناکامی پر قابض انتظامیہ کے خلاف احتجاج پر مجبور ہیں۔ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کی طرف سے مایوسی کے بعد متاثرہ علاقوںکے لوگ پانی کی نکاسی کے لیے خود اقدامات کر رہے ہیں۔لوگ خوفزدہ ہیں کہ انکے علاقوںمیں پانی زیادہ دیر تک موجود رہا تو گھروں کو شدید نقصان پہنچے گا اور اسکے ساتھ ساتھ وبائی امراض کے پھوٹنے کا خدشہ بھی بڑھے گا۔ بمنہ کی رہائشی پروینہ کے مطابق انکے علاقے میں تاحال ایک انچ پانی بھی پانی کم نہیں ہوا ہے۔

سرینگر کا سب سے بڑا کاروباری علاقہ لالچوک7ستمبر سے تاحال بند پڑا ہے اورجن علاقوں میں ابھی بھی پانی موجود ہے ان میں قمر واری، مائسمہ، بڈشاہ چوک، بمنہ، سونہ وار، شیو پورہ ، اندرا نگر، سعدہ کدل، جواہر نگر، راجباغ، ہفت چنار، سول سیکرٹریٹ، سترہ شاہی اور کرن نگر شامل ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -