کاشتکار سونف کی کاشت ماہ اکتوبر سے وسط نومبر تک مکمل کر لیں:ماہرین

کاشتکار سونف کی کاشت ماہ اکتوبر سے وسط نومبر تک مکمل کر لیں:ماہرین

  

فیصل آباد (آن لائن) ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے زرعی ماہرین نے بتایا ہے کہ کاشتکار سونف کی کاشت ماہ اکتوبر سے وسط نومبر تک مکمل کر لیں۔ کاشت کے لئے زرخیز چکنی مٹی والی زمین کا انتخاب کریں۔ سیلابہ زمینوں میں بغیر پانی کے بھی یہ فصل اچھی کاشت ہوتی ہے۔ کاشت سے قبل کھیت میں 4-3 مرتبہ ہل چلا کر زمین کو ہموار کر لیں اور گوبر کی گلی سڑی کھاد 12-10 گڈے فی ایکڑ ڈال کر زمین میں اچھی طرح ملائیں۔ سونف کی کاشت لائنوں میں وٹیں بنا کر اور بذریعہ چھٹہ کریں۔ چھٹہ سے کاشت کی ہوئی فصل زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ اگر فصل کو لائنوں میں کاشت کرنا ہو تو راﺅنی کے بعد 2 دفعہ ہل چلائیں تاکہ زمین نرم ہو جائے اور اسی وتر میں سونف کاشت کریں۔ لائنوں کا درمیانی فاصلہ ڈیڑھ فٹ اور پودے سے پودے کا درمیانی فاصلہ 9 انچ رکھیں۔ لائنوں کا فاصلہ بڑھانے سے پیداوار میں کمی ہو جائے گی، وٹوں پر کاشتہ فصل سے بھی زیادہ پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔ ایک ایکڑ سونف کی کاشت کےلئے 4 تا 5 کلوگرام بیج استعمال کریں۔

بیج کی بوائی کے 10 سے 12 دن کے اندر فصل کا اگاﺅ مکمل ہو جاتا ہے۔ لائنوں میں کاشتہ فصل کو اگاﺅ کے بعد جب پودے 6-5 انچ کے ہو جائیں تو پہلا پانی لگائیں۔ اگر فصل بذریعہ چھٹہ کاشت کی گئی ہو تو چھٹہ دے کر بار ہیرو یا ترپھالی پھیرنے کے بعد ہلکا سہاگہ دے کر پانی لگا دیں ۔ پودوں کی بہتر نشوونما کےلئے پہلے دو تین پانی دینے کے بعد فصل کی نلائی ضرور کریں۔سونف کی کاشت پورے پاکستان میں کامیابی سے کی جاسکتی ہے۔ یہ جھاڑی نما تین سے ساڑھے چار فٹ اونچا سدا بہار پودا ہے لیکن اس کی کاشت دوسری عام فصلوں کی طرح ہر سال کی جاتی ہے۔ سونف کو مختلف بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ آنکھوں کی بینائی کو قائم رکھتی ہے، کمر درد، درد پہلو اور درد پشت کے لئے بھی بہت مفید ہے سونف کے بیجوں کا رس دمہ اور برونکاٹس جیسی سانس کی بیماریوں میں بہت فائدہ مند ہے۔ سونف کے بیج مختلف عطریات بنانے میں استعمال ہوتے ہیں جبکہ اس کا تیل کھانے میں استعمال ہوتا ہے۔    

مزید :

کامرس -