سندھ میں شرپسند وںکی طرف سے ریلو بوگیوں کو آگ لگانے کا انکشاف

سندھ میں شرپسند وںکی طرف سے ریلو بوگیوں کو آگ لگانے کا انکشاف

  

لاہور(حنیف خان) سندھ میںبعض شرپسند عناصرکی طرف سے کروڑوں روپے مالیت کی 22سے زائد ریلوے ٹرین بوگیوں کو آگ لگانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ جس کے پیش نظر ریلوے انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کروانے کے لئے فرانزک لیب سے رجوع کرلیا اورجنرل منیجر آپریشنز ریلوے نے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کے سامنے اس المناک واقعہ کواٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ اس معاملے کی ریلوے پولیس کے ساتھ مل کرتحقیقات کی جائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ 9ماہ کے دوران ریلوے ٹرین کی 22سے زائد بوگیوں کو آگ لگی ہے ابتدائی طور پر یہ ہی تصور کیا جارہا تھا کہ شارٹ سرکٹ باعث بوگیوں میں آگ لگ رہی ہے مگر گزشتہ دنو ں جیکب آباد اسٹیشن پر بوگیوں میں جب آگ لگی تو ٹرین کے سٹاف نے تین افراد کو یہاںسے بھاگتے ہوئے دیکھا جس کے بعد ریلو ے نے ابتدائی طور پر تحقیقات کیں تو انہیں معلوم ہوا کہ جس مقام سے بجلی سپلائی ہورہی تھی وہاں پر آگ ہی نہیں لگی جس پر ریلوے نے اس معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا اس ضمن میں انہوں نے گزشتہ 9ماہ کے دوران آگ لگنے والی بوگیوں کی تفصیلات جمع کیں تو اس دوران معلوم ہوا کہ ان مہینوں میں ملتان اور راولپنڈی میں ایک ایک بوگی کو آگ لگی ہے لیکن سندھ میں آئے روز بوگیوں کو آگ لگی ہے ۔ سندھ میں جنوری میں تین،فروری اور اپریل میں ایک ایک ،مئی میں تین ،جون میں پانچ ،جولائی میں ایک ،اگست میں تین اور ستمبر میں سات مرتبہ 22سے زائد بوگیوں کو آگ لگی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ جیکب آباد اسٹیشن پر آگ لگنے کے واقعہ سے قبل جب سکھر میں ایک بوگی کو آگ لگی تو وہ آگ دوسری بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی تو اس آگ لگنے والے واقعہ میں بھی شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بوگی کو آگ لگانے کے لئے خاص کیمیکل کا استعمال کیا گیا ۔تاہم اس صورتحال پر جنرل منیجر آپریشنز جاوید انور بوبک نے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس سے رابطہ کیا ہے اور دونوں کے درمیان جلد ملاقات کا امکان ہے ۔ملاقات میں ان واقعات کی مشترکہ تحقیقات کروانے پر زور دیا جائے گا ۔ذرائع نے بتایا کہ ریلوے نے فرانزک لیب سے بھی رجو ع کرلیا ہے اوران سے خاکستر ہوئی بوگیوں کا معائنہ کرنے اور آگ کے متعلق اسباب کی وجوہات پرمعلومات لی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق فرانزک لیب کے ماہرین جلد جائے حادثہ کا معائنہ کریں گے اور یہاں سے نمونے لے کر لیبارٹری ٹیسٹ کئے جائیں گے جس کے بعد حقیقت کھل کر سامنے آئے گی۔اس حوالے سے جاننے کے لئے جنرل منیجر آپریشنزریلوے جاوید انور بوبک سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی تمام ریاستی اداروں سے مدد لی گئی ہے اور ہم سے سارے تعاون کررہے ہیں ۔

 انکشاف

مزید :

صفحہ آخر -