کوہ نور میپل لیف گروپ ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،محسن نقوی

کوہ نور میپل لیف گروپ ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،محسن نقوی

  

کراچی (نعیم الدین/غلام مرتضیٰ) کوہ نور میپل لیف گروپ کے ڈائریکٹر فنانس محسن نقوی نے کہا ہے کہ کوہ نور میپل لیف گروپ ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ بجلی اور گیس کی بلاتعطل فراہمی سے سیمنٹ اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداواری استعداد کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ سیمنٹ کی برآمدات میں بہتری آئی ہے ۔جبکہ ٹیکسٹائل کی صنعت بھی آگے بڑھ رہی ہے ۔یہ بات انہو ںنے گذشتہ روز آئی سی ایم اے پاکستان اور سی اے پاکستان کے زیراہتمام 13ویں ”بیسٹ کارپوریٹ اینڈ اسٹیبلٹی رپورٹ ایوارڈ 2013“ کی تقریب کے موقع پر روزنامہ پاکستان کراچی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر میپل لیف سیمنٹ فیکٹری لمیٹڈ کے جی ایم فنانس سہیل صادق اور ڈی ایم فنانس محمد نعیم علیم ان کے ہمراہ تھے۔ محسن نقوی نے کہا کہ روپے کی قدر میں اچانک کمی کے باعث مجموعی طور پر کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اگر یہ عمل بتدریج ہوتا تو اسکا سدباب کرنا ممکن تھا۔ ایک سوال کے جواب میاں انہو ںنے بتایا کہ میپل لیف سیمنٹ کی کارکردگی قابل ستائش رہی ہے اور اپنے قیام کے پہلے تین سال کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں اس کے حصص کی قیمت 5 روپے فی شیئر سے بڑھ کر 28روپے فی حصص ہوگئی ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کی وجہ سے پورے یورپ میں کوہ نور ٹیکسٹائل کی مصنوعات کے آرڈرز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ہوم ٹیکسٹائل مصنوعات زیادہ تر یورپی ممالک میں برآمد کی جاتی ہیں۔ جن میں یوکے، جرمنی، فرانس اور یو ایس اے سرفہرست ہیں۔ جبکہ میپل لیف سیمنٹ بھی افغانستان ، بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے تعمیراتی شعبے میں 80 تا 90 فیصد وائٹ سیمنٹ میپل لیف کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے گروپ کو سیمنٹ اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں بہتر کارکردگی پر پہلا ایوارڈ دیا گیا ہے اور اگر ادارہ اچھی کارکردگی دکھائے اور اس کو ایوارڈ بھی دیا جائے تو خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ جی ایم فنانس سہیل صادق نے کہا کہ ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں خام مال کی کوالٹی دنیا میں سب سے زیادہ بہترین ہے۔ اس لیے پوری دنیا کے مقابلے میں پاکستان بہت زیادہ معیاری سیمنٹ تیار کررہا ہے جس بہت زیادہ مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واہگہ بارڈر نزدیک ہونے کی وجہ سے ہماری سیمنٹ کی زیادہ برآمد بھارت میں ہے جبکہ میپل لیف افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی سیمنٹ برآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں 60 فیصد اضافے کے باعث خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا اور مقابلے کی عالمی دوڑ میں شامل ہونا ایک مشکل امر بنتا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے انسانی وسائل کو پوری دنیا مانتی ہے جس کا ہمیں ایڈوانٹیج ہے۔ ڈی ایم فنانس محمد نعیم علیم نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں ہمیشہ ٹیکسٹائل کے شعبے نے ترقی کی ہے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کپڑا بھارت کے کپڑے سے ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ لوگ غیر ملکی کپڑا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میپل لیف سیمنٹ سا¶تھ افریقہ ، سری لنکا اور دیگر ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے پرانے سودوں پر فرق پڑتا ہے جس کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے گروپ کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے تمام شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے جب تک آپ اپنے آپ کو اپ ڈیٹ نہیں کریں گے ، آپ کو کامیابی نہیں ملے گی۔

محسن نقوی

مزید :

صفحہ آخر -