دھرنوں کیخلاف پارلیمنٹ میں پیش کردہ مذمتی قرارداد کی زرداری سے منظوری لی گئی تھی

دھرنوں کیخلاف پارلیمنٹ میں پیش کردہ مذمتی قرارداد کی زرداری سے منظوری لی گئی ...

  

                           کراچی /اسلام آباد (آئی این پی ) پیپلزپارٹی نے پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے خلاف مذمتی قرارداد کی حمایت کو کراچی میں سابق صدر زرداری اور اعلیٰ قیادت کی منظوری سے مشروط کردیا تھا ، نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سے تمام پارلیمانی رہنماو¿ں کی ملاقات کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ اس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس قرارداد کو پیش کیے جانے سے قبل تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم پیپلزپارٹی نے حکومت کو فری پاس دینے سے انکار کردیا، جس کے نتیجے میں وزیراعظم کا ایوان سے خطاب اور قرارداد کو پیش کیے جانے کا عمل نماز جمعے کے بعد تک کے لیے التوا کا شکار ہوگیا، ورنہ حکومت کا منصوبہ تھا کہ سب کچھ نماز سے پہلے کرلیا جائے۔پارلیمانی سربراہان کے اجلاس میں شریک ایک شخص نے بتایا"اجلاس صبح ساڑھے دس بجے کے قریب شروع ہوا اور ہم نے ایک گھنٹے کے اندر قرارداد تیار کرلی مگر پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ اصرار کیا گیا کہ وہ اس کی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے منظوری لیں گے، جس کے باعث پارلیمنٹ کا اجلاس دوپہر تک جاری رہا"۔قرارداد کے مسودے کو حتمی شکل دیئے جانے کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ان کی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ اس کی آصف زرداری سے منظوری چاہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری جو صبح دیر سے اٹھنے کے عادی ہیں، اس وقت سو رہے تھے جب قرارداد کا مسودہ انہیں فیکس کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے مواد کے بارے میں معلومات کے لیے وقت لیا جس کی وجہ سے وزیراعظم کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب تین بجے سہ پہر کو شروع ہوا اور اس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔حکومتی اتحادی محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمان اور کچھ ن لیگ کے رہنماو¿ں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا مطالبہ کیا مگر پیپلزپارٹی اس طرح کا اقدام نہیں چاہتی تھی۔پیپلزپارٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا"یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری سے مشاورت کی گئی اور شریک چیئرمین اپنی جماعت کو طاقت کے استعمال کو درست قرار دینے کا حصہ نہیں بنانا چاہتے تھے آخرکار پی پی پی سب سے بڑی حزب اختلاف کی جماعت ہے۔

زرداری سے منظوری

مزید :

صفحہ آخر -