چینی فوج چومار سیکٹر میں داخل بھارت کو علاقہ خالی کرنے کا انتباہ

چینی فوج چومار سیکٹر میں داخل بھارت کو علاقہ خالی کرنے کا انتباہ

  

سرینگر( اے این این ) چینی فوج چومار سیکٹر میں داخل ہوگئی ہے اور اس نے متنازعہ علاقے میں بینر لگادےئے ہیں جن میں بھارت کو علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز چینی لبریشن آرمی کے ایک ہزار کے قریب اہلکار چومارسیکٹر میں داخل ہوئے اوربینر لگاکر بھارتی فوج کو علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ کی ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق فورسز کی تین بٹالین چومار سیکٹر کی طرف روانہ کردی گئی ہیں۔ لبریشن آرمی کے کمانڈروں کے ساتھ فلیگ میٹنگ بھی منعقد کی گئی جو ناکام رہی چین کے مطابق علاقہ چھوڑنے سے مسلسل انکار کررہے ہیں۔ چینی فوج کا موقف ہے کہ چومار سیکٹر چین کا حصہ ہے اور وہ اپنے علاقے کو کسی بھی صورت میں چھوڑ نہیں سکتی۔ذرائع کے مطابق لداخ سیکٹر میں چینی لبریشن آرمی اور بھارتی افواج کے درمیان زبردست کشیدگی پائی جارہی ہے اور دونوں ملکوں کے افواج آمنے سامنے ہیں۔ دفاعی ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اٹھارہ ستمبرکو ایک ہزار چینی لبریشن آرمی کے اہلکار چومارسیکٹر میں داخل ہوئے اوربھارتی فوجیوں کو علاقہ چھوڑنے کے لئے انتباہ کیا۔لداخ میں چینی لبریشن آرمی کے داخل ہونے پر بھارت کی مختلف سیاسی پارٹیوں نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ چین بھارت کا دشمن نمبر ون ہے اور حکومت کی جانب سے دراندازی پر قابو پانے کے لئے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے۔کانگریس ترجمان کاکہنا ہے کہ چینی لبریشن آرمی کی جانب سے لداخ میں دراندازی ناقابل قبول ہے اور وقت آگیا ہے کہ چین کو دندان شکن جواب دیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ یو پی اے حکومت میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے تواس وقت بی جے پی نے سرآسمان پر اٹھالیاتھا۔ تاہم اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی بی جے پی کو سانپ سونگھ گیا ہے اورچین کی لبریشن آرمی کی مداخلت کو روکنے کے لئے مرکزی حکومت بے بس دکھائی دے رہی ہے۔آئن لائن کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے صدر ژی جن پنگ کا دورہ بھارت مکمل ہوتے ہی لداخ ایجن کے علاقے میں چینی افواج کی دراندازی کی خبروں نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی صداقت پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کے صدر ژ ی جن پنگ بھارت کا تین روزہ دورہ مکمل کرکے نئی دہلی سے روانہ ہوچکے ہیں۔ اس دوران دونوں ملکوں نے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے اور باہمی رشتوں کو مزید مستحکم کرنے کے کئی معاہدے کئے لیکن دورے کے دوران ہی لداخ میں چینی افواج کی دراندازی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ ان خبروں نے سب کو حیرت زدہ کردیا کہ تقریبا ایک ہزار چینی فوجی بھارت کے سرحدی علاقہ مشرقی لداخ کے چومار میں پانچ کلومیٹر تک اند ر داخل ہوچکے ہیں اور دوسری طرف بھارتی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں صف آرا ہوگئی ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں سرحدی تنازعہ کا سوال ایک بار پھر ابھر کر سامنے آگیا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ساز گار تعلقات کے لیے باہمی اعتماد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان تعلقات کو تمام پہلوؤں سے سود مند بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سرحد پر امن قائم ہو۔ انہوں نے چین کی طرف سے دراندازی کے مسلسل واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے یہ تجویز بھی پیش کی کہ سرحدی معاملات کو جلد از جلد حل کرلیا جائے تاکہ امن و سکون کا ماحول برقرار رہے۔ دوسری طرف چینی صدر نے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے کی وجہ یہ ہے کہ سرحدی لائن طے نہیں ہے اور اس کا تعین کیا جانا باقی ہے ، جب تک ایسا نہیں ہوجاتا ہے دراندازی کے واقعات کے خدشات برقرار رہیں گے۔خیال رہے کہ بھارت اور چین کے مابین 2200 میل کی سرحد ملتی ہے جس میں سے بیشتر علاقہ متنازعہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی بڑی وجہ حقیقی کنٹرول لائن کا نہ ہونا ہے۔ادھر بھارتی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال اگست کے اوائل تک چین کی جانب سے بھارت میں دراندازی کے 400سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت اور چین کے رشتے ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں حالانکہ 1962 کے بعد سے دونوں ملکوں میں کوئی جنگ نہیں ہوئی ہے لیکن سرحد پر کشیدگی کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -