سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی میں ا نتظامیہ ہوش سے کام کرے ور نہ کسی کی خیر نہیں شہباز شریف

سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی میں ا نتظامیہ ہوش سے کام کرے ور نہ کسی کی خیر ...

  

لاہور(پ ر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے حافظ آباد، چنیوٹ اورملتان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔سیلاب متاثرین کیلئے قائم کیے گئے ریلیف و میڈیکل کیمپوں کا معائنہ کیا ۔ متاثرین سے ملاقاتیں کی اوران سے مسائل دریافت کیے۔وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرہ علاقو ں کے دوروں کے دوران امدادی و بحالی کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے فیصل آباد میں ویڈیو لنک کے ذریعے جھنگ کی انتظامیہ سے امدادی و بحالی کی سرگرمیوں کی صورتحال سے آگاہی حاصل کی۔وزیراعلیٰ نے ملتان میں ملتان مظفرگڑھ روڈ کی بحالی کے منصوبے کا افتتاح کیا۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی اوردیگر متعلقہ اداروں نے 72کی بجائے 48گھنٹوں میں سیلاب سے تباہ ہونے والی ملتان مظفرگڑھ لنک کو بحال کر کے ٹریفک کیلئے کھول دیا ۔وزیراعلیٰ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں انتظامیہ ،این ایچ اے،پاک فوج اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں جن کی کاوشوں سے ملتان مظفرگڑھ لنک دودنوں میں بحال ہوا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ جس طرح ملتان مظفرگڑھ روڈ کو بحال کیاگیا ہے اسی طرح پنجاب کی دیگر اہم سڑکوں کو بھی بحال کریں گے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دوروں کے دوران سیلاب متاثرین ،انتظامیہ کے اجلاسوں اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لندن پلان پاکستان اوراس کے 18کروڑ عوام کے خلاف گھناؤنا منصوبہ تھا۔لندن پلان کے اہم کرداروں میں عمران ،قادری اورچوہدری برادران شامل ہیں ۔لندن میں بیٹھ کر تیار کی گئی سازش پوری قوم کے سامنے آچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان طاہر القادری سے لندن ملاقات کے حوالے سے دن رات جھوٹ بولتے رہے ۔طاہرالقادری نے زندگی کا پہلا اورآخری سچ بول کر عمران کے جھوٹ کا پول کھول دیا ۔چوہدری برداران نے قرضے معاف کرائے اورپنجاب بینک پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے میں چوہدری برادران نے گھناؤنا کردارادا کیا ۔چین کے صدر کا دورہ ملتوی کرانا لندن پلان کا اصل ہدف تھا ۔چین کے صدر نے بھارت میں 20ارب ڈالر کے معاہدے کیے جبکہ پاکستان سے 32ارب ڈالر کے معاہدے ہونا تھے۔انہوں نے کہا کہچین کے صدر کے دورے کے دوران بجلی کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھاجانا تھا ۔دھرنوں کی وجہ سے یہ تمام اہم منصوبے کھٹائی میں پڑ گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص دوست ہے۔ جنگیں ہوں یاسیلاب ،زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔لندن پلان کے کرداروں نے 18کروڑ عوام پر جو ظلم کیا ہے قوم اسے کبھی فراموش نہیں کرے گی۔انہو ں نے کہا کہ چین کے صدر نے بھارت کے دورے کے دوران گاندھی کے آشرم کا دورہ کیا،اگر چین کے صدرپاکستان کے دورے پر آتے تو وہ قائداعظمؒ یا علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری دیتے۔اسلام آباد کے ڈی چوک میں رقص و سرود کی محفلیں سجانے والوں کو سیلاب متاثرین سے کوئی ہمدردی نہیں۔وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیاد ت میں وفاقی اورپنجاب حکومت آخری متاثرہ فرد کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔انہوں نے کہا کہ لندن پلان ناپاک سازش تھی جو بے نقاب ہو چکی ہے۔ عمران، قادری اور چوہدری برادران کا اصل چہرہ عوام نے دیکھ لیا ہے۔ لندن پلان کا اصل ہدف چین کے صدر کا دورہ ملتوی کرانا اور 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری رکوانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران اور اس کے حواریوں نے معیشت کا قتل عام کیا ہے۔ ملک کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے حافظ آباد کے علاقے وینکے تارڑ کے امدادی کیمپ میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور ان کے مسائل دریافت کئے۔ امدادی کیمپ میں ڈی سی او حافظ آباد نے متاثرہ علاقوں میں امدادی و بحالی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ نے وینکے تارڑ سے 15 کلومیرمیٹر دور نواحی دیہات بہک احمد یار کا بھی دورہ کیا اور ایک گھنٹے تک گاؤں میں صورتحال، امدادی و بحالی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور متاثرین سے خطاب بھی کیا۔ وزیراعلیٰ نے وینکے تارڑ کے امدادی کیمپ کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت دھرنوں کی سیاست کا نہیں عوام کی خدمت کا ہے۔ عمران خان صاحب! بے وقت کے دھرنے آپ کی سیاست کو لے ڈوبیں گے۔ پنجاب پانی میں ڈوبا ہوا ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہیں اور آپ دھرنے دے رہے ہیں۔ابھی وقت ہے دکھی لوگوں کی خدمت کیلئے دھرنے چھوڑ کر باہرآ جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں غیر اعلانیہ دورے کر رہا ہوں تاکہ زمینی حقائق سے آگاہی حاصل کر سکوں۔ متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کے تمام وسائل متاثرین کی بحالی کیلئے حاضر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے وینکے تارڑ میں بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کی جائے اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ آئندہ24 گھنٹوں میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو مالی امداد کی فراہمی یقینی بنا کر رپورٹ پیش کی جائے۔ تمام نقصانات کی تصاویر بنا کر ویب سائٹ پر ڈالا جائے۔ وزیراعلیٰ نے حافظ آباد کی ویب سائٹ کے بارے میں انتظامیہ کی لاعلمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی میں انتظامیہ ہوش سے کام کرے ورنہ کسی کی خیر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین میں مچھر دانیاں بھی تقسیم کی جائیں۔ ڈی سی او حافظ آباد نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی و بحالی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حافظ آباد میں 155 گاؤں اور 2 لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہوئی۔ 15 ہزار سیلاب متاثرہ خاندانوں میں خشک راشن، منرل واٹر کی بوتلیں اور دیگر امدادی اشیاء تقسیم کی گئی ہیں۔ متاثرین کے جانوروں کیلئے بھی چارہ فراہم کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ، سابق پارلیمانی سیکرٹری افضل حسین تارڑ، اراکین صوبائی اسمبلی چوہدری اسداللہ ارائیں، ملک سجاد اعوان، کمشنر گوجرانوالہ اور اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ حافظ آباد سے چنیوٹ کی تحصیل لالیاں کے علاقے عاصم آباد میں خیمہ بستی میں گئے اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کرکے ان کے مسائل دریافت کئے۔ اس موقع پر سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ آپ مطمئن رہیں، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔ انہو ں نے کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے بجلی کے بل ایک یا دو ماہ کیلئے موخر کر دیئے جائیں۔ اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت سے درخواست کی جائے گی۔ انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھول میں نہ رہے، میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے غیر اعلانیہ اور اچانک دورے کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ متاثرین کو مالی امداد کی پہلی قسط عید سے قبل ادا کر دی جائے گی۔ میں عید سیلاب زدہ بہن بھائیوں کے ساتھ گزاروں گا۔ سیلاب متاثرین کے مسائل حل کرنے کیلئے ہر جگہ پہنچوں گا۔ وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی و میڈیکل کیمپوں میں سہولیات کا جائزہ لیا۔ کیمپوں میں سیلاب متاثرین سے فرداً فرداً ملاقات کی اور ان کے مسائل دریافت کئے۔ وزیراعلیٰ نے خیمہ بستی کے دورہ کے دوران متاثرین سے امدادی و بحالی سرگرمیوں کے بارے دریافت کیا۔ سیلاب متاثرین نے امدادی و بحالی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بعدازاں وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے فیصل آباد آمد پر ویڈیو لنک کے ذریعے جھنگ کی انتظامیہ سے خطاب کیا اور جھنگ میں امدادی و بحالی کی سرگرمیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ امدادی و بحالی کی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور بحالی کے کاموں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ کوئی بھول میں نہ رہے، اچانک اور غیر اعلانیہ دورے جاری رکھوں گا۔وزیراعلیٰ نے ملتان کا دورہ کیا۔ملتان مظفرگڑھ روڈ کی بحالی کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عید سے پہلے متاثرین کو مالی امداد کی پہلی قسط ادا کردی جائے گی۔مالی امداد کی تقسیم کا عمل 28ستمبر تک شروع کیا جائے گااوراس عمل کو عید سے قبل مکمل کریں گے۔کوئی حقدار حق سے محروم نہیں رہے گا،میں خودمالی امداد کی فراہمی کے عمل کی نگرانی کروں گا۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ شخصیات نے ملاقات کی اورسیلاب متاثرین کی مدد کے لئے 3کروڑ8لاکھ روپے کے چیک پیش کیے۔ایوان صنعت و تجارت لاہورکے صدرسہیل لاشاری نے چیمبرکی جانب سے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 1کروڑ روپے اور پی ٹی سی کے ریگولیٹری آفےئر ز کے ہیڈ اسد شاہ نے پی ٹی سی کی جانب سے 1کرو ڑ روپے کا چیک دیا ۔پیپسی انٹرنیشنل کے کاپوریٹ آفےئرز کے سربراہ خرم شاہ نے پیپسی کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 10لاکھ لاہورجم خانہ کلب کی جانب سے مصباح الرحمان نے 50لاکھ،ابیکس کنسلٹنٹ عباس خان نے ساڑھے 12لاکھ،ڈاکٹر امجد ثاقب نے 5لاکھ اورایم پی اے رؤف مغل نے 15لاکھ روپے کے چیک سیلاب متاثرین کی مددکیلئے دےئے ۔سماجی کارکن محمد شفیق نے آئی ڈی پیز کی مدد کیلئے 10لاکھ جبکہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے 5لاکھ روپے کا چیک دیا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنیوالوں کا جذبہ لائق تحسین ہے۔مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اجرعظیم سے نوازے گا۔انہو ں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلئے جمع ہونے والے عطیات کی ایک ایک پائی شفاف طریقے سے حقداروں تک پہنچائی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب نے پنجاب میں بے پناہ تباہی مچائی ہے۔جانی نقصان کے علاوہ املاک اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کیلئے ہر ممکن وسائل بروئے کارلارہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -