مشترکہ اجلاس کا حاصل

مشترکہ اجلاس کا حاصل
 مشترکہ اجلاس کا حاصل
کیپشن: nawaz sahrif

  


وزیر اعظم جان دے دیں گے، استعفیٰ نہیں دیں گے ، زیادہ سے زیادہ عمران کو ایک اور کینسر ہسپتال کے لئے پلاٹ دے دیں گے، پیسے بھی دے دیں گے، لیکن استعفیٰ نہیں دیں گے، یہ ہے تین ہفتے تک جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا حاصل!

ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو پوری پارلیمنٹ مل کر بھی عمران خان کو قائل نہیں کر سکی ہے، وہ ڈٹ کر پارلیمنٹ کے دروازے پر کھڑے ہیں، کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ لے کر جائیں گے ،استعفیٰ نہ ہوا کسی دوشیزہ کا ہاتھ ہوگیا جسے ہر حال میں عمران خان لے کر ہی جائیں گے !

دوسری جانب وزیر اعظم استعفیٰ نہ دینے پر بالکل اسی طرح بضد ہیں جس طرح کبھی جنرل مشرف فوجی وردی نہ اتارنے پر بضد تھے!

بہرحال لگتا یہ ہے کہ عمران خان بھی استعفیٰ لے کر دم لیں گے ، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ استعفیٰ ان کے کام نہیںآئے گا، کیونکہ ان کا ایجنڈا استعفیٰ نہیں انتخابات میں دھاندلی ثابت کرکے اپنی وزارت عظمیٰ کی راہ پکی کرنا ہے، لیکن لگتا ہے کسی نے کہہ دیا ہے کہ انہیں تب ہی وزیر اعظم بنایا جائے گا جب وہ وزیر اعظم سے استعفیٰ لے کر دکھائیں گے، اسی لئے عمران خان سیاست دان کی بجائے ایک کرکٹر کی طرح ہر گیند پر لڑنے مرنے پر تیار لگ رہے ہیں، حالانکہ سیاست میں اس طرح کی کیفیت آخری راؤنڈ میں ہوتی ہے لیکن عمران خان پہلی بال کو ہی آخری بال سمجھے ہوئے ہیں، گھر سے ہی لڑنے مرنے کے موڈ میں نکلے ہیں، دوسرے لفظوں میں کفن پہن کر نکلے ہیں اور اب صرف اس قبر میں اتر سکتے ہیں جو طاہرالقادری صاحب کے کارکنوں نے ان کے لئے تیارکر رکھی ہے، اگر وزیر اعظم چھا گئے تو شیخ رشید کو بھی ڈی چوک اسلام آباد میں کھودی گئی سیاسی قبروں میں کسی ایک قبر کا اتنخاب کرنا پڑے گا!

استعفیٰ لینے کا طریقہ ہوتا ہے، عمومی طور پر باس لوگ ملازمین سے استعفیٰ لیتے ہیں یا پھر ایسے حالات پیدا کردیئے جاتے ہیں کہ ملازم خود ہی استعفیٰ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے، عمران کسی بھی طرح سے وزیر اعظم کے باس نہیں ہیں، البتہ انتخابات سے قبل بھارتی ٹی وی اینکر کرن تھاپر سے انٹرویو میں ضرور انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کے باس ہوں گے، وہ انتخابات نہ جیت سکے اور یوں نواز شریف آرمی چیف کے باس بن گئے ، چونکہ عمران نہ تو وزیر اعظم کے باس ہیں اور نہ ہی وہ ایسے حالات پید ا کرنے میں بھی ابھی تک کامیاب ہو سکے ہیں کہ وزیر اعظم تنگ آکر استعفیٰ دیں اور گھر کی راہ لیں، جب یہ دونوں کام نہیں ہو سکے ہیں تو پھرعمران خان کیونکر ڈی چوک میں جمے کھڑے ہیں، کیا انہیں سمجھانے والا کوئی نہیں ہے!

عمران خان کی ایسی ہی کیفیت انتخابات سے قبل تھی جب وہ ٹی وی پروگراموں میں لکھ لکھ کر دے رہے تھے کہ وہ ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں، ان کے تیقن کو دیکھتے ہوئے اکثر کو شک ہوتا تھا کہ ضرو ر کوئی دماغی خلل ہوگا جس وجہ سے وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں لیکن چونکہ اس وقت تک وہ کرین سے گرے نہ تھے اس لئے لوگوں کا شک یقین میں نہیں بد ل رہا تھا، بہر حال انتخابات ہوئے تو انہوں نے نتائج کو تسلیم کر لیا اور ایک موثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا، پھر اچانک سے سرگرم ہو گئے، پہلے جیوٹی وی کی خبر لی، پھر سابق چیف جسٹس کی اور آخر میں نواز شریف کے خلاف لانگ مارچ پر نکل کھڑے ہوئے اور دھرنے کے نام ہر شام مرنے مارنے کی باتیں شاتیں کرکے گھر کی راہ لیتے ہیں، فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اب وہ ٹی وی اینکروں کو لکھ لکھ کر نہیں دے رہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دے دیں گے ، بس یہ بتاتے ہیں کہ وہ تھکنے والے نہیں، شکر ہے ابھی وہ لکھ کر نہیں دیتے کہ وہ تھکنے والے نہیں!

استعفیٰ انسان کی عزت بھی ہوتا ہے اور ذلت کا سبب بھی، اصولوں کی خاطر دیا جائے تو استعفیٰ عزت کا سامان بنتا ہے اور اپنی حرکتوں کے سبب دیا جانے والا استعفیٰ انسان کی ذلت ہوتا ہے، استعفیٰ آخری حد ہوتی ہے برداشت کی ، تعلق کی ، مفاد کی اور عناد کی، اس سے آگے کچھ نہیں ہوتا، وزیر اعظم جمہوریت کی خاطر مستعفی ہونے کو تیا ر نہیں ہیں اور عمران خان جمہوریت کی خاطر استعفیٰ لئے بغیر جانے کو تیار نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام دونوں کو مسترد کردیں، یہ شطرنج کی چالیں ہیں، انتہائی چابکدستی سے چلنی پڑیں گی!

عمران استعفیٰ اس لئے چاہتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے جس کا فائدہ نواز شریف کو ہوا ہے ، لیکن انتخاب تو عمران خان نے بھی جیتا ہے، یہ الگ بات کہ عمران خان نے جیتنے کے عمل کو اس قدر بے وقعت کر دیا ہے کہ لگتا ہے کہ انہوں نے کبھی انتخاب لڑا ہی نہ تھا اور اب اچانک انہوں نے استعفے کی رٹ لگالی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ان کے ہوش ٹھکانے نہیں، وہ نہیں جانتے کہ وزیر اعظم سے وزارت نہیں بلکہ ان کی برخاستگی مانگ رہے ہیں، ان کو شایان شان جواب ضرورملنا چاہئے، کم از کم جس کنٹینر پر چڑھے ہوئے ہیں اس کے ٹائروں کی ہوا نکال دینی چاہئے!

مزید :

کالم -