نوازشریف مستعفی ہو بھی جائیں تو تبدیلی کیا آئے گی؟

نوازشریف مستعفی ہو بھی جائیں تو تبدیلی کیا آئے گی؟

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آج (اتوار) کراچی میں مزار قائد پر جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے جلسہ کے انعقاد کی اجازت دے دی ہے۔عمران خان کے بقول اب سونامی اسلام آباد سے کراچی آ رہا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیراعظم مستعفی نہیں ہو جاتے، ادھر پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے دھرنے کے اختتام اور حکومت کے دھڑن تختے کی تاریخ متعین کر دی ہے۔ان کے بقول دھرنے کو چالیس دن ہو جائیں گے تو حکومت کا تختہ الٹ جائے گا اسے ہمارے ایک دوست نے چالیسواں قرار دیا تھا۔

دونوں حضرات کے الگ الگ اعلانات نے دھرنوں کے ختم ہونے کی آس ختم کر دی اور ان دھرنوں کے باعث جو کام رکے ہوئے ہیں ان کو مکمل کرنے کی درخواستیں جانا شروع ہو گئی ہیں، متعدد سفارت خانوں سے متعلق ویزا وغیرہ کے امور تاخیر کا شکار ہیں اور نئی صورت حال میں یہ اور مشکل ہو جائیں گے۔

یہ سب اپنی جگہ، اب پاکستان کے شہریوں نے یہ دریافت کرنا شروع کر دیا ہے کہ کیا وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے استعفے کے بعد حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور ملک میں یکایک مہنگائی ختم ، روپے کی ریل پیل اور لوڈشیڈنگ وغیرہ کے مسائل باقی نہیں رہیں گے اور یہ آئین کے کس قاعدہ، کلیئے اور قانون کی شقوں کے مطابق ہوگا، مسلم لیگ(ن) کو قومی اسمبلی میں واضح ترین اکثریت حاصل ہے اور تبدیلی ہو بھی جائے تو وزیراعظم بھی مسلم لیگ (ن) ہی کا ہوگا۔اگرچہ ایسا کوئی امکان نہیں۔ اس صورت میں عمران خان استعفیٰ لے کر کیا حاصل کریں گے ان کو اس وقت انتخابی اصلاحات، انتخابی دھاندلی اور دوسرے مطالبات منوانے کی حیثیت حاصل ہے جو مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے لیکن یہ سلسلہ تو ختم ہو گیا ہوا ہے، اسی لئے تجویز کیا جا رہا تھا کہ وہ اپنے مطالبات جائز طور پر پورے کراکے دھرنا ختم کر دیں کہ عزت رہ جائے گی۔

دوسری طرف ڈاکٹر طاہر القادری ہیں، جنہوں نے باقاعدہ خیمہ بستی آباد کرلی ہے وہ حکومت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ سوال پھر یہی ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ ڈاکٹر طاہرالقادری کے پیغام انقلاب پر تو عمل اقتدار میں آکر ہی کیا جا سکتا ہے تو ان کا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت جائے گی تو قبضہ ان کو مل جائے؟ یہ کیسے ممکن ہے، ملک میں ایک آئین موجود ہے اور اس کے مطابق تبدیلی کا طریق کار بھی ہے جو دھرنوں کے ذریعے تو بالکل نہیں، چنانچہ یہ تضادات موجود ہیں تو مطالبات اور ان کے پوری طرح مکمل فضا اور زمینی حقائق سازگار نہیں ہیں، انہی حالات میں حکومت نے مفاہمت اور مذاکرات کا سہارا لیا لیکن بات نہیں بنی کہ جو باتیں مشترکہ طور پر منظور بھی ہونے والی ہیں وہ بھی بعض اختلافات کی وجہ سے عمل پذیر نہیں ہو پا رہیں، اسی لئے شاید اب حکومت مختلف دوسرے آپشنز پر بھی غور کررہی ہے۔

ملک میں امن و استحکام کی ضرورت ہے جو ہوتا نظر نہیں آ رہا، عوام پریشان ہی ہیں۔نہ جانے کب دھرنا ختم ہوگا۔

تبدیلی

مزید :

تجزیہ -