انسانی سمگلروں کے ہاتھوں بحیرہ عرب میں تارکین وطن کے قتل عام کا انکشاف

انسانی سمگلروں کے ہاتھوں بحیرہ عرب میں تارکین وطن کے قتل عام کا انکشاف
انسانی سمگلروں کے ہاتھوں بحیرہ عرب میں تارکین وطن کے قتل عام کا انکشاف

  

لندن (ویب ڈیسک) بارہ ستمبر کو یورپ جانے کے خواہشمند ایشیائی تارکین وطن کی کشتی کو بحیرہ روم میں مصر سے تعلق رکھنے والے انسانی سمگلروں نے اس وقت جان بوجھ کر تباہ کرتے ہوئے ان کا قتل عام کیا جب اس بڑی کشتی میں سوار مسافروں نے چھوٹی کشتیوں میں منتقل ہونے سے انکار کردیا تھااوراس واقعہ میں کم از کم 300 تارکین ڈوب گئے۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق بچ جانے والے تین متاثرین نے بتایا کہ یہ قتل عام سمگلروں نے مسافروں کی طرف سے چھوٹی کشتیوں میں سوار ہونے سے انکار پرکیا، جان بوجھ کر دوسری کشتیوں کو اس بڑی کشتی میں مار کر اسے ڈبودیا جب تارکین وطن سے بھری ہوئی کشتی ڈوب رہی تھی اور لوگ مررہے تھے تو انسانی سمگلر انہیں دیکھ کر تمسخر اڑارہے تھے اور اسی طرح ان کو ڈوبتا ہوا چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے۔

دوران تفتیش فلسطین سے تعلق رکھنے والے تیئس سالہ محمد علی آمد لانے بتایا سارے راستے روشن مستقبل کا خواب آنکھوں میں لیے دوسرے ممالک کا رخ کرنیوالوں کے ساتھ کتوں جیسا سلوک کیا گیا لیکن مصری سمگلر سب سے بدترین تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کشتی کو ٹکر مارنے کے بعد وہ اس وقت تک وہاں موجود رہے جب تک کشتی پوری طرح ڈوب نہیں گئی۔  سانحے میں بچ جانے والے تیرہ اشخاص نے اپنی شہادتوں میں بتایا ہے کہ بڑی کشتی میں سوار آدھے لوگ تو فوراً ڈوب گئے لیکن جو وقطی طور پر بچ گئے تو وہ دو تین دن تک بے یارومددگار کھلے سمندر میں تیرتے رہے اور جب ان کے لئے امداد پہنی تو اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی اور بیشتر کھلے سمندر کی نذر ہوچکے تھے۔

ستائیس سالہ مامون دوگموش نے بتایاکہ اُنہوں نے ایک پورے شامی خاندان کو ڈوبتے دیکھا، جب ایک شخص زندگی بچانے کیلئے انسانی سمگلروں کی کشتی کے ساتھ لٹک گیا تو انہوں نے اس کے بازو کاٹ دئیے، ہر شخص نے انسانی سمگلروں کو چار ہزار ڈالر ادا کئے تھے اور انہیں تاریک راستوں سے مصری علاقے دیمتالائے جہاں سے انہیں ایک کشتی میں بٹھایا گیا۔

 تارکین وطن کی تنظیم آئی او آیم کے مطابق 2014ءمیں بحیرہ روم میں 2900 تارکین و طن ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔ مالٹا کے وزیراعظم جوزف موس کیٹ نے بتایا کہ یورپ کی طرف بڑھنے والے تارکین وطن کی تمام ذمہ داری جنوبی یورپ کے دو ملکوں، مالٹا اور اٹلی پر آن پڑی ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -