شہری پرائیویٹ علاج کو ترجیح دینے لگے

شہری پرائیویٹ علاج کو ترجیح دینے لگے
 شہری پرائیویٹ علاج کو ترجیح دینے لگے

  

 پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک ) خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ شہری پرائیویٹ علاج کرانے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں سے خیبرپختونخوااورفاٹا کے علاوہ افغانستان کے لوگوں کے لئے علاج کا بندوبست پشاورکے ذمے ہے، یہاں موجود سرکاری ہسپتالوں کی اوپی ڈیز میں کم ازکم 10 ہزارلوگ روزانہ علاج کرانے آتے ہیں لیکن ان سے کم ازکم تین گنا زیادہ لوگ پرائیویٹ علاج کے سب سے بڑے مرکزڈبگری گارڈن سے علاج کرانے جاتے ہیں۔اسکے علاوہ خیبر بازار، نشتر آباد، جی ٹی روڈ، چارسدہ روڈ، یونی ورسٹی ٹاﺅن اور حیات آباد میں بھی علاج کے ایسے بڑے بازارروزانہ سجتے ہیں جہاں آنےوالے اپنی اوقات اوراستطاعت سے زیادہ خرچ کرکے شفا خریدتے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت کے مطابق صرف چند مریض ان بازاروں میں آتے ہیں لیکن محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق روزانہ 30 سے 50 ہزار مریض ڈاکٹروں کی نجی کلینکس اور نجی ہسپتالوں میں علاج اور طبی معائنے کے لئے جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ڈبگری گارڈن کی گلیوں میں مسلسل بننے والے یہ نجی ہسپتال اور ان میں مریضوں کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کو سرکار ی ہسپتالوں کی بجائے ان پرائیوٹ علاجگاہوں پر زیادہ اعتماد ہے۔

مزید :

پشاور -