وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو محبت کو نفرت میں بدل دیتی ہیں

وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو محبت کو نفرت میں بدل دیتی ہیں
وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو محبت کو نفرت میں بدل دیتی ہیں

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) محب ایک ایسا لطیف جذبہ ہے جو دلوں میں خوشگوار امنگوں کے دیپ جلاتا ہے لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ جن محبتوں کے کبھی نہ مٹنے کے دعوے کئے جاچکے ہوتے ہیں وہ نفرت میں تبدیل ہوتی ہیں، شدتیں بدل جاتی ہیں۔ یہ تبدیلی عمومی طورپر جن عوامل پر منحصر ہوتی ہیں ، وہ درج ذیل ہیں ۔

دھوکہ

جب محبت کرنے والا دھوکہ دہی کرے تو اس سے برافعل کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ جب ایک فریق اس جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو دوسرے فریق کی ساری محبت نفرت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دوسرا فریق اس بات کی توقع ہی نہیں کررہا ہوتا کہ اس کے ساتھ اس قدر محبت اور گرم جوشی سے اظہار کئے گئے جذبات کے پیچھے کوئی دھوکہ دہی بھی ہوسکتی ہے۔ عام طور پر دھوکہ دہی کا جرم ناقابل معافی ہوتا ہے اور یہی چیز تعلقات میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔

ساتھی پر غالب آنے کی کوشش یا حسدکرنا

محبت کے نفرت میں تبدیل ہونے کی یہ وجہ بہت ہی مضبوط ہے۔ اس کی تشریح اس طرح سے ہوسکتی ہے کہ اکثر اوقات آپ اپنے محبوب کے سامنے کسی دوسرے کی کسی ایک خوبی کی تعریف کردیں یا اس کے کسی فعل کو اچھے الفاظ میں بیان کردیں تو بس یہاں حسد کا جذبہ ابھرے گا اور ایک دراڈ پیداہوجائے گی، جب آپ ضرورت سے زیادہ محبت جتانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر شک کی ایسی صورتحال میں گھر جاتے ہیں جہاں بات بات پر سوال اٹھتے ہیں اور آپ اپنے ساتھی کے شک کا شکار ہونے لگتے ہیں، اس کا اعتماد کھودیتے ہیں۔ محبت کرنے والا چڑ جاتا ہے اور اس تھانیدارانہ انداز گفتگو کر اپنے اوپر گراں خیال کرکے ان محبت کی رسیوں کو تڑوا کر آزادی کا سانس لینے کا سوچتا ہے، تو یہ محبت نفرت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

اظہار کی کمی

اگرچہ محبت کچھ کر گزرنے کا اور قربانی دینے کا نام ہے لیکن اس کے باوجود محبتوں کی بنیاد رومانیت پر منحصر ہوتی ہے۔ آپ اپنے محبوب کیلئے کیسی زبان استعمال کرتے ہیں۔ مکالمہ بازی کسی نوعیت کی ہوتی ہے اور اپنے اظہار کیلئے کونسے الفاظ اور طریقے استعمال کرتے ہیں۔ گویا سیدھے الفاظ میں رومانس کی کمی محبت کو نفرت میں بدل دیتی ہے۔

گفتگو سے عاری

کم گو لوگوں کی محبت میں کمی نہیں ہوتی لیکن یہ کم گوئی کی عادت محبوب سے دور کرسکتی ہے۔ آخر محبوب چاہتا کیا ہے؟ تعریف کے دو بول اور داد تحسین ، اپنی خوبصورتی اور دلکشی کو اُس کے منہ سے سننے کی آس محبوب کو ہوتی ہے۔ محبت کی مضبوطی کیلئے گفتار کا ہونا ضروری ہےورنہ کچھ عرصہ بعد بوریت کا شکار ہونے لگتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محبت نفرت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

غصہ

غصہ محبت کو کھاجاتا ہے اس لئے کہ یہ نفرت کا بھرپور عکاس ہوتا ہے اور غصے میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ محبت تو خوبصورت الفاظ کی محتاج ہوتی ہے اور ایک ایسا کردار جس کیلئے آپ آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے دعوے دار ہوتے ہیں اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا چکے ہوتے ہیں اور پھر اچانک غصے کی حالت میں اس کو ہی کھری کھری سنادیتے ہیں جس کا وہ عادی نہیں ہوتاتو یہی وہ منحوس لمحہ ہوتا ہے جب وہ آپ کے سارے پیار اور پیار بھری باتوں کو یکسر بھول جاتا ہے اور اس موقع پر سنائی گئی کڑوی کسیلی باتیں محبت کو نفرت میں بدل دیتی ہیں۔

صرف بولتے ہی رہنا

محبت ہو یا نفرت، اعتدال پسندی بہترین حکمت عملی ہے۔ ایک طرف کم بولنا اور محدود گفتگو محبت میں مناسب نہیں تو دوسری طرف حد سے زیادہ بولنا بھی نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ ایک پارٹنر یکطرفہ بولتا ہی چلا جائے اور دوسروں کوبولنے کاموقع بھی ملے تو خرابی پیدا ہوتی ہے۔ آخر اسے بھی تو اپنے جذبات کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنی محبت کیلئے بولے جانے والے مکالمات کس کو سنائے، بس زیادہ بولنے کی یہی خرابی محبت کو خسارے میں لے جاتی ہے۔

لڑنا جھگڑنا

محبت کرنے والا غالباً محبوب کو اپنی پراپرٹی سمجھنا شروع کردیتا ہے اور اس پر اسی طرح سے رعب جھاڑتا ہے گویا زرخرید غلام ہو۔ محبت کا لیول کچھ بھی ہو لیکن آخر جذبات تو ہر کسی کے ہوتے ہیں۔ آپ ایک طرف اپنے محبوب پر جان نچھاور کریں اور دوسری طرف ہر بات کو بنیاد بنا کر لڑائی جھگڑے کی کیفیت کو نہ صرف پیدا کرنے بلکہ اس کو ہوا دیتے رہنے سے بھی محبت کا نقصان ہوجاتا ہے۔

جھوٹ بولنا

جھوٹ محبت کو کھا جاتا ہے، سادہ سی بات ہے کہ محبت میں کردار کو اہمیت دی جاتی ہے۔ آپ کا محبوب آپ کی کسی خوبی کو بنیاد بنا کر محبت کے دائرے میں داخل ہوتا ہے یا داخل کرتا ہے اور اگر آپ اسی سے غلط بیانی کرتے یا جھوٹ بولتے ہوئے موقع پر پکڑے جاتے ہیں تو گویا سمجھ لیں کہ اس کے خیالات کا تاج محل زمین بوس ہپوگیا اور پھر سمجھ لیں کے محبت نفرت میں بدل گئی۔

بدلاﺅ

کسی کا عادی ہوجانا یا کسی کو عادی کرلینا آپ کے بس میں ہے ،یہ آپ کے اعمال اور رویوں پر منحصر ہے۔ آپ اپنے محبوب کی عادتیں بدل دیتے ہیں لیکن اگر آپ اس کی فطرت کو تبدیل کرنا چاہیں اور ہر شے اپنی مرضی کی تھوپنا چاہیں تو معاف کریں یہ تباہی ہوگی۔ ایک خاص حد تک تبدیلی قابل قبول ہوتی ہے لیکن تجاوز ہمیشہ بگاڑ پیدا کرتا ہے۔

وقت نہ دینا

یوں سمجھئے کہ محبت وقت مانگتی ہے اور سانس بھی لیتی ہے اور سانس لینے کیلئے آکسیجن درکار ہوتی ہے۔ انسانی محبت میں کسی کو وقت دینا گویا اپنی محبت کو آکسیجن دینے کے مترادف ہے۔ بس مختصر سی بات کہ آپ کی مصروفیت اور وقت نہ دینا محبت کے لئے قیامت ثابت ہوسکتی ہے جہاں وہ اسی شدت سے نفرت میں تبدیل ہوتی ہے جس شدت کا محبت کا وجود ہوتا ہے۔ اس لئے جس سے محبت کرتے ہیں اسے اپنے تمام مصروفیات سے اہم جانیں۔

مزید :

تفریح -