دنیا کا قدیم ترین پراسرار قبیلہ کیسے زندگی گزارتا ہے؟

دنیا کا قدیم ترین پراسرار قبیلہ کیسے زندگی گزارتا ہے؟
دنیا کا قدیم ترین پراسرار قبیلہ کیسے زندگی گزارتا ہے؟

  

تنزانیہ(نیوزڈیسک)اس سے پہلے دنیا کو اس قدر سہولتیں کسی دور میں حاصل نہ تھیں ہم ایک بٹن دبا کر چینل بدل سکتے ہیں۔ ہماری غذائیں ترقی کر چکی ہیں اور ہوم ڈلیوری کی سہولت حاصل ہے ہمیں جدید طبی سہولتیں بھی میسر ہیں اور صحیح تعلیم بھی ایک مختصر سے عرصے میں زندگی کسی قدر باسہولت ہو گئی ہے۔لیکن ان سب آسانیوں کے باوصف ہم اس قدر ذہنی دباﺅ کا شکار کیوں ہیں؟ کیا ہم اپنے اسلاف کا پڑھا ہوا سبق بھول چکے ہیں۔ افریقہ کا ہیڈزا قبیلہ اب بھی موجود ہے جسے دیکھ کر ہم ماضی کی جھلک دیکھ سکتے۔ افریقہ کے شمال میں تنزانیہ کی جھیل آئیاسی کے کنارے پر رہائش پذیر شکار پر گزر بسر کرنے والا دنیا کا یہ آخری قبیلہ ہے ان کی خوراک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نہ ہی انہوں نے رہنے کے لئے اہرام تعمیر کئے ہیں اور یہ قبیلہ آج بھی دس ہزار سال پرانی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ان کی اپنی ایک دنیا ہے جو ہر فکر سے آزاد ہے آج کی جدید دنیا جس کا تصور ہی کر سکتی ہے انہیں زندہ رہنے کا ہنر آتا ہے وہاں ٹیکسٹ میسج اور فون کال کی سہولیات میسر ہیں نہ ہی کاریں اور بجلی میسر ہے۔ وہاں پر کوئی نوکری نہیں کرتا، کوئی کسی کا باس نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی مذہبی ڈھانچہ ہے۔ اس قبیلے میں کوئی قانون موجود نہیں، کوئی ٹیکس ادائیگی کا مسئلہ نہیں، نہ ہی ان کے پاس دولت ہے جہاں تک دولت کا سوال ہے تو کبھی کبھار ساتھ والے قبیلے کے ساتھ تجارت ہو جاتی ہے۔ اس قبیلے کے مردوں کی روزمرہ مصروفیات میں شکار شامل ہے جو انہیں وہاں کی شدید اور گرم آب و ہوا میں کرنا ہوتا ہے، جس مقام پر وہ رہتے ہیں وہاں خاردار جھاڑیوں، زہریلے سانپوں اور آدم خور شیروں کی بہتات ہے، لیکن ایک کامیاب شکار، مہم اور کھانے اور بھوک لگنے کے درمیان فرق ہے۔ ہیڈزا کے تقریباً ایک ہزار لوگ غاروں میں زندگی بسر کرتے ہیں جہاں جنوبی علاقے میں نسل ِ انسانی کے ابتدائی ڈھانچے دریافت ہوئے ہیں۔ جدید معیارات کے لحاظ سے ہیڈزا کو موجود نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ یہ ایک غیر معمولی قسم کی بے ضابطگی تصور ہوتی ہے اور اب تو قبائلی دور کو فراموش کر دیا گیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -