پارلیمنٹ اور سماجی انقلاب

پارلیمنٹ اور سماجی انقلاب
 پارلیمنٹ اور سماجی انقلاب

  

کیا منتخب قیادتیں پھر تصادم کی راہ پر گامزن ہیں ۔ کیا کوروں،پانڈؤں کی جنگ سماج کو دوبارہ متضاد سوچوں کے دریا میں ڈبو دے گی؟ ۔ نئی صف بندیوں سے قبل بزرجمہروں کو سماج کے کملائے چہرے پر بھی نظر دوڑانی ہوگی ۔ یہ وہی معصوم چہرہ تھا جس نے مسرتوں کی چاہ میں آمریتوں کو برداشت کیا۔ جس نے خوشبو آمیز ہواؤں کی آس پہ جمہور کا استقبال کیا اور جس نے عدل کے نعرے پہ قانون پرستوں کے افکار آنکھوں میں سجائے۔۔۔ لیکن ہو ا کیا؟ شخصی آمریتوں نے مسرتوں کی تلاش میں بھٹکتی روحوں کو قلعوں میں دفن کر دیا، ہوائیں اپنے باغوں تک مقید کر لیں اور قانون پرست تو عدل کا سپنا مکمل ہونے سے قبل ہی خریدار ڈھونڈنے نکل پڑے۔

کیا قیادتوں کی تبدیلی اورنئے چہروں کی تلاش سماجی انقلاب کو روک پائے گی؟ بہت ہی مشکل۔ عظیم سیاسی و عسکری اتفاق رائے کے بغیر بہتر سماجی ڈھانچے کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ بصورت دیگر تبدیلی کی چاپ بڑی واضح ہے۔ سوچوں کے جنگل میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ پرانا سماج تتر بتر ہو رہا ہے اور کسی کو بروئے خاطر لانے پر تیار نہیں۔ وجوہات بڑی واضح ہیں۔ عوام زندگی کی بازی ہار رہے ہیں، اشرافیہ یاقوتی شطرنجیں ترشوانے میں مصروف ۔ گلے گرانی کا رونا روتے خشک ہو چکے ، رہنما کندھے اچکاتے روایتی سرگرمیوں تک محدود۔ بھلاالہامیت کی کوئی مجبوری ٹھہری جو کرپٹ سماج کو بچائے؟ ذہنی بوسیدگی کی خاطر حدیں کسی صورت نہیں بدلی جاتیں۔بالادستوں سے کس نے کہہ دیا فطرت بدمعاشیوں پر چپ رہتی ہے؟۔ بااثروں نے کیونکر سمجھ لیا غریب کے حصے میں شکست ہی آتی ہے؟افسرشاہی عظیم فسادروکنے کے لئے کیا کر رہی ہے؟

پُرجوش ، وطن پرست پاکستانی عوام، ایک ایسی عظم الشان نعمت جو بہتر پاکستان کے لئے مکمل تعاون پر تیار بیٹھی ہے۔ عرب سماج تبدیلی پر آمادہ نہیں۔ ہندوستانی غربت کے ہاتھوں ہار مان کر تبدیلی کی سکت کھو بیٹھے۔ وسطی ایشین کیپیٹل اور سوشل ازم کے بیچ اٹکے ہوئے۔ یورپین تھنک ٹینک بعد از کیپیٹل ازم کے اثرات کی خوفناکیوں سے پریشان اور افریقن سماج کا آگے بڑھنے کی بجائے وارلارڈز کلچر کی طرف واپسی کا سفر۔ چند سالوں میں فقط چند سالوں میں پاکستانی سماج نے وہ کچھ حاصل کر لیا جسے عظیم کامیابی سے تعبیر نہ کرنا بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ عورت ہو یا مرد سبھی یک زبان ہوکر معاشرے کو تبدیل شدہ حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ منظم، پائیدار اور خوبصورت تبدیلی آتی ہی اس وقت ہے جب معاشرتی قبولیت کی سند حاصل ہو جائے۔اس قبولیت کے لئے پارلیمنٹ سے بڑا کوئی پلیٹ فارم نہیں۔

کیا یہ حقیقی تبدیلی نہیں لوگ سیاستدانوں کی باہمی لڑائیوں میں فریق بننے کی بجائے اکتاہٹ کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں؟ کیا لوگ جاگ پنجابی جاگ، سندھو دیش، آزاد بلوچستان جیسے نعرے لگانے والوں سے اجنبیوں سا سلوک نہیں کر رہے؟کیا اکثریت اداروں کے حاکمانہ طرز عمل سے تنگ نہیں آچکی؟ کیا بہتر پاکستان کی خاطر ذرہ بھر ہی سہی کوشش کرنے والوں کو لوگ سر آنکھوں پر نہیں بٹھارہے؟۔ سارے اعشاریے چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں پارلیمانی قوتوں کو عوامی خواہشات کے مطابق نیا لائحہ عمل ڈیزائن کرنا ہوگا۔اور یہ نیا لا ئحہ عمل کیا ہے؟ گلی کوچوں ، کھیتوں کھلیانوں سے اٹھتی آہوں اور امیدوں پر پورا اترنے کی سعی۔ سبھی سیاست دان مانتے ہیں ادارے صحیح کام نہیں کر رہے، کرپشن وسائل چاٹ چکی ،قانون امیر کی لونڈی غریب کا حاکم بن چکا اور 13کروڑ نوجوانوں پر مشتمل مُلک کا 63فیصد بیروزگاری، جرم کی دلدل میں مسلسل دھنستا چلا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ سنے، حالات کب تک یونہی رہیں گے؟ خدشات بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور بڑے لیڈرز بدستور سر جوڑنے کے مرحلے سے قدرے فاصلے پر ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری رائے ونڈ پہنچے۔ مختصر سی پریس کانفرنس میں کہا ’’بہتر پاکستان کے لئے ہمیں آنے والی نسلوں کا سوچنا ہے‘‘۔ اس وقت یوں لگا جیسے صف اول کے دو سیاست دان’’ معاشرتی و ادارہ جاتی ‘‘تبدیلی کے ایسے حتمی نتیجے پر پہنچ چکے، جس کے انتظار میں چھ دہائیاں ضائع ہو گئیں۔ تاہم دن، ہفتے، مہینے گزرتے گئے، انتظار کی گھڑیاں طویل ہو گئیں، لیکن تبدیلیوں کے سفر کی شروعات دوبارہ اناؤں کی سولیوں پر چڑھ گئیں۔ آصف علی زرداری اپنی تمام تر ذہانت،نئے سماجی تصور اور میاں نواز شریف کے تعاون کے باوجود ٹھوس آئینی تبدیلیوں کی جانب چند قدم ہی اٹھا پائے۔دوسری جانب عمران خان نے اپنے فہم کے مطابق تبدیلی کی عوامی خواہش کو بھانپا۔ ٹاک شوز، اخباری انٹرویوز اور جلسوں کے ذریعے ادارہ جاتی تبدیلی کے تصور کو نوجوانوں کے ذہنوں میں راسخ کیا۔ لوگ دھیرے دھیرے ان کی بات پر توجہ دینے لگے حتی کہ وہ لمحہ آن پہنچا جب مینار پاکستان کی گراؤنڈ تبدیلی کے نعروں سے گونج اٹھی۔

انتخابات ہوئے، نتائج پر عدم اعتماد سامنے آیا، دھرنوں کا موسم شروع ہوا اور یہیں عمران خان بھی وقتی ضد کی سولی چڑھ گئے۔ یہ ایسا سنہری لمحہ تھا، جس میں حکومت عمران خان کے تصور تبدیلی کے دس نکات پر عمل کو تیار تھی۔ اگر ایسا ہو جاتا تو معاشرتی اپ گریڈیشن ایک ہی جست میں کئی دہائیوں کا سفر طے کر جاتی۔ کریڈٹ کس کو جانا تھا؟ عمران خان کو، ابھی بھی وقت عمران خان کے ہاتھوں میں ہے۔ قومی نہ سہی خیبرپختونخوا کی اسمبلی ان کی بات سننے پر آمادہ ہے۔ عمران خان کو کاسمیٹک تبدیلیوں کی بجائے ٹھوس ادارہ جاتی و سماجی تبدیلیوں پر کام شروع کرنا ہوگا۔ کیا خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں کرپشن کے جرم پر سزائے موت کا قانون منظور نہیں کروایا جا سکتا؟اگر وہ خود کو بدعنوانوں کا شکاری سمجھتے ہیں، تو کیوں سمندر میں ہرن ڈھونڈ رہے ہیں۔ میدان میں آئیں اور ان ادارہ جاتی سخت گیر قوانین کو منظور کروائیں جو خیبر پختونخوا کو لاء بکس کی حد تک ہی لندن، ٹوکیو کا ہم پلہ بنا ڈالیں۔وزراء کی جنگ، پارٹی ناچاقیاں اور برآمدوں میں سرگوشیاں کرتے ادنی سوچ کے حامل ممبران عمران خان کے تصور تبدیلی کو برباد کر رہے ہیں۔ اگر عمران خان پاکستان کی گلیوں ، محلوں میں دوبارہ ہلچل پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو خیبر پختونخوا میں بڑی آئینی تبدیلیوں کی طرف آئیں۔ سماج ڈسپلن کے بغیر کبھی کنٹرول نہیں کئے جاسکتے۔ ڈسپلن سخت قوانین کے نفاذ سے ہی نمودار ہوتا ہے اور قوانین کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ پولیس ہے۔

مرکز میں جناب وزیراعظم کو پہل کرنا ہوگی۔ وہ اس وقت طاقتور بھی ہیں اور پراعتماد بھی۔ خوش قسمتی سے انہیں ایسا سماج بھی دستیاب ہے جو پرانے نظاموں سے تنگ آ چکا ہے۔ لوگ نئی پولیس، نئی جیلیں،نیا عدالتی نظام، تبدیل شدہ بلدیاتی سسٹم، تعلیم اور صحت کی خاطر ہر مصیبت جھیلنے پر تیار ہیں۔ شروعات کہاں سے ہوں گی؟ جناب وزیراعظم ہم پلہ سیاستدانوں کو اکٹھا کریں۔ نظام کی اپ گریڈیشن کے لئے تجاویز کا ٹائم فریم متعین کروائیں۔ہر وزارت کا ڈیسک اپنی خوبی، خامیوں اور اپ گریڈیشن کی ضروریات سے بخوبی آگاہ ہے۔ اپ گریڈیشن بلیو پرنٹس کے لئے دنیا کے کسی بھی کامیاب رول ماڈل کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔ ٹرائل کے طور پر پاکستانی جیلوں کے نظام کو چنا جا سکتا ہے۔ ملزم جیل میں جاتا ہے۔ معائنے کے نام پر اسے تھپڑ مارے جاتے ہیں، تیس بندوں والی بیرک میں ڈیڑھ سو افراد ٹھونسے جاتے ہیں، کھانے کو جلی روٹیاں، کچی دال پیٹ میں ٹھونسی جاتی ہے۔ دوا چاہئے یا ملاقاتی آئے ہر جگہ رقم کا تقاضا۔کیا یہ بہتر نہیں جدید اور سہولتوں سے مزین جیلیں تیار کر کے نظام کو یورپین یا انسان دوست سٹینڈرڈ میں بدل دیا جائے۔ برطانیہ ، امریکہ، سویڈن کسی بھی جگہ کا ماڈل اپنا لیں اور قیدیوں کو مکمل سہولیات کے عوض سرکاری خزانے میں فیس جمع کروانے کا پابند کروائیں۔یہ کالے پانی کا دور نہیں۔ دُنیا اپنے قیدیوں تک کو آرام پہنچانے کے عوض سرکاری خزانہ بھر رہی ہے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے جو رقم خزانے میں جانی تھی وہ جیل سٹاف کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔

ادارے حکومت کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ بہتر پرفارمنس شہریوں اور حکمرانوں کے درمیان خلیج کم کرتی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے قوم مسیحا کی تلاش میں سر دیواروں سے ٹکرا رہی ہے اور مسیحا ئی کا تخت ایسے شخص کی تلاش میں ہے، جو فقط سخت گیر ادارہ جاتی و معاشرتی قوانین سازی کے ذریعے اس پر طویل عرصے کے لئے قابض ہو سکتا ہے۔ مقابلہ سخت ہے۔پنجاب میں میاں شہباز شریف ہوٹلوں کے کچنز پر چھاپوں ، فارماسوٹیکلز کے فارمولوں کی جانچ پڑتال اور گائے ، بھینسوں کے ہارمونز کے ٹیکوں پر پابندی کی بدولت معاشرتی تبدیلیوں کی جانب ’’بذریعہ سزا‘‘ قدم اٹھا چکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں عمران خان پولیس ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑی ریفارمز کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سندھ ، بلوچستان کی طرف سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کا بدستور انتظار ہے۔ ایسے اقدامات کا قصد ماضی میں بھی کیا گیا۔اب دیکھنا یہ ہوگا آیا بہتر نظام کی خاطر ورلڈ سٹینڈرڈ کو فالو کیا جاتا ہے یا ان روایتی بیوروکریٹس کی رائے کو ترجیح دی جاتی ہے، جنہوں نے ہر بہترین پالیسی کو اپنی محدود وزڈم کی بھینٹ چڑھادیا۔ سیاستدان نظام بچانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ عوامی توقعات انتہائی بلند ہیں جبکہ حکومتی رسپانس سلو۔ اس سلو پیڈلنگ کو صرف نئے قوانین کے ذریعے ہی تیز کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی دوسری قوت عوامی پذیرائی حاصل کر رہی ہے تو وہ تیز رسپانس کی ہی بدولت ہے۔

مزید : کالم