کیا جرم کی سزا پانے کے بعد بھی یہ رویہ مناسب ہے؟

کیا جرم کی سزا پانے کے بعد بھی یہ رویہ مناسب ہے؟

پانچ سال قبل میچ فکسنگ کے چکر میں پھنس کر اپنا کیریئر تباہ کرنے والے کرکٹ کے تینوں کھلاڑیوں کے ساتھ سزا کی تکمیل اور کھیلنے کی اجازت کے بعد جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ بہت ہی غیر مناسب، غیر انسانی اور غیر اخلاقی ہونے کے ساتھ ساتھ دینی لحاظ سے بھی بہتر نہیں ہے۔ تینوں کھلاڑی لالچ میں آ کر میچ فکسنگ میں ملوث ہو گئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اتنا بودا ثابت ہوا کہ اس نے ان تینوں کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر تحقیق سے گریز ہی نہ کیا، جان بھی چھڑا لی اور ان کو گوروں کے حوالے کر دیا، گوروں کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ان کو سزائے قید بھگتنا پڑی اور پھر پانچ سے دس سال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی بھی لگ گئی۔ جس دورا ن یہ نوجوان کھلاڑی جو اس وقت ٹیم کا قیمتی اثاثہ تھے، سزا بھگت رہے تھے اِسی دوران خبر بریک کرنے والے صاحب کی چال بازی اور دھوکا دہی بھی سامنے آ گئی، اسے سزا بھی ہوئی اور اخبار بھی بند ہو گیا۔ اس کیس میں یہ بھی ظاہر ہوا کہ ہمارے مُلک کے تینوں کھلاڑیوں کو سازش کے تحت تاک کر پھنسایا گیا اور وہ لالچ میں آ کر جرم کر بیٹھے۔ اب اس جرم کی سزا بھگت چکے۔ آئی سی سی نے ان کو کھیلنے کی اجازت دے دی اور وہ خود بھی مسلسل اپنے کئے پر پشیمان ہیں اور بار بار معافی مانگ رہے ہیں، اِس امر کے باوجود کہ وہ اپنے جرم کی سزا بھگت چکے، اب وہ اخلاقی، قانونی اور دینی لحاظ سے صاف ہیں، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی کھلاڑی جان بوجھ کر ان کی تحقیر کر رہے ہیں، اس سے بہتر تھا کہ آئی سی سی نے رعایت کر کے اجازت دے دی تو خود پاکستان کرکٹ بورڈ ان کو نئی سزا دیتا اور تاعمر کرکٹ کے کھیل سے محروم کر دیتا، یا پھر ان کو قواعد کے مطابق کھیلنے کی اجازت نہ دیتا، ان کو اجازت دے کر موقع نہیں دیا جا رہا اور ساتھی کھلاڑی طنز کے تیر برساتے ہیں۔ یہ غیر مناسب رویہ ہے وہ کئے کی سزا پا چکے اب کرکٹ بورڈ کے سپرد ہیں اور کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا بھی خوفزدہ ہیں۔ اگر ان کو نہیں کھلانا تو واضح اعلان کر دیا جائے اور اگر کھلانا ہے تو کس حیثیت سے آغاز ہو۔ یہ درست نہیں کہ جرم کیا، سزا بھگتی اب ان کو ساری عمر کے لئے تو محروم نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا ان کے ساتھ انسانی حقوق، بنیادی حقوق والا سلوک کیا جائے۔ ان کو مسلسل ذلیل نہ کیا جائے،رہ گیا ان کے کھیلنے کا مسئلہ تو ممکن ہے بعض حضرات کو اپنی پوزیشن کا خدشہ پریشان کر رہا ہو، حالانکہ ایسا نہیں، اگر ان تینوں میں اب بھی ٹیلنٹ ہے تو ٹھیک ورنہ وہ کسی بھی سلیکشن کے قابل نہیں ہوں گے، اس لئے معذرت ہوئی تو ہو جانے دیں۔

مزید : اداریہ