زمبابوے اور انگلینڈ کیخلاف قومی ٹیم عمدہ پر فارمنس دکھائیگی ،وقار یونس

زمبابوے اور انگلینڈ کیخلاف قومی ٹیم عمدہ پر فارمنس دکھائیگی ،وقار یونس

لاہور ( سپورٹس رپورٹر) قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ میرا فوکس زمبابوے اور انگلینڈ کی سیریز ہے اور دونوں ٹیموں کو آسان نہیں لیں گے ۔ قذافی سٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی سیریز اہم ہے اور اس میں کامیابی کے لئے کافی محنت کرنا پڑے گی۔ مختلف ٹیموں کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں اچھی پرفارمنس کے بعد مجھے پوری امید ہے کہ انگلینڈ کو بھی ہرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ہماری ٹیسٹ سائڈ اچھی ہے۔ بیٹنگ بھی گزشتہ ایک سال سے اچھا پرفارم کررہی ہے ۔ٹیم تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور جس جذبہ کے ساتھ اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کوشش ہے کہ انگلینڈ کے خلاف بھی اسی جذبہ کے ساتھ میدان میں اتریں گے زمبابوے کے خلاف سیریز کے لئے کوئی خاص حکمت عملی تیار نہیں کی جس طرح کھیلتے آرہے ہیں اسی طرح کھیلیں گے اور زمبابوے کی وکٹیں دیکھ کر حتمی ٹیم میدان میں اتاریں گے۔ زمبابوے کے خلاف سیریز سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ ورلڈ کپ میں ابھی کافی وقت پڑا ہے اور اس سے قبل ہونے والی سیریز میں کھلاڑیوں کی پرفارمنس کے بعد اچھا کمبی نیشن بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے تاہم تیز کرکٹ کی وجہ سے ون ڈے اور ٹی 20 میں تجربات کیے جاسکتے ہیں ، میری کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے ، ڈیو واٹمور کاکوچنگ کا اپنا انداز تھا میرا اپنا ہے ۔ ڈیو واٹمور نے کافی عرصہ پاکستان ٹیم کی کوچنگ کی ہے اور اپنا تجربہ شیئر کیا ہے۔ ان سے میرے ساتھ مقابلہ کی بات کرنا صحیح نہیں ہے ، یاسر شاہ اچھا اسپنر ہے ، عمران خان کی پرفارمنس نے سب کو متاثر کیا ۔ اس کی اتنی سپیڈ نہیں ہے لیکن ٹی 20 کرکٹ کے لئے اسکے پاس اچھی ورائٹی ہے ۔انور علی کو انجری کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا اور فٹ ہونے پر وہ مستقبل میں ہونے والی سیریز میں ٹیم کا حصہ ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگوں کو میرا طریقہ کار پسند ہے اور کچھ کو نہیں ۔اگر تنقید کرنے والے مثبت تنقید کریں اور اسکا فائدہ کرکٹ کو ہو تو خوش دلی سے سنتا ہوں لیکن اگر تنقید برائے تنقید ہوتو اس کو ہنس کر ٹال دیتا ہوں، توجہ صرف کرکٹ پر ہے۔ سری لنکا کی ٹیم کے خلاف کامیابی کے بعد تنقید کرنے والوں کی تنقید سمجھ سے باہر ہے۔ میر ی کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ریجنل کوچز سے ملاقات کرکے ان کے مسائل جاننے کا موقع ملاہے اور تبادلہ خیال سے دونوں کو فائدہ ہوا ہے،کرکٹ بورڈ سے بھی ان کے مسائل پر بات ہوئی ہے ۔ پی سی بی ان کے مسائل کے حل کے لئے غور کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں پی سی بی نے اجلاس بھی منعقد کیے ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ سے کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ ڈومیسٹک ڈھانچہ اور ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر کریں گے تو انٹرنیشنل کرکٹ بہتر ہوگی۔ سپاٹ فکسنگ میں سزا پوری کرنے والے کرکٹرز پانچ سال سے کرکٹ سے دور رہے ہیں ابھی ان کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملی ہے ، ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی پرفارمنس پر پی سی بی اور سلیکشن کمیٹی غور کرے گی ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی