ستمبر میں پیاز کی قسم پھلکارا کی اگیتی نرسری کی کاشت منافع بخش ہے:محکمہ زراعت

ستمبر میں پیاز کی قسم پھلکارا کی اگیتی نرسری کی کاشت منافع بخش ہے:محکمہ زراعت

راولپنڈی (این این آئی) محکمہ زراعت پنجاب راولپنڈی کے ترجمان کے مطابق ستمبر میں پیاز کی قسم پھلکارا کی اگیتی نرسری کی کاشت اور دسمبر جنوری میں فصل کی مارکیٹنگ سے زیادہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ جدید کاشتکاری میں پیاز کی دوغلی اقسام ریڈ کمانڈر یا ریڈ بون اور روزیٹا زیادہ اہمیت حاصل کرچکی ہیں۔ ان دوغلی اقسام کی پیداواری صلاحیت 500تا600من فی ایکڑ تک ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایک ایکڑ رقبہ پر پیاز کی کاشت کیلئے 3کلوگرام بیج اور 4سے 5مرلہ زمین پر تیار کی گئی پنیری درکار ہوتی ہے ۔پنیری کاشت کرنے کیلئے زمین کو اچھی طرح تیار کریں اور چھوٹی چھوٹی مستطیل نما کیاریاں بنائیں۔

؂ ان کیاریوں میں تین انچ کے فاصلے پر ایک انچ گہری لائنیں لگا کر ان میں بیج کاشت کریں اور بیج کے اوپر پتوں کی گلی سڑی کھاد ڈال دیں جبکہ بیج بونے کے بعد کیاریوں کو سرکنڈا یا پرالی وغیرہ سے ڈھانپ دیں اور فوارے کی مدد سے اس طرح آبپاشی کریں کہ پانی کیاریوں میں زیادہ دیر کھڑا نہ رہے اور صرف نمی برقرار رہے ۔پنیری کے قریب اگر کیڑوں اور چوہوں کے گھر ہوں تو ان کو تلف کردیں ۔ پنیری اگاؤ کے بعد سرکنڈا یا پرالی وغیرہ کو ہٹا دیں تاکہ پودوں کو روشنی حاصل کرنے میں دشوار ی پیش نہ آئے۔ نرسری پر نقصان رساں کیڑوں اور بیماریوں کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت توسیع وپیسٹ وارننگ کے مقامی عملہ کے مشورہ سے زہروں کا استعمال کریں۔

مزید : کامرس