چینی کرنسی میں کمی۔۔۔عالمی بحران

چینی کرنسی میں کمی۔۔۔عالمی بحران
 چینی کرنسی میں کمی۔۔۔عالمی بحران

  

گزشتہ ماہ چین کی طرف سے اپنی کرنسی یوان کی شرح تبادلہ میں 2 سے 3 فیصد تک کمی نے عالمی منڈیوں میں خوفناک بحران پیدا کر دیا۔ چین نے 1994ء کے بعد اپنی کرنسی کی شرح تبادلہ میں معمولی کمی کا اعلان کیا، جس سے جاپان، ہانگ کانگ، بھارت اور پاکستان کی سٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی۔ محض ایک دن میں ان سٹاک مارکیٹوں نے اربوں ڈالر کھو دیئے۔ کراچی سٹاک مارکیٹ میں بھی تاریخ کی بد ترین مندی ہوئی اور مقامی سرمایہ داروں کے ایک دن میں 240 ارب روپے ڈوب گئے۔ کئی سال کے مسلسل استحکام کے بعد روپے کو پریشان کن صورت حال کا سامنا ہے۔ اب ڈالر تقریباً 105 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ چین کی معاشی صورت حال عالمی مارکیٹ میں تیل کے گرتے ہوئے نرخ اور ایشیائی مارکیٹوں میں مندی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بڑی تعداد میں کراچی سٹاک سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں،جس سے کراچی سٹاک مارکیٹ شدید مندی کے کرداب میں ہے۔

چین کے اس اقدام کو عالمی تجارت کے لئے تباہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ دُنیا بھر کی کرنسیاں اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔ اگر چین نے اپنی کرنسی میں مزید کمی کر دی تو یہ عالمی منڈی کے لئے انتہائی خطر ناک ہو گا۔ حالیہ کمی سے چین کے مینو فیکچرنگ کے شعبے میں سست روی کے رجحان اور عالمی مارکیٹوں میں بحران کی وجہ سے دُنیا کے 400 امیر ترین افراد جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 3.98 کھرب ڈالر ہے، کو اپنے کاروبار میں مجموعی طور پر 182 ارب ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔بلو مبرگ انڈیکس میں نقصان کے شکار امیر ترین افراد میں صرف وارین بوفیٹ نے سٹاک مارکیٹ ایکسچینج کی مندی میں 3.6 ارب ڈالر کا نقصان اُٹھایا، جبکہ چین کے سب سے امیر ترین شخص وان جٹلن جو ڈالین وانڈا کے چیئر مین کو عالمی منڈی میں صرف ایک دن میں 3.6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ کہا جا رہا ہے کہ چین اپنی کرنسی کی قیمت میں کمی کے ذریعے یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں اپنی رسائی کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق وہ اس کو یورپ میں آنے والے گریٹ ڈیپریشن سے تعبیر کر رہے ہیں،مگر ایسا نہیں ہے اس وقت تقریباً تمام یورپی ممالک نے اپنی کرنسی کی قیمت میں تقریباً 10فیصد کمی کر دی تھی، جس کا مقصد عالمی تجارت کو بہتر بنانا تھا۔

2004ء کے بعد سے اب تک چینی کرنسی میں انتہائی استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ ان دس برسوں میں یوان کی قوت خرید میں تقریباً50 فیصد اضافہ ہو اتھا۔ اس اضافے کے چینی معیشت پر مثبت اثرات کے علاوہ عالمی تجارت پر منفی اثرات دیکھنے میں آئے تھے۔ چینی حکومت اب ان منفی اثرات کو دور کرنے کے لئے اپنی کرنسی کی شرح تبادلہ میں معمولی کمی کرنا چاہتی ہے۔ اگر کمی چار فیصد تک ہو جاتی ہے تب بھی مجموعی طور پر چینی کرنسی پر کوئی قابل ذکر فرق نہیں پڑے گا۔ چین کے اقتصادی ماہرین نے اس کمی کو ہیر لائن سے تشبیہہ دی ہے، یعنی یہ ایسی کمی ہے جو چینی معیشت میں بال برابر اثر رکھتی ہے، لیکن اس کمی کو بہانہ بنا کر پاکستان میں طاقتور لابی روپے کی قیمت میں 12،15 فیصد کمی چاہتی ہے۔جس سے وزیراعظم نوازشریف نے صاف انکار کردیا ہے۔

دوسری طرف ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے عالمی مارکیٹوں میں اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے پاکستانی سٹاک مارکیٹ سے اپنے شیئرز فروخت کرنے شروع کر دیئے، جس سے کراچی مارکیٹ بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستانی معیشت کا دارو مدار کا ٹن انڈسٹری پر ہے۔ لیکن یہ کاٹن انڈسٹری قیام پاکستان کے بعد سے اپنے آپ کو اَپ گریڈ کرنے میں قطعی ناکام رہی ہے۔ یورپی ممالک کے مقابلے میں انتہائی بوسیدہ اور ناقص مشینری پاکستان میں استعمال کی جارہی ہے، جس میں توانائی کے علاوہ دیگر ان پُٹس کا بھی ضیاع نسبتاً زیادہ ہے۔ اگر اپٹما کی بات مان لی جائے، تو اس سے بجلی، پیٹرولیم منصوعات اور توانائی کے دیگرذرائع کی قیمت میں خوفناک اضافہ ہو گا۔ بجلی اور پیٹرولیم کی گرانی کے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوں گے۔ محض تجارتی خسارہ کم کرنے کے لئے روپے کو خوفناک حد تک گرانے کی تجویز ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ پانچ چھ سال سے تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور اس وقت 23ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

ہم غیر ضروری مصنوعات کی خریداری کم کر کے اس خسارے کو نیچے لا سکتے ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی مشینری کو اَپ گریڈ کر کے عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقت کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کر لے۔ عالمی منڈیوں کی اس صورت حال سے روس، کوریا، برازیل اور چلی وغیرہ زیادہ متاثر ہوں گے۔ یورپی سٹاک مارکیٹوں میں پیدا ہونے والے اثرات عارضی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سٹاک مارکیٹیں ایک دن کے جھٹکے کے بعد سنبھل گئیں۔ پاکستانی سٹاک مارکیٹ بھی خطر ناک صورت حال سے باہر نکل آئی ہے۔ اصل ضرورت روپیہ کو استحکام دینا ہے تاکہ بیس کروڑ افراد کو پُرسکون زندگی میسر آ سکے۔ روپے کی شرح تبادلہ میں کمی سے مزید لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔۔۔بہرحال چین کی سٹاک مارکیٹ کے کریش ہونے سے دنیا کی سٹاک مارکیٹ پر مرتب ہونے والے اثرات یہ ثابت کرتے ہیں کہ چین دُنیا کی سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے، جس کی معیشت کے اُتار چڑھاؤ کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑے گا۔

مزید : کالم