دنیا کا وہ انوکھا ترین گاؤں جہاں لڑکے بھی پیدائش کے موقع پر لڑکیاں ہوتے ہیں

دنیا کا وہ انوکھا ترین گاؤں جہاں لڑکے بھی پیدائش کے موقع پر لڑکیاں ہوتے ہیں
دنیا کا وہ انوکھا ترین گاؤں جہاں لڑکے بھی پیدائش کے موقع پر لڑکیاں ہوتے ہیں

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) افریقی ملک ڈومینیکن ریپبلک میں ’سالیناز‘ نامی گاؤں کے باسیوں کو ایک انوکھی ترین مشکل نے گھیر لیا ہے۔ یہاں پر چند لڑکے ایسے ہیں جو پیدائش کے موقع پر لڑکیاں تھے لیکن بلوغت تک پہنچے تو لڑکے بن گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ایسا جینز میں خرابی کے باعث ہورہا ہے اور 2 فیصد سے زائد آبادی میں یہ مسئلہ پایا جاتا ہے جو کہ دنیا کے کسی بھی علاقے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ چیز اتنی عام ہوچکی ہے کہ ایسے بچوں کو گویدوسز (یا 12 سال تک لڑکی) کہا جاتا ہے۔ ایک متاثرہ بچے جونی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ پیدا ہوا تو ڈاکٹر اس کی جنس کا تعین نہ کرسکے تاہم اسے لگتا تھا کہ میں لڑکا ہوں لیکن سکول سکرٹ پہن کر جانا پڑتا تھا۔ اب جونی کی عمر 24 سال ہوچکی ہے اور وہ صحت مند لڑکا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اس علاقے میں یہ مسئلہ 70 کی دہائی میں ایک سائنسدان نے دریافت کیا تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق ماں کے پیٹ میں قریباً 8 ہفتوں کی عمر میں مردانہ اعضاء بچوں پر نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایسا ایک ہارمون ڈائی ہائیڈرو۔ ٹیسٹاسٹیرون کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تاہم اس علاقے میں بچوں میں ایک enzyme کی کمی ہے جس وجہ سے اس ہارمون میں اضافہ نہیں ہوپاتا۔ بلوغت پر پہنچنے پر یہ ایک مرتبہ پھر رونما ہوتا ہے لہٰذا ان میں سے کچھ بچیاں لڑکے بن جاتے ہیں۔ چند ماہرین کا خیال ہے یہ گاؤں دنیا سے بے حد دور اور الگ تھلگ ہے جو کہ ایسے بچوں کی اس قدر زیادہ تعداد کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی رواں ہفتے تفصیلی ڈاکومینٹری نشر کرے گا۔

مزید : علاقائی