پی ٹی آئی تھرڈ آپشن نہیں رہی

پی ٹی آئی تھرڈ آپشن نہیں رہی
 پی ٹی آئی تھرڈ آپشن نہیں رہی

  

پی ٹی آئی حلقہ 122جیت سکتی ہے اگر اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کو دیوار سے لگانے پر تل جائے ، اگر میاں اسلم اقبال عبدالعلیم خان کے ساتھ مخلص ہو جائیں، اگر پیپلزپارٹی کا ووٹر 2013ء کے عام انتخابات کی طرح اس با ر بھی پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالے، اگر اختر رسول اس مرتبہ بھی ایاز صادق کی پشت پر سوار رہیں، اگرمسلم لیگ(ن) کا کرپشن کے معاملے پر میڈیا ٹرائل جاری رہے، اگر رانا مشہود کو نیب انکوائری کے لئے لے جائے، اگر نندی پور پاور پراجیکٹ کی آڈٹ رپورٹ حکومت کے خلاف آ جائے، اگر جماعت اسلامی کا ووٹر نکل آئے اور اگر علیم خان بے دریغ خرچہ جاری رکھیں۔

حلقہ 122سے آزاد رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد میاں اسلم اقبال نے پی ٹی آئی کو جوائن کیا تھا۔ مسلم لیگ(ن) کے حلقوں کا خیال ہے کہ میاں اسلم اقبال نے یہ سیٹ اِس لئے نکالی تھی کہ حلقہ 122کا نون لیگی ووٹر اختر رسول کو ٹکٹ دیئے جانے پر قیادت سے ناراض تھا اور اس کے باوجود کہ میاں نواز شریف نے 2013ء کی انتخابی مہم کا اختتام اس حلقے میں تقریر کرتے ہوئے اختر رسول کا بازوپکڑ کر ہوا میں لہراتے ہوئے کیا تھا ، ووٹروں نے اپنی ناراضگی ختم نہ کی اور میاں اسلم اقبال کو آزاد حیثیت میں منتخب کروادیا ، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حلقہ 122میں میاں اسلم اقبال کا اپنا ووٹ بینک نہیں ہے۔ اس حلقے میں ان کا اچھا خاصا ووٹ ہے جسے وہ موثر طریقے سے ایکٹیو کر یں، تو پی ٹی آئی کے لئے کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔ یوں بھی یہ بات اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے کہ عبدالعلیم خان کے ساتھ میاں اسلم اقبال کی صورت میں حلقے کا ایک جیتا ہوا امیدوار کھڑا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میاں اسلم اقبال اگر چاہیں اور قدرت کو منظور ہو تو پاکستان تحریک انصاف حلقہ 122 کے ضمنی انتخاب میں کوئی اپ سیٹ کر سکتی ہے۔

اِسی طرح دُنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ اپوزیشن کی ہوتی ہے اور کمزور اپوزیشن کی تو مائی باپ ہوتی ہے ، چنانچہ اگر اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ(ن) کو Tough ٹائم دینے پر آجائے، تو بھی پاکستان تحریک انصاف کی جیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس ضمن میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر حلقہ 122کے ضمنی انتخاب کی حدتک کیا فیصلہ کرے گا؟ کیا وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار بیرسٹر عامر حسن کو ووٹ دے کر ضائع کرنے سے تحریک انصاف کے علیم خان کو ووٹ دے کر اسے فتح میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر پائے گا؟یہ بات اٹل ہے کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر کسی صورت میاں نواز شریف یا اس کے کسی امیدوار کی جیت پر خوش نہیں ہو سکتا، اِسی لئے اس نے اپنی پارٹی قیادت کی مفاہمت کی پالیسی کو بھی مسترد کردیا ہے، اب اگر حلقہ 122میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کا بڑا حصہ عمران خان اور میاں اسلم اقبال کے ووٹ میں شامل ہو جاتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ سپورٹ علیم خان کو Winning Position میں لاسکتی ہے ۔

لاہور کے حلقہ 122کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کی شکست کے لئے نندی پور پاور پراجیکٹ میں حکومت کی صفر کارکردگی، سولر پاور پراجیکٹ میں ناکامی، بجلی کی بڑھتی قیمتیں اور صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود کے خلاف کرپشن سکینڈل سونے پر سہاگے کا کام کر سکتے ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ انتخابی امیدواروں کے سیاسی قد کاٹھ کا اس انتخابی معرکے میں کیا کردار ہوگا؟اس اعتبار سے عام تاثر یہ ہے کہ سردار ایاز صادق کا سیاسی قد کاٹھ عبدالعلیم خان کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر ہے۔ خاص طور عبدالعلیم خان کی شہرت سے جڑا ہوا رئیل اسٹیٹ میں کرپشن کا امیج اس کے سیاسی قد کاٹھ کو مزید متاثر کرتا ہے اور وہ سردار ایاز صادق کے مقابلے میں بونے دکھائی پڑتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سردار ایاز صادق اس حلقے سے پرانے الیکشن لڑنے والے سیاست دان ہیں۔ بحیثیت سپیکر بھی انہوں نے حلقے کے لئے بے شمار کام کئے ہیں ۔ اگرچہ ایل او ایس پراجیکٹ کے تحت گندے نالے کی ازسر نو تعمیر کے دوران گرائی جانے والی آبادیوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کے بعد عوام کو ملنے والی سہولت نے گرنے والے مکانوں کا دکھ کم کردیا ہے ، خاص طور پر جب متاثرین کو معاوضے کی مد میں لاکھوں کروڑوں مل بھی چکے ہیں۔

عبدالعلیم خان جیتیں یا ہاریں ، ایک بات طے ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اب پاکستانی سیاست میں تھرڈ آپشن نہیں رہی ہے، بلکہ دیکھا جائے، تو اب پاکستان پیپلز پارٹی سرک کر تھرڈ آپشن بن چکی ہے۔ بلاشبہ یہ کامیابی ایک بڑی کامیابی ہے اور اگر پاکستان تحریک انصاف اس کامیابی کو اگلے عام انتخابات میں مجتمع کرنے میں کامیاب ہو گئی تو بات کچھ سے کچھ بن سکتی ہے۔

مزید : کالم