افغان پولیس کی جانب سے بچوں کو اغو اءکئے جانے کا انکشاف، کیا شرمناک حرکتیں کی جاتی رہیں؟ افسوسناک تفصیلات منظرعام پر

افغان پولیس کی جانب سے بچوں کو اغو اءکئے جانے کا انکشاف، کیا شرمناک حرکتیں کی ...
افغان پولیس کی جانب سے بچوں کو اغو اءکئے جانے کا انکشاف، کیا شرمناک حرکتیں کی جاتی رہیں؟ افسوسناک تفصیلات منظرعام پر

  

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مسئلہ انتہائی شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے اور خصوصاً لڑکوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کا رواج عام ہے، لیکن ایک امریکی اخبار نے یہ بھیانک انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں امریکا کے اتحادی جنگجو نہ صرف بڑے پیمانے پر لڑکوں کو بدفعلی کا نشانہ بنارہے ہیں بلکہ امریکی فوج کو یہ ہدایات بھی دی گئیں ہیں کہ وہ اس ظلم پر خاموش رہیں اور اپنے اتحادی جنگجوﺅں کو افغان بچوں کی عصمت دری کی کھلی اجازت دیں کیونکہ ”یہ ان کا کلچر ہے۔“

ایک موبائل ایپ جو آپ کو بڑے دھوکے سے بچا سکتی ہے

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی افواج نے مقامی جنگجوﺅں کو اپنے ساتھ ملارکھا ہے تاکہ وہ طالبان کے خلاف لڑائی میں مدد دیں۔ یہ مقامی کمانڈر مختلف علاقوں کے حکام مقرر کئے جاتے ہیں اور پنے زیر تسلط علاقوں میں خوبصورت لڑکوں کو اغواءکرکے جنسی غلام بنالیتے ہیں۔ اخبار نے دو امریکی فوجیوں کو گریگری بکلی اور ڈین کوین کا ذکر بھی کیا ہے جن کے خلاف امریکی فوج نے اس بناءپر سخت ایکشن لیا کہ انہوں نے بچوں کے ساتھ بدفعلی کے خلاف آواز کیوں اٹھائی۔

ڈین کوین کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے سے فون پر بات ہوئی تو اس کا کہنا تھا ”مجھے ایک لڑکے کے چیخنے کی آوازیں آرہی ہیں جسے افغان پولیس والے اٹھالائے ہیں اور بدفعلی کا نشانہ بنارہے ہیں۔“ ڈین کوین نے جب اس مسئلے کے متعلق اپنے اعلیٰ حکام کو شکایت کی تو اسے بتایا گیا کہ وہ خاموش رہے اور افغان کمانڈر جو کررہے ہیں انہیں کرنے دے۔ اسی طرح گریگری بکلی نے ایک افغان لڑکے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے افغان کمانڈر کو تشدد کا نشانہ بنایا تو اسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ا خبار کے مطابق افغانستان میں مقامی کمانڈر اور جنگجو بچوں کو بڑے پیمانے پر زیادتی کا نشانہ بنارہے ہیںا ور امریکا نہ صرف اس پر خاموش ہے بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والے اپنے فوجیوں کو بھی سخت سزا دے رہا ہے۔

84 سال کا دولہا اور دلہن کی عمر اتنی کم کہ جان کر مرد دکھ میں مبتلا ہو جائیں

مزید : ڈیلی بائیٹس