عثمان ابنِ عفان ؓ

عثمان ابنِ عفان ؓ

  

مجیب الرحمن شامی

ملاقات

عثمان ابن عفان۔۔۔پیکرِشرم و حیاء، بندۂ تسلیم و رضا، صاحبِ جودوسخا، ایک اوّلین مسلمان، اُس کی بھیڑیں بے شمار، اُس کے اونٹ قطار اندر قطار، وہ سب سے بڑا سرمایہ دار، اُس کا سرمایہ، اسلام کا سائبان۔اُس کی تجارت، عاقبت کا سامان۔اُس کی دولت، اہلِ فقر پر مہربان، اُن کی ہر مشکل آسان۔

کوتاہ قامت نہ طویل القامت،قدپرموزونیت قربان۔بھورے اور گھنے بال، نازک خدوخال، داڑھی گھنی اورلمبی، رنگ گندمی، پیشانی چوڑی، شانے کشادہ، سینہ چوڑا، گوشت سے بھرا،چہرہ روشن مثالِ کہکشاں۔جیسے ابراہیمؑ بلندمرتبت، عالی شان ،حُسن اُس پر نازاں ، چاند اُس پر قربان۔

اُس کی عزت ، دُخترانِ نبیؐ، اُس کا گھر ساتواں آسمان۔کسی اور کی کہاں یہ شان، اصحابِ نبیؐ کے درمیان۔اس کی صورت، صورتِ ایمان، اس کی سیرت، ایمان کی ترجمان۔

وہ سفیرِ آقائے دوجہان۔اس کی جان، رسولِؐ خدا کو عزیز ازجان۔اس کا ہاتھ نبیؐ کا ہاتھ ، وہ باعثِ بیعتِ رضوان۔اس کی بخشش پرگواہ خود رسولِ آخرالزمانؐ۔اس کا چناؤ، جمہوریت کا نشان۔اس کی خلافت، جمہور کی ترجمان ۔اس کا نام، سب کے نوکِ زبان۔اس کے حامی کاروان درکاروان۔اس کی حکومت مادرِ مہربان۔اس کے لشکر مرگِ دشمنان۔اس کا پرچم شام تاخراسان۔اس کا عہد، کثرتوں، عشرتوں کا سامان۔اس پر عفو و درگزر حیران۔اس کے مقابل اشخاصِ بدگمان۔۔۔

وہ اُٹھا کہ اُٹھا اتحاد کا نشان۔اس کے بعد، منتشر مسلمان۔اس کی شہادت،مظلومیت کا عنوان،فتنہ ہائے نو کا سامان۔اس کے خون سے رنگین حرم کی داستان۔دورانِ تلاوت لی ،اُس کی جان۔یہ قہر الحفیظ، الامان۔

وہ جامع القرآن۔۔۔قاری نظر آتا تھا، حقیقت میں تھا قرآن،

آیۂ سورۂ رحمن ۔۔۔ فبای الاء ربکماتکذبٰن!

مزید :

ایڈیشن 1 -