کیا، ایم کیو ایم پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ میں کوئی’’معاہدہ‘‘ ہو گیا؟

کیا، ایم کیو ایم پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ میں کوئی’’معاہدہ‘‘ ہو گیا؟

  

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے ہاتھوں خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری اور پانچ گھنٹے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی مداخلت کے بعد رہائی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ اس کا فیصلہ عدالت عالیہ کر دے گی، جہاں یہ معاملہ معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار لے کر گئے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں راؤ انوار نے اپنی معطلی کے قانونی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری قانون کے مطابق کی تھی، جس کا اختیار انہیں تھا اِس لئے انہیں بحال کیا جائے۔عدالت عالیہ سندھ نے ان کی پٹیشن سماعت کے لئے منظور کر لی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کے حکم پر رہائی پانے والے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ واضح رہے کہ راؤ انوار نے مقدمہ درج کر کے اپنے تئیں انتظامیہ کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں وہ اپنی معطلی کے فوری بعد میڈیا کے سامنے کہہ چکے ہیں کہ اس مقدمہ میں گرفتار خواجہ اظہار الحسن کو عدالت سے ضمانت کرانا پڑے گی۔

راؤ انوار خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کرنے سے پہلے سپیکر سندھ اسمبلی کو اطلاع کرنے کے پابند تھے؟ یا گرفتاری کے بعد ان کے لئے اس کی اطلاع دینا ضروری تھی؟ اس بارے میں سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا موقف یہ ہے کہ اگر کسی رکن اسمبلی کو اسمبلی کے احاطے کے اندر سے گرفتار کرنا ہو تو سپیکر کو گرفتاری سے پہلے بتانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر گرفتاری اسمبلی کے احاطے کے باہر سے کرنا ہو تو سپیکر کو پہلے بتانا ضروری نہیں ہے۔ البتہ گرفتاری کے بعد اطلاع لازمی ہے، جبکہ کچھ قانون کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے بعض ماہرین کی رائے اس سے مختلف ہے اس حوالے سے کیا درست ہے؟ راؤ انوار کی پٹیشن کی سماعت کے بعد عدالت جو فیصلہ دے گی واضح ہو جائے گا۔ البتہ اس کے سیاسی مضمرات اپنی جگہ مسلم ہیں،جس نے ایم کیو ایم کو مظلوم بننے کا ایک اورموقع فراہم کیا ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا ہے، حالانکہ ایم کیو ایم تو خود2002ء میں الطاف حسین کے باغی ایم کیو ایم (حقیقی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے سندھ اسمبلی کے رکن یونس خان کو سندھ اسمبلی کے احاطے کے اندر سے حلف برداری کی تقریب ختم ہوتے ہی گرفتار کرانے کے لئے جو کچھ کر گزری تھی۔ وہ اسمبلی کی کوریج کرنے والے سارے میڈیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس وقت کے آئی جی سندھ سید کمال شاہ بہ نفسِ نفیس خود اسمبلی کے باہر کھڑے یونس خان کی گرفتاری کے آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔ اسمبلی کے احاطے کے اندر ایم کیو ایم کے رہنما شعیب بخاری اپنے دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ اس بس کو گھیرے کھڑے تھے، جس بس میں پیپلزپارٹی اپنے ارکان اسمبلی کے ساتھ یونس خان کو خواتین ارکان اسمبلی کی نشستوں کے درمیان چھپا کر باہر لے کر جانے کی کوشش کر رہی تھی، یونس خان کو گرفتار کرنے کے لئے سندھ پولیس کے کئی اعلیٰ افسران بھاری نفری کے ساتھ کئی گھنٹے تک اسمبلی بلڈنگ کو اندر اور باہر سے اُس وقت تک گھیرے کھڑے رہے جب تک برقعہ پوش یونس خان کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکال کر پولیس وین میں ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو گئے تھے،حالانکہ سپیکر سندھ اسمبلی نے اپنی رولنگ سے سندھ پولیس کو اسمبلی کے احاطے کے اندر سے یونس خان کو گرفتاری سے سختی کے ساتھ منع کیا تھا۔ جب پولیس سندھ اسمبلی کے مین گیٹ سے بس کو باہر نکلنے نہیں دے رہی تھی اس وقت کے سپیکر سندھ اسمبلی سید مظفر علی شاہ اپنے چیمبر سے اٹھ کر نیچے آئے اور پولیس کو حکم دیا کہ وہ بس میں بیٹھے ارکان اسمبلی کو جانے دیں، مگر ان کی ایک نہ مانی گئی۔ وہ ایک گھنٹے کی منت سماجت کے بعد مایوس ہو کر یہ کہہ کر چلے گئے کہ اسمبلی کے احاطے کے اندر یونس خان کی گرفتاری غیر قانونی ہو گی، مگر یہ غیر قانونی عمل ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے اپنی نگرانی میں پولیس سے مکمل کرا کے فتح کے جشن کی اطلاع موبائل فون پر الطاف حسین کو براہِ راست اسمبلی کے احاطے کے اندر سے دی، الطاف حسین کے باغی دھڑے کا یہ رکن اسمبلی2002ء سے لے کر2007ء تک جیل میں ہی رہا۔ اب کسی کو یہ بھی خبر نہیں ہے وہ مُلک میں ہے یا نہیں۔ اسمبلی کے احاطے کے اندر سے یونس خان کی گرفتاری کے پس منظر کا تفصیل سے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ خواجہ اظہار الحسن کے ساتھی 2002ء میں اپنے سیاسی مخالف کی گرفتاری کے لئے قانون اور اسمبلی کے قواعد و ضوابط کی ’’مٹی پلید‘‘ نہ کرتے تو آج وہ خود اس طرح کی صورت حال سے دوچار نہ ہوتے، مگر کیا کِیا جائے کہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ کوئی اس سے سبق نہیں سیکھتا۔ اب ذرا ذکر کرتے ہیں کہ جناب ڈاکٹر فاروق ستار کے اس دعویٰ کا کہ ’’ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے‘‘۔

اس نامہ نگار سمیت آزاد میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی ایم کیو ایم کے اس حق کی حمایت ہی کرتے رہے ہیں کہ ان کو آزادانہ سیاست کرنے کا پورا پورا موقع دیا جائے۔ اگر وہ الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کر کے پاکستان کے دستور اور پاکستان کے قانون کے مطابق سیاست کریں گے تو ان کو کسی رکاوٹ کے بغیر کام کرنے دیا جائے۔ نیتوں کے معاملہ کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اس علیم و خبیر کو ہے، جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہی دِلوں کے بھید جانتا ہے۔

ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ذمہ داران کے خلاف قانون نافذ کرنے والوں کے پاس جو ثبوت اور شواہد ہیں ان پر کارروائی قانون کے مطابق کی جائے۔ قانون کی عدالتیں ان کے خلاف ثبوت و شواہد کی روشنی میں جو فیصلے صادر کریں اس کے سامنے ایم کیو ایم کے مخالفوں سمیت سب کو سر تسلیم خم کرنے کی ریت اپنانے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر خرابی مزید خراب سے خراب تر ہو جائے گی۔

اب جناب ڈاکٹر فاروق ستار کی اس پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں میئر کے انتخاب میں پلین گراؤنڈ نہیں دیا جا رہا ہے، ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو چرانے کی کوشش ہو رہی ہے، نائن زیرو سیل کر دیا گیا ہے۔ہمارے تمام بلدیاتی منتخب نمائندوں کے بلدیاتی کارڈز نائن زیرو میں ایک لفافہ میں بند ہیں اگر ان کے پاس بلدیاتی کارڈز نہیں ہوں گے تو وہ اپنا ووٹ اپنے میئر کے حق میں کیسے کاسٹ کریں گے؟مگر سب نے دیکھا تھا کہ ان کے سارے بلدیاتی نمائندوں نے اپنے ووٹ اپنی پارٹی کے نامزد میئر وسیم اختر کے حق میں کاسٹ کئے۔ اگر بلدیاتی نمائندوں کے بلدیاتی کارڈز نائن زیرو میں لفافے میں بند تھے تو کسی نے تو نائن زیرو کی سیل کھول کر یہ کارڈز ایم کیو ایم کو دیئے ہوں گے۔ جس روز ڈاکٹرفاروق ستار نے یہ بات اپنی پریس کانفرنس میں کی تھی اس کے اگلے روز ڈی جی ر ینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے نائن زیرو کا دورہ کیا تھا۔ ایم کیو ایم ے حوالے سے اب عمومی تاثر یہ ہے کہ کراچی کے میئر جناب وسیم اختر کا ڈی جی رینجرز کا نام لے کر معافی مانگنا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایم کیو ایم کی ورکنگ ریلیشن شپ مثبت سمت اختیار کر چکی ہے یہ کتنی دیرپا ہو گی اس کا صحیح اندازہ کرنے میں وقت لگے گا۔1992ء کے فوجی آپریشن کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ سے ایم کیو ایم نے الطاف حسین کے قیادت سے دستبرداری کے اعلان کے بعد ورکنگ ریلیشن شپ ایم کیو ایم کے مقتول چیئرمین عظیم احمد طارق نے معاملات طے کئے تھے۔ اس ملاقات کی خبر فرنٹیئر پوسٹ پشاور کے کراچی کے نمائندے جناب ڈاکٹر ایوب شیخ (عوامی آواز کے موجودہ ایڈیٹر) نے دی تھی۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے چند دِنوں بعد عظیم احمد طارق نے حاجی شفیق الرحمن کے گھر پر روپوشی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اِسی دوران الطاف حسین کے وفاداروں کے محترمہ نسرین جلیل، سینیٹر اشتیاق اظہر اور سابق میئر حیدر آباد آفتاب احمد شیخ پر مشتمل تین رکنی وفد نے کراچی میں کور کمانڈر سے ملاقات کر کے ورکنگ ریلیشن شپ بحال کی تھی۔ جنرل آصف نواز کی وفات کے بعد سینیٹر اشتیاق اظہر کی قیادت میں الطاف حسین کے وفاداروں نے ان کی قبر پر فاتحہ خوانی اور گل پوشی کی تھی۔ اب اگر یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ بحال ہو گئی ہے تو یہ تاثر ماضی کے تجربہ کی روشنی میں کوئی ایسا غلط بھی نہیں لگتا۔ خدا کرے اس بار کی ورکنگ ریلیشن شپ کی بحالی کراچی کے مکمل امن بحالی میں سنگ میل ثابت ہو جائے، مگر یہ تب ہی ہو گا کہ جب کراچی میں سیاسی عمل آئین اور قانون کے دائرے کے اندررہ کر عمل پذیر ہو گا۔ آئین کی بالادستی ہی واحد راستہ ہے عافیت کا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -