عوام نے پورے دس روز عید منائی، سوموار سے معمول کی سرگرمیاں بحال ہوئیں

عوام نے پورے دس روز عید منائی، سوموار سے معمول کی سرگرمیاں بحال ہوئیں

  

 لاہور سے چودھری خادم حسین

عیدالاضحی ہمیشہ سے کئی روز تک چلتی ہے تاہم اس سال یہ زیادہ طویل ہو گئی کہ سرکاری طور پر 12ستمبر سے 14ستمبر تک کی تین چھٹیاں دی گئیں، اس سے پہلے 11-10ستمبر کو ہفتہ اتوار کی چھٹی تھی جبکہ عید کی چھٹی کے بعد جمعرات 15ستمبر کو کاروبار حیات شروع ہونا تھا لیکن نہ ہو سکا اور نجی مارکیٹوں کے تاجر حضرات نے بھی یہ پورا ہفتہ چھٹیاں کرکے گزارہ کیا، بچوں کے سکول تو جمعرات سے کھل گئے لیکن حاضری بہت کم رہی۔ یہی صورت حال سرکاری دفاتر کی تھی۔ یوں قریباً دس روز تک چھٹیوں ہی کا سماں رہا، اس سوموار کو بہرحال مارکیٹیں بھی کھل گئیں۔ سکولوں اور سرکاری دفاتر کی حاضری بھی معمول پر آ گئی، تاہم جو امر واپس نہیں ہوا وہ اشیاء ضرورت اور خوردنی کے نرخ ہیں، پاکستان پر نامعلوم کون سا منحوس سایہ پڑا ہے کہ اشیاء ضرورت و خوردنی کے نرخ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ان کی کمی والی توقع پوری نہیں ہوتی، اس سال رمصان المبارک سے قبل منافع خور میدان عمل میں اترے اور ان کی طرف سے تین بار (رمضان سے قبل، رمضان کے دوران اور عیدالفطر پر) قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ شہریوں کو یقین سا تھا کہ عیدالفطر کے بعد معمول کا کاروبار شروع ہوا تو قیمتیں واپس ہو جائیں گی لیکن یہ توقع پوری نہ ہو سکی اور بڑھے نرخوں میں معمولی ردوبدل تو ہوتا رہا لیکن کمی یا رمضان سے پہلے والے نرخ واپس نہ آئے۔ اور لوگ عادی ہو گئے۔ اب عیدالاضحی آئی تو پھرمنافع خوروں کی بن آئی، اس بار پیاز، لہسن، ٹماٹر،ادرک، دھنیا اور دوسری سبزیوں کی قیمتیں بڑھائی گئیں اور ان میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔پھر فروٹ کی باری بھی آ گئی اور عید کے دنوں میں گوشت سے متعلق مزدوروی اور خوردونوش والے تمام مصالحے مہنگے کر دیئے گئے۔ گزری اتوار کو جب صارف یہ یقین کرکے بازار گئے کہ اب عید گزر ہی چکی ہے۔ نرخ واپس آ گئے ہوں گے لیکن ان کا مویوسی ہوئی اور سبزی سے فروٹ تک ہر شے کے نرخ جوں کے توں تھے۔

اس سلسلے میں دلچسپ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اپنی غلط حکمت عملی کی وجہ سے نرخوں پر قابو پانے میں بالکل ناکام ہو گئی ہے کہ بنیادی طریقہ ء حکمت عملی یا فلسفہ ہی غلط ہے کیونکہ تمام کارروائی پرچون فروشوں کے خلاف کی گئی تھوک فروشوں اور منافع خوروں کو کسی نے نہ پوچھا جبکہ ڈی سی او کی طرف سے نرخ بھی درست طور پر مقرر نہ کئے گئے۔ نرخ غیر حقیقت پسندانہ تھے ان کے لئے تھوک فروشوں اور بڑے تاجروں کو نہ پوچھا گیا۔

یہ مسئلہ اپنی جگہ یہاں تو حالات یہ بنے کہ ایل پی جی جو حکومتی کنٹرول میں ہے مسلسل مہنگی ہوتی چلی گئی اور 70روپے فی کلو سے 90روپے فی کلو تک پہنچ گئی جس پر شہری چیخ اٹھے۔ رکشا ڈرائیور زد میں آئے تو گھریلو صارفین پر بھی بوجھ بڑھ گیا۔ گزشتہ اتوار کو عوامی رکشا یونین نے احتجاجی مظاہرہ کیا تو ان کے ساتھ گھریلو صارفین بھی شامل ہو گئے۔ رکشا ڈرائیور رکشے لے کر آئے تو صارفین گدھا گاڑیوں پر پلے کارڈ اٹھائے ساتھ شامل ہو گئے ان حضرات نے لاہور پریس کلب کے سامنے ڈیرہ ڈال دیا۔ ٹریفک بند کر دیا اور نعرہ بازی کرتے رہے۔ رکشا یونین کے صدر مجید غوری کے مطابق ڈی سی او نے ایل پی جی کے نرخ 77روپے فی کلو مقرر کئے لیکن کنٹرول نہ کر سکے اور اب ہر روز قیمت بڑھاتے بڑھاتے 90روپے فی کلو کر دی گئی ہے، اس سے رکشا ڈرائیور بہت پریشان ہو گئے کہ گیس مہنگی سواری اس کے مطابق کرایہ دینے سے معذوری ظاہر کرتی ہے اور پھر جھگڑے بھی ہوتے ہیں، اسی طرح گھریلو صارفین کا کہنا تھا کہ گھریلو سلنڈر مہنگا ہو جانے سے وہ مہنگائی کے بوجھ تلے اور بھی دب گئے ہیں۔ مجید غوری نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو رکشا ڈرائیور یونین اسمبلی ہال کے باہر مظاہرہ کرے گی اور رکشا جلا دیئے جائیں گے۔ ٹریفک بند کر دینے سے ملحقہ چار سڑکیں اور ان کے لنک متاثر ہوئے۔ کئی گھنٹے ٹریفک جام رہی ۔

عید ہی کے دوران سیاسی شخصیات اور جماعتوں کی سرگرمیاں تو محدود تھیں تاہم جمعہ کا روز مبارک تھا جب پیپلزپارٹی کے جیالے واجد علی شاہ کی صاحبزادی کی شادی پر پارٹی کی قریباً ساری ہی لیڈرشپ ایک جگہ جمع ہو گئی۔ سابق وزراء اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، سابق گورنر سردار لطیف کھوسہ، سابق عہدیداران میاں قاسم ضیاء، نوید چودھری، میاں مصباح الرحمن، الحاج عزیز الرحمن چن، چودھری اسلم گل، فائزہ احمد(ایم پی اے)، میاں ایوب،منور انجم، مانی پہلوان، اورنگ زیب برکی، قومی اسمبلی کے رکن شیخ روحیل اصغرجو اب مسلم لیگ(ن) میں ہیں اور بہت سے قابل ذکر رہنما اور کارکن موجود تھے ، ان حضرات کو اس تقریب نے مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا اور یہ حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے رہے، سردار لطیف کھوسہ پُرامید تھے کہ عدالتوں سے انصاف مل جائے گا۔ سید یوسف رضا گیلانی جو جلد واپس چلے گئے جمہوریت کی صحیح روایات قائم کرنے پر زور دیتے رہے۔ دیر بعد پارٹی کے اتنے لوگ ایک جگہ دیکھے گئے، یقیناًیہ جیالے واجد علی شاہ کی اپنی لابنگ تھی۔

ان دنوں شہر میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مکالمے پر بات ہو رہی ہے کہ عمران خان نے 30 ستمبر کو رائے ونڈ پہنچنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ مارچ ہو گا۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ عمران خان نے گھروں پر حملے کی بات کی جو برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اس سلسلے میں اڈہ پلاٹ پرمرد و خواتین کارکنوں نے لاٹھیوں کے ساتھ مظاہرہ کیا اور کہا کہ کسی کو اپنے رہنما کے گھر کی طرف دیکھنے بھی نہیں دیں گے۔ یہ مظاہرہ فلمی انداز کا تھا کہ یہاں ڈنڈے بجائے گئے۔ فلمی انداز میں ڈائیلابولے گئے اور گنڈا سا بھی لا کر اس کا مظاہرہ کیا گیا۔ ان مرد و خواتین نے سروں پر پٹیاں باندھ رکھی تھیں، ان کے ساتھ کوئی بڑا رہنما نہیں تھا۔ سب مقامی لوگ تھے۔ تحریک انصاف کا پڑاؤ ادہ پلاٹ ہی ہے جہاں جلسہ ہوگا، بہرحال عمران کے اشارے دھرنا کی طرف بھی ہیں۔ یہ صورت حال کشیدگی والی ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے بھی ایسا ہی جواب دیا گیا۔ یہ حالات تصادم کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ لیڈرشپ کو روکنے کی سعی اور کوشش کرنا چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -