بھارت میں نوجوان لڑکیوں کی عزت و آبرو اور جان غیر محفوظ ہو گئی ،دہلی پولیس سے بھی بھارتی ’’ناریوں ‘‘ کا اعتماد اٹھ گیا

بھارت میں نوجوان لڑکیوں کی عزت و آبرو اور جان غیر محفوظ ہو گئی ،دہلی پولیس سے ...
بھارت میں نوجوان لڑکیوں کی عزت و آبرو اور جان غیر محفوظ ہو گئی ،دہلی پولیس سے بھی بھارتی ’’ناریوں ‘‘ کا اعتماد اٹھ گیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی دارالحکومت دہلی میں نوجوان لڑکیوں کی زندگی غیر محفوظ ہو گئی ،بھارتی پولیس سے بھی ہندوستانی ’’ناریوں ‘‘ کا اعتبار اٹھ گیا،پولیس ہماری مدد کیا کرے گی اسے تو خود مدد کی ضرورت ہوتی ہے ۔

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق گذشتہ روز دہلی میں دن دیہاڑے ایک 21سالہ نوجوان لڑکی کو نامعلوم شخص نے تیز دھار آلے سے وار کر کے قتل کر دیا ،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کئی روز سے مقتولہ کا پیچھا کر رہا تھا ۔قتل کی اس اندہناک واردات پر دہلی کی لڑکیوں کو کہنا ہے کہ اگر ان کا اس طرح کوئی نامعلوم شخص پیچھا کرے تو وہ یا تو اس پر کاغذ سپرے کریں گی اور پھر کسی محفوظ مقام پر جانے کی کوشش کریں گی یا پھر اپنے والدین کو بتائیں گی۔بھارتی نجی چینل کی جانب سے کئے جانے والے سروے میں کسی بھی لڑکی نے بھارتی پولیس سے مدد مانگنے کے حوالے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سے مدد مانگنا کسی طور پر بھی کارآمد ثابت نہیں ہو سکتا ،دہلی کی لڑکیوں کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم پولیس کے پاس اپنی شکائیت لے کر جائیں گی تو پہلے تو وہ ہمارا مذاق اڑائیں گے اور ہماری شکائیت کو سنجیدگی سے کبھی نہیں لیں گے ،لڑکیوں سے غیر ضرور ی سوالات پوچھیں گے ،انہیں ہی رات میں گھر سے باہر نکلنے اور ہمارے لباس پر طنز کرتے ہوئے تنقید کریں گے ،ایسے میں ہم بھارتی پولیس سے کس طرح مدد کے طلبگار ہو سکتے ہیں ؟

مزید پڑھیں:”اس بندے نے ہمارا ملک تباہ کردیا ہے“ مودی کے خلاف بھارت میں زوردار آواز اٹھ گئی

لڑکیوں سے جب سوال کیا گیا کہ بھارتی پولیس نے ہیلپ لائن بھی قائم کی ہوئی ہے اس پر بھی تو آپ اپنی شکائیت درج کرا سکتی اور فوری مدد حاصل کر سکتی ہیں؟ جس پر لڑکیوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ دہلی پولیس کی ہیلپ لائن ہے ،مگر لیکن ہیلپ لائن پر کال کرنے سے مدد ملنے میں کتنا وقت لگے گا؟ اس کا کوئی وقت متعین نہیں ہے،کئی لڑکیوں نے شکائیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیلپ لائن تو مسلسل ہولڈ پر ہی رہتی ہے یا پھر مصروف ہوتی ہے ۔ بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ دہلی کو خواتین کے لئے محفوظ بنانے کے دعوی تو دہلی پولیس بہت سارے کرتی آ رہی ہے، کئی ہیلپ لائن نمبر لانچ کئے گئے ہیں اور بہت سے موبائل ایپلی کیشنز بھی، لیکن پھر بھی دہلی پولیس دہلی کی بیٹیوں کے دل میں یہ اعتماد پیدا نہیں کر پائی کہ جس کی وجہ سے کسی ناگہانی مصیبت کے وقت یہ لڑکیاں پولیس سے مدد مانگیں ،جب انہیں اس مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہو۔

مزید :

بین الاقوامی -