عمران خان کو وزیر اعظم کے دورہ امریکہ پر تنقید نہیں کرنا چاہیے، جاوید ہاشمی

عمران خان کو وزیر اعظم کے دورہ امریکہ پر تنقید نہیں کرنا چاہیے، جاوید ہاشمی

  

 سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ ہم حکومت کو نہیں بچا رہے بلکہ جمہوریت کی بالادستی کے لئے کام کر رہے ہیں تا کہ جمہوریت محفوظ ہو اور طالع آزماؤں کو کسی قسم کا موقعہ نہ ملے دوسری طرف سینئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی وزیراعظم کے دورہ امریکہ پر تنقید غیر مناسب ہے۔ البتہ احتجاج ان (عمران خان) کا حق ہے لیکن کسی کے گھر پر حملہ آور ہونا کوئی سیاسی میچورٹی نہیں ہے۔ ابھی جمہوریت کی بقاء کے لئے قوم کو مزید قربانیاں دینا ہوں گی، کیونکہ اس وقت جو سیاسی حالات جا رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ چالیس دن ملکی سیاست میں بہت اہم ہیں جس کے لئے سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقاء کے لئے ایک دوسرے کے نہ صرف مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ہو گا، بلکہ سیاسی اختلافات کو پس پشت کر کے بات چیت کا عمل جاری کرنا ہو گا ادھر تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء کہتے ہیں کہ ہم کسی کے گھر پر حملہ کرنے نہیں جا رہے ہیں،بلکہ پُر امن احتجاج کے لئے رائے ونڈ کا انتخاب کیا ہے۔تا کہ دُنیا کے حکمرانوں کی کرپشن کے حوالے سے مثبت پیغام دیا جا سکے اور یہ دھرنا فیصلہ کن ہو گا،جس کی صحیح جگہ کا تعین آئندہ چند روز میں کریں گے، لیکن کسی کے گھر کا محاصرہ نہیں کریں گے اب شاہ محمود قریشی کی یہ بات کس حد تک درست ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا، لیکن ایک بات جو سیاسی طو رپر واضح نظر آ رہی ہے وہ تحریک انصاف کا ضمنی انتخابات میں مسلسل ہارنا ہے، جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اگر زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت ووٹ بنک ان کا متاثر ضرور ہو رہا ہے،جس کی بنیادی سیاسی وجہ عمران خان کی سیاسی قلابازیاں اور ایسے فیصلے ہیں،جو نہ صرف تحریک انصاف کو سیاسی نقصان پہنچا رہے ہیں،بلکہ ان کا ووٹ بنک بھی متاثر کر رہے ہیں اب وہ اس پر کیا فیصلہ کرتے ہیں اور کیا وہ اس سیاسی پیچیدگی کو سمجھ بھی پاتے ہیں کہ نہیں اس کے بارے میں قبل از وقت کہنا مشکل ہو گا۔

البتہ ان تمام ضمنی انتخابات میں ایک بات واضع ہو کر سامنے آتی ہے کہ پیپلز پارٹی کا ان علاقوں میں ووٹ بنک بہت بڑی طرح متاثر ہوا ہے جو اب تیسرے سے چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے،حالانکہ پیپلز پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کافی عرصہ سے نہ صرف خود متحرک ہے بلکہ کارکنوں اور عہدیداروں کو بھی متحرک کر رہی ہے اس کے لئے پارٹی ورکرز کنونش اور دوسرے کارنر میٹنگز بھی چلتی رہی ہیں گو کہ ان میں مرکزی قائدین کو کارکنوں کی سخت تنقید کا سامنا رہا مگر اس کے باجود کم از کم جنوبی پنجاب میں تو پارٹی کو خاصا متحرک کیا گیا مگر اس کا رزلٹ مایوس کن سامنے آیا ہے، جس کے لئے ضروری ہے کہ پیپلز پارٹی کے اکابرین اور قائدین کو اس پر توجہ کرنی چاہئے، کیونکہ آئندہ عام انتخابات اب زیادہ دور نہیں ہیں، جس کے لئے ہوم ورک انہیں ابھی سے ہی کرنا چاہئے اور اس دوران ہونے والے ضمنی انتخابات دراصل ووٹرز کا مزاج دیکھنے کا پیمانہ ہوتے ہیں اور پیپلزپارٹی اگر اسی طرح تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہتی ہے تو پھر انہیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ آئندہ عام انتخابات میں مقابلہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) میں ہو گا پیپلزپارٹی کی پنجاب میں بقاء خطرے میں ہے۔اب اس کے لئے پیپلزپارٹی کی قیادت کیا تیاری اور کس قسم کا فیصلہ کرتی ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن سیاسی طور پر نظر آ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ان کا ہاتھ نہ پکڑا تو پھر سیاسی طو رپر ان نا قابل تلافی نقصان ہو گا تاہم سیاسی جماعتوں کے لئے ایسے نقصانات کوئی اہمیت نہیں رکھتے جس کا وہ کوئی سنجیدہ نوٹس لیں۔

اگر غیر سیاسی طو رپر دیکھا جائے تو عوام کا جو نقصان اور مقامی حکومت کی ’’رٹ‘‘ جب متاثر ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے یہ فیصلہ اس طرح سے ہے کہ ملتان میں کچھ عرصہ قبل ایک سرکاری ملازم نسیم صادق بطور ڈی سی او تعینات ہوئے جن کے ورکنگ سٹائل اور عوامی بھلائی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کا بڑا چرچا رہا اور ان کے ان کاموں کے ثمرات بھی عوام تک پہنچے ان کی تفصیل تھوڑی سے بڑی ہے، مگر مختصر ایک بات یہ بھی تھی اس اللہ کے بندے نے اس خطے کی سب سے بڑی مویشی منڈی کو ایک مضبوط مافیا سے چھڑا کر آزاد کر دیا جس کے لئے اسے بہت زیادہ تنقیدبھی برداشت کرنا پڑا حتیٰ کہ عدالت عالیہ کی ناراضگی بھی مول لینا پڑی، مگر انہوں نے مویشی منڈی مافیا کو نہ صرف نکیل ڈال دی، بلکہ عوامی مفاد میں مویشی منڈی کو سرکاری جگہ پر منتقل کر کے عوام کے لئے ٹیکس فری کر دیا واضح رہے کہ قبل ازیں اس منڈی میں فی جانور خریدار اور فروخت کنندہ دونوں سے ہزاروں روپے وصول کئے جاتے تھے، جس کا سرکار کے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہ تھا اور اس منڈی کی نیلامی کے ذریعے کئی دھائیوں سے قابض ہے، لیکن بہر حال یہ سرکاری ملازم کو ایک دن تبدیل ہونا ہوتا ہے جو ہو گئے اور اس کے رابطہ اسی مافیا نے اسی جگہ غیر سرکاری طور پر دوبارہ منڈی قائم کر لی جس کے لئے انہیں مقامی ٹاؤن اور انتظامی افسران کی حمایت بھی حاصل تھی، جس نے سرکاری منڈی کا گراف ڈاؤن کر دیا اس مرتبہ عیدالاضحی پر ڈی سی او ملتان نے اعلان کیا کہ شہر میں ضلعی حکومت کی طرف سے ٹیکس فری منڈیاں لگائی جائیں گی تا کہ عوام کو نہ صرف سہولت ،ہو بلکہ مویشی بیوپاریوں کو بھی آسانی ہو سکے اس مویشی منڈی مافیا نے پوری ضلعی حکومت کی رٹ ختم کر کے سامورانا میں سب سے بڑی غیر قانونی منڈی نہ صرف قائم کی،بلکہ قربانی کے 75فیصد سے زیادہ جانور بھی وہاں فروخت ہوئے اور بڑے دھڑلے سے خریدار اور بیوپاری سے اپنا ٹیکس بھی وصول کیا ضلعی حکومت تمام تر سرکاری وسائل کے باوجود نا کام ہو گئی اس نا کامی کو کیا نام دیا جائے یا پھر یہ مان لیا جائے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ضلعی اور ٹاؤن انتظامیہ اس مافیا کے ساتھ عوام کے خلاف مل جاتی تھی،کیونکہ یہ کروڑوں نہیں اربوں روپے کی خریدوفروخت کا معاملہ تھا؟

مزید :

ایڈیشن 2 -