مسجد میں خودکش دھماکہ، نمازی شہید، ایک ایک گھر کے کئی کئی افراد شامل!

مسجد میں خودکش دھماکہ، نمازی شہید، ایک ایک گھر کے کئی کئی افراد شامل!

  

پشاور سمیت صوبے بھر میں عید الضحیٰ ممکنہ دہشت گردی کے خوف کے سائے میں پر امن منائی گئی اس موقع پر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے غیر معمولی سخت انتظامات کئے گئے تھے مگر بدقسمتی سے عید کے تین یوم گزرنے کے بعد مہمند ایجنسی میں نماز جمعہ کے اجتماع پر ہولناک خودکش حملہ کر دیا گیا۔ دھماکہ سے مسجد بھی شہید ہو گئی جبکہ 40 نمازی بھی حالت قیام میں رتبہ شہادت پر فائز ہو گئے اس ہولناک خودکش حملے میں اتنے ہی نمازی زخمی بھی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔ جبکہ بعض زخمی زندگی بھر کے لئے معذور ہو گئے اس دلخراش واقعہ کے کئی افسوسناک پہلو ہیں مثلاً اس دھماکے میں شہید ہونے والوں میں ایک ایک گھر کے کئی کئی افراد شامل ہیں ایک گھر کے چار بھائی اور ایک گھر کے باپ اور تمام بیٹے شہید ہو گئے مذکورہ مسجد میں نماز پڑھنے والے تمام افراد ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے خودکش حملے کا شکار ہونے والی مسجد ایک دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے میں تھی جس کی وجہ سے امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچنے سے پہلے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جاں بحق افراد زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتالوں تک پہنچایا۔ پاکستان کے قومی الیکٹرانک میڈیا اس خونریز سانحہ کو یکسر نظر انداز کر کے کراچی کی ایک شخصیت کی گرفتاری اور رہائی کو لے کر نوحہ خوانی کرتا رہا بہر حال کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن اور گورنر اقبال ظفر جھگڑا اگلے روز اس دشوار علاقے میں پہنچے کور کمانڈر نے شہداء کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی عیادت کر کے ان کی ڈھارس بندھائی جبکہ گورنر نے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا اور کہانی ختم ہو گئی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے اس سانحہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا میں نیشنل ایکشن پلان پر سرے سے عمل نہیں ہوا ان کے اس بیان کو سیاسی تناظر سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان کا یہ بیان سو فیصد درست ہے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اپنی انہی سطور میں متعدد بار نشادہی کر چکا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد پشاور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں آ کر مقیم ہو گئی ہے اور اب جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی وہاں سے بھی بھاگنے والے دہشتگردوں نے پشاور کا رخ کر لیا ہے۔ یہاں پر دہشتگردوں نے پشاور شہر سے محض ڈیڑھ فرلانگ پر واقع بعض علاقوں کو پولیس کے لئے نو گو ایریا بنا دیا ہے۔ پشاور میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ کلنگ میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ شہری ایک مرتبہ پھر خوفزدہ ہو کر سہم گئے ہیں سپیشل برانچ اور ڈسٹرکٹ پولیس کے اہلکار و افسران آئے روز قتل کئے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ عید کی شب بھی پولیس ا ور سپیشل برانچ کے افسر و اہلکار کو شہید کیا گیا دو روز قبل چار سدہ روڈ پر سیکیورٹی فورسز کے تین اہلکاروں کو شہید کیا گیا جن میں دو سگے بھائی شامل ہیں۔

اس سے پہلے اسی علاقے میں پولیو مہم کے ڈاکٹر کو شہید کیا گیا ٹارگٹ کلنگ کے ہر واقعے کے بعد روایتی سرچ آپریشن کیا جاتا ہے جو سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کے مترادف ہے۔ اخوان آباد میں پولیس کے سب انسپکٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ صوابی میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ایم پی اے محمد شیراز کے حجرہ پر بم حملہ کیا گیا جس میں ایم پی اے کا بھائی زخمی ہوا ورسک روڈ پر ریپڈ رسپانس فورس کی موبائیل کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس میں 8 اہلکار بری طرح زخمی ہوئے اس تمام صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے ان تمام واقعات سے زیادہ اس بھینس کو دی جو نالے میں گر گئی یا اسے کرین کے ذریعے چھت سے اتارا گیا الیکٹرانک میڈیا کے لئے کراچی میں دفعہ 144 کے تحت ڈبل سواری پر پابندی عائد اور پابندی ہٹانے کی خبریں اہم ترین رہیں مگر خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور میں جاری دہشت گردی غیر اہم رہی بہر حال تلخ حقیقت یہ ہے کہ پشاور آتش فشاں بن چکا ہے اور خدشہ ہے کہ پشاور میں کسی بھی وقت کوئی بڑا سانحہ رو نما ہو سکتا ہے۔ جس کے لئے جمعہ کا روز اہم ہے۔ پشاور کے لوگ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو غیر محفوظ اور اللہ کے آسرے پر سمجھنے لگے ہیں۔ اور ہر شخص کی زبان پر صرف ایک ہی لفظ ہے کہ ’’اللہ خیر کرے‘‘ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے اپنی درخشندہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی عید کی نماز اپنے جوانوں کے ساتھ ادا کی جو باجوڑ ایجنسی کے مشکل ترین اور دشوار علاقوں میں ملک و قوم کے دفاع کے لئے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سپہ سالار نے جوانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس عزم کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا کہ ملک کے کونے کونے سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جائے گا جنرل راحیل شریف کا ہر بیان فوج کا مورال بلند کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے حوصلے بھی بڑھاتا ہے مگر خیبرپختونخوا کے عوام اس بات پر پریشان ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ میں اب محض چند ہفتے رہ گئے ہیں ان کے جانے کے بعد گیا ہوگا؟ یہی وہ سوال ہے جو آج کل ہر شخص کی زبان پر ورد کر رہا ہے۔ بالعموم پورے پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے عوام کی شدت کے ساتھ یہ خواہش ہے کہ جنرل راحیل شریف کی خدمات کا تسلسل جاری رہے۔ لیکن عوام کی یہ خواہش بس خواہش ہی ہے جس کا احترام کرنے کے لئے چند سیاسی بڑے آمادہ نہیں ہیں ۔

خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ان تمام تشویشناک حالات میں رائیونڈ مارچ میں بھرپور شرکت کے لئے تیاریاں کر رہی ہے مگر اس سے پہلے کہ تحریک انصاف کی حکومت مارچ میں شرکت کرے مسلم لیگ کی طرف سے صوبائی حکومت کے خلاف و شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا جس پر صوبائی حکومت خصوصاً وزیر اعلیٰ پرویز خٹک شدید برہم ہوئے اس ردعمل میں مسلم لیگ کے کارکنوں نے صوبائی اسمبلی پر جگہ جگہ اپنی پارٹی کے جھنڈے لہرا دیئے۔ صوبائی حکومت نے لیگی کارکنوں کے اس اقدام کو اسمبلی پر حملہ قرار دیا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی پر حملہ کرنے والوں کو سبق سکھائیں گے خیبرپختونخوا اسمبلی پر حملہ رائیونڈ مارچ کو اوچھے ہتھکنڈوں سے روکنا غیر قانونی اقدام ہے توڑ پھوڑ کرنے سے مسلم لیگ (ن) کا حقیقی چہرہ سامنے آ گیا۔ رائیونڈ مارچ کے لئے کسی کی منت نہیں کریں گے پورا لاہور بند کرنے کے لئے اکیلے عمران خان کافی ہیں اسمبلی کی بے حرمتی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے رائیونڈ مارچ کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا اب یہ آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ رائیونڈ مارچ میں خیبرپختونخوا سے کتنے لوگ شرکت کرتے ہیں اور کیا اس کے نتائج تحریک انصاف کی توقعات کے مطابق نکلتے ہیں۔؟

مزید :

ایڈیشن 2 -