مُلک کی سربلندی کا راز آئین کی بالادستی میں ہے

مُلک کی سربلندی کا راز آئین کی بالادستی میں ہے

  

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے وہی توقعات وابستہ کی جائیں، جن کی آئین اجازت دیتا ہے۔ سپریم کورٹ آئین و قانون کے مطابق ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ اگر تمام ادارے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں،بددیانتی اور کرپشن کو ختم کریں تو نہ صرف عدلیہ پر غیر ضروری بوجھ ختم ہو جائے گا، بلکہ عوام کو بھی غیر ضروری عدالتی چارہ جوئی سے چھٹکارہ حاصل ہو گا۔ تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں تو اس کے بعد ہی گڈ گورننس ممکن ہے،ہڈی کا ڈاکٹر کینسر کا علاج نہیں کر سکتا۔ اگر ہم آج اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ہر طرف عدمِ برداشت کا دور دورہ ہے۔ لوگ رنگ ونسل اور ذات پات کی بنیاد پر ٹکڑوں میں تقسیم ہیں، جن میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم سب سے زیادہ قابلِ فکر امر ہے اِس سے معاشرے میں نہ صرف امن و امان کی صورتِ حال پر منفی اثر پڑتا ہے، بلکہ دہشت گردی کو بھی فروغ ملتا ہے۔ہمارا مُلک جس دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اس میں اگرچہ اکثر اوقات بیرونی ہاتھ ملوث ہوتا ہے، مگر اسے کہیں نہ کہیں سے ہمارے اندر سے بھی حمایت اور مدد حاصل ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض سیاسی جماعتیں بھی اپنے مفادات کی خاطر ان عناصر کی حمایت کرتی ہیں۔ نہ صرف وکلاء برادری، بلکہ عدلیہ بھی دہشت گردی کا شکار ہے، فراہمی انصاف کے اِس ادارے کو خوفزدہ کرنے کی نیت سے تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مقدمات کے فیصلوں میں ہونے والی تاخیر کی وجوہ میں سے ایک وجہ وکلاء کی جانب سے مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش نہ ہونا اور غیر ضروری التواء لینا بھی شامل ہے۔ اِس سلسلے میں مَیں نے وقتاً فوقتاً بار کے نمائندوں سے ملاقات کی اور باہمی مشاورت سے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا، مگر افسوس ہے کہ اس کے خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہو سکے وہ نئے عدالتی سال کے آغاز کی تقریب کے حوالے سے خطاب اور صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے آئین و قانون کے اندر رہ کر ہی کئے جا سکتے ہیں، بسا اوقات لوگ سپریم کورٹ سے ایسی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جن کی آئین اجازت دیتا ہے، نہ قانون، اِس لئے اِس ضمن میں اُن کی خواہشات جو بھی ہوں، عدالتی فیصلہ تو بہرحال وہی ہو گا، جو قانون کی منشا ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا بھر میں وقت کے ساتھ ساتھ قوانین تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور اُنہیں حالات و واقعات کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ ایک صدی قبل جو قوانین مروج تھے بدلتے وقت کے ساتھ اگر اُن میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی تو مقننہ نے اِس میں ترمیم کر دی۔عدالت کسی قانونی سقم کی نشاندہی تو کر سکتی ہے اور ایسا کرتی بھی رہتی ہے، مگر قانون سازی عدلیہ کا کام نہیں ہے۔ عدلیہ مروج قوانین کے مطابق فیصلے کرتی ہے، لیکن بعض حضرات اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے عدلیہ سے امیدیں وابستہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور اب تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اخبارات میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فلاں مسئلہ کا از خود نوٹس لیا جائے، بعض حضرات اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہہ گزرتے ہیں کہ فلاں چھوٹے سے مسئلے پر تو سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا، لیکن اس بڑے مسئلے کا نوٹس نہیں لیا جا رہا۔اخبارات میں اس طرح کی بیان بازی نامناسب ہے اور کچھ عرصہ پہلے تک اِس کا تصور بھی نہیں تھا، لیکن جس طرح دوسرے بعض شعبوں میں انحطاط کی علامتیں نظر آتی ہیں، یہ بھی ایک طرح کے معاشرتی زوال ہی کا پر تو ہے کہ جو درخواستیں لے کر عدالت میں باضابطہ طریقہ سے پیش ہونے کی ضرورت ہوتی ہے ایسی درخواستیں اخباری بیانات یا ٹاک شوز کے تبصروں میں شامل ہونے لگیں۔

ازخود نوٹس لینا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے اِس ضمن میں وہ جو مناسب سمجھیں کر سکتے ہیں اگر وہ دیکھیں کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کا نوٹس لے کر اسے حل کیا جانا چاہئے، تو وہ ایسا کر سکتے ہیں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی مسئلہ چاہے جتنا بھی بڑا ہو، اگر دوسرے ادارے اسے اپنے انداز میں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں اور وہ اس میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوں تو وہ از خود نوٹس نہیں لیتے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض امور بیک وقت انتظامیہ کی سطح پر بھی زیر غور ہوتے ہیں اور عدالت بھی اِس کا نوٹس لے لیتی ہے۔ یہ سب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اپنے اختیار اور مرضی و منشا کی بات ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ اِس سلسلے میں کوئی قدغن نہیں لگا سکتا۔ کراچی بدامنی کیس طویل عرصے تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہا۔ عدالت نے اِس پر تفصیلی بحث سُنی اور پھر اپنے بصیرت افروز فیصلے میں اُن عوامل کی نشاندہی کر دی، جن کی وجہ سے یہ شہر مستقل بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے اور تمام تر انتظامی اقدامات اِس سلسلے میں بے سود ثابت ہو رہے تھے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بہت سی خرابیوں اور اُن کی وجوہ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ایسے رہنما اصول بھی متعین کر دیئے کہ اگر ان پر صدق دلی اور نیک نیتی سے عمل کیا جاتا، تو کراچی کے بہت سارے مسائل بہت پہلے ہی حل ہو جاتے۔فاضل چیف جسٹس نے گڈ گورننس کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں۔ آج کے دور میں جدید ریاستیں اپنی اساسی دستاویز پر عمل کر کے ہی زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھتی ہیں اور جہاں کہیں ضرورت محسوس ہوتی ہے، وقت کا ساتھ دینے کے لئے آئین میں ترمیم بھی کرتی رہتی ہیں، دُنیا بھر کے دساتیر میں ترامیم کا طریقِ کار بھی درج ہوتا ہے، پاکستان کے آئین میں بھی صراحت کے ساتھ لکھ دیا گیا ہے کہ اگر کسی آئینی ترمیم کی ضرورت محسوس ہو تو وہ کیسے کی جائے گی، لیکن مقامِ افسوس ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز بعض عالی مرتبت شخصیات اپنے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھے بغیر نہ صرف غیر آئینی باتیں کرتی رہتی ہیں،بلکہ آئین کے بارے میں بھی ایسے الفاظ استعمال کر گزرتی ہیں،جو اس مقدس دستاویز کی توہین کے مترادف ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کسی ریاست کا آئین انسان ہی بناتے ہیں اور بنانے والوں سے غلطی اور کوتاہی بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ازالے کا طریق کار بھی موجود ہے اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ کوئی اپنے عہدے کا فائدہ اُٹھا کریا اپنے سابق منصب کی حیثیت کی وجہ سے آئین کے خلاف باتیں شروع کر دے۔

آج کل بہت سے حلقے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مُلک میں پارلیمانی نہیں صدارتی نظام ہونا چاہئے، جبکہ مُلک میں نافذ موجودہ آئین کے تحت ایسا ممکن نہیں، موجودہ اسمبلی تو آئین کی روح کے منافی ترمیم بھی نہیں کر سکتی۔ اِس لئے بحث کی حد تک تو یہ بات ٹھیک ہے اور اگر قوم اس نتیجے پر پہنچے کہ مُلک میں صدارتی نظام ہونا چاہئے تو اس کے لئے وہ راستہ اختیار کیا جائے، جس کی رہنمائی آئین میں موجود ہے، کِسی کی خواہش کے تحت تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا، جو لوگ اِس مقصد کے لئے بالائے آئین اقدامات تجویز کرتے ہیں وہ نہ صرف بے بصیرت ہیں، بلکہ مُلک و قوم کے خیر خواہ بھی نہیں ہو سکتے۔ مُلک کا بہترین دوست وہ ہے،جو آئین کی سربلندی کی بات کرتا ہے اِس لحاظ سے جناب چیف جسٹس نے درست فرمایا کہ گڈ گورننس آئین پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے اور ہڈی کا ڈاکٹر کینسر کا علاج نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس سے ایسی ہی دو ٹوک اور صاف شفاف رہنمائی کی امید تھی، امید ہے کہ وہ لوگ بھی اپنا ذہن صاف کر لیں گے، جن کے نزدیک آئین کاغذ کے چند صفحات پر مشتمل ایک دستاویز ہے اور اس کی کوئی تقدیس نہیں، بے آئین سرزمینوں کی دُنیا میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور اِس میں رہنے والے لوگ بے توقیر تصور کئے جاتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -