پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر کامیاب عملدرآمد

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر کامیاب عملدرآمد

  

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی،شدت پسندی اور غیر ملکی مداخلت کے چیلنجوں کا مقابلہ پورے عزم و حوصلے کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ حکومتِ پنجاب دہشت گردی اورشدت پسندی کے خاتمے کے لئے تمام صلاحیتیں اور وسائل استعمال کررہی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور 1500۔کارپورلز پر مشتمل سپیشل فورس تیار کی گئی ہے۔ بھرتی کے معاملے میں میرٹ اور اہلیت پر سختی سے عمل کیا گیا۔ اس وقت یہ ادارہ دہشت گردی کی تمام اقسام کے خاتمے کے لئے کام کررہا ہے۔اِس ادارے کا وجود اِس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ دہشت گردی،انتہا پسندی، غیر ملکی مداخلت اور فرقہ وارانہ جارحیت کے واقعات سے عوام ذہنی تناؤ اور اضطراب میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں اس مسئلہ سے نجات دلانے کے لئے منظم اقدامات کے ذریعے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے بڑی مدد مل رہی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے سپیشل فورس کی تیاری کے منصوبے کو چیلنج سمجھ کر منظور کیا چنانچہ نہایت قلیل مدت میں انسداد دہشت گردی فورس کے پہلے بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کو ممکن بنایا گیا۔وزیراعلیٰ شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر اس فورس کے لئے تمام وسائل مہیا کئے جارہے ہیں۔ انٹیلی جنس،آپریشنز اور انویسٹی گیشن کی خصوصی تربیت کے لئے دوست ملک ترکی نے بھرپور تعاون کیا اور ترک نیشنل پولیس کے 45۔سینئر آفیسرز پاکستان بھجوائے گئے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 5۔ستمبر 2016ء تک موثر اقدامات کے نتیجے میں97ہزار608 مقدمات درج کئے گئے جبکہ دہشت گردی،انتہاپسندی، نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ، اسلحہ کی نمائش اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔دہشت گردوں اور دہشت گردی کے معاملات میں مالی معاونت اور سہولت کاری کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت مالی مدد لینے یا دینے اور دیگر معاملات میں سہولت کاری کرنے والوں پر سختی سے نظر رکھی جارہی ہے۔ پولیس کے 41۔افسروں کو اینٹی منی لانڈرنگ لأ کے بارے میں خصوصی تربیت دی گئی ہے۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 93۔مقدمات درج کر کے 123۔افراد کو حراست میں لیا گیا۔25۔افراد کو سزا سنائی گئی۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے نام تبدیل کر کے کام کرنے والی 8۔تنظیموں کی کڑی نگرانی کی گئی، جس کے مفید نتائج برآمد ہوئے۔ مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو حکومتی اعدادوشمار کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں 70۔فیصد کمی ہوئی ہے۔ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے مشترکہ آپریشن روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کی وجہ سے پنجاب میں 13782۔مدارس، 62678۔مساجد اور 2925۔اقلیتی عبادت گاہوں کی جیوٹیکنگ مکمل ہو چکی ہے۔ اتحاد تنظیمات المدارس نے مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے مخصوص فارم پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ اسی طرح 8286۔این جی اوز،میں سے4200۔این جی اوز، کی جیوٹیکنگ کا کام مکمل کیا جاچکا ہے۔ 3427۔این جی اوز کو ڈی رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ 125۔این جی اوز کا سپیشل آڈٹ کروایا گیا۔ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی طرف سے چار این جی اوز کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم مقدمات میں 17۔دہشت گردوں کو سزائے موت دی جاچکی ہے۔ سات مقدمات میں رحم کی اپیلیں صدر پاکستان کے پاس پینڈنگ ہیں۔ چار مقدمے سماعت کے لئے فوجی عدالتوں کو بھیجے گئے۔ آٹھ ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی۔ سات مجرموں کی رحم کی اپیل صدر پاکستان کے پاس پینڈنگ ہے۔ صدر پاکستان نے ایک مجرم کی رحم کی اپیل کومسترد کردیا۔ یہ سب کارروائیاں پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نتیجے میں ممکن ہوئیں۔ اِس پلان پر مسلسل عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

مزید :

اداریہ -