خفیہ اداروں کے بعض اہلکاروں کی سستی!

خفیہ اداروں کے بعض اہلکاروں کی سستی!
خفیہ اداروں کے بعض اہلکاروں کی سستی!

  

پاکستان کو ہر حال میں سر بلند ہونا ہے، استحکام و ترقی اس کا مقدر ہے، اس کے پرچم کو عظمتوں اور رفعتوں کے ساتھ افقِ عالم پر لہرانا ہی لہرانا ہے کہ ’’کلم�ۂ توحید‘‘ کا نعرہ اور عزم اس کی بنیاد میں ہے۔ نشیب و فراز تو قوموں کی زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں، حالات بھی گرم و سرد چلتے رہتے ہیں۔ پاکستان کو اگر اپنوں کی نادانیوں اور غیروں کی دشمنیوں کے ہاتھوں کٹھن دن دیکھنے پڑے تو کیا ہُوا؟ حالات بہرحال سدھرنے بھی لگے ہیں،وہ آگ جو دھماکوں اور تخریبی ہاتھوں نے دہکا رکھی تھی، بجھنے لگی ہے، دہشت گردی کے فتنوں پر ’’ضربِ عضب‘‘ کا جو وار پڑا ہے، اُس نے ’’دشمنوں‘‘ کی کمر توڑ دی ہے۔ دشمن پہچانا گیا ہے، اس کے کارندے پکڑے جا رہے ہیں، فتنوں کا قلع قمع ہو رہا ہے، امیدِ کامل اور یقینِ واثق ہے کہ اب ہر چڑھتا سورج، امن و آشتی ہی کی کرنیں بکھیرے گا اور تخریب و تشدد کے اندھیارے دور ہو کر رہیں گے۔ پاکستان بہرحال، زندہ و تابندہ ہی رہے گا۔

ازلی دشمن اور اس کے حواریوں نے پاکستان کو ٹارگٹ بنا رکھا ہے، وہ روپ بدل بدل کر حملہ آور ہوتا ہے، اس کے حربے رنگا رنگ اور فتنے قسما قسم کے ہیں۔ پاکستانی حساس ادارے، خوب کام کر رہے ہیں، اہلکار بھی دِل جمعی سے اپنے وطن کے تحفظ میں مصروف ہیں، اپنے تن من، دھن سے دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کر رہے اور ارضِ پاک پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔ اُن کی ہمتوں اور جانثاری پر ہر پاکستانی کو ناز ہے اور ان کی کارکردگی پر فخر۔۔۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حساس اور کٹھن وقت میں بعض اہلکار سستی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں یا اس تن دہی سے کام نہیں کرتے جو حالات اور محکمانہ کارکردگی کا تقاضا ہے۔۔۔ اُن کی سستی یا غفلت، نہ صرف اہداف کے حصول میں ناکامی کا باعث بنتی ہے، بلکہ بعض اوقات قوم کے موثر طبقات میں غلط فہمیاں اور دوریاں بھی پیدا کر دیتی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات جس کثرت اور تواتر سے ہوئے، اس سے صاف آشکار تھا کہ دشمن ہمارے گھر کے اندرون تک پہنچ چکا ہے اور ’’ہمارے اپنے‘‘ دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور اس کے اشاروں پر ہمارا خون بہا رہے ہیں۔ ’’اپنے ہاتھوں‘‘ سے اپنے مُلک اور اپنی قوم کو نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔تخریب کار کثرت سے تھے اور قوم میں ’’گھل مل کر‘‘ رہ رہے تھے، ان کو پہچاننا اور پکڑنا بہت مشکل تھا، اس کے لئے ملکی سلامتی کے اداروں اور قوم کے تمام طبقات کو مل کر چلنا تھا۔ گلی گلی، محلے محلے سے ایسے افراد کے بارے میں معلومت لینی تھیں اور صحیح ٹارگٹ تک پہنچنا تھا، اس سلسلے میں سب سے زیادہ خفیہ اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی تھی، فوج اپنے دائرہ کار میں کام کرتی ہے، اس کا کام نہایت منظم ہوتا ہے، غلطی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، جبکہ غیر فوجی اداروں میں، جو کام اہلکار کرتے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔ اگرچہ ’’نظم و ضبط‘‘ کا شہرہ یہاں بھی ہے، مگر معاملات برعکس بھی ہو جاتے ہیں۔۔۔ دہشت گردی اور تخریب کاری کے خلاف ان غیر فوجی اداروں نے کام کیا اور قربانیاں دی ہیں، مگر یہاں سستی و نااہلی(بلکہ مجرمانہ غفلت) کے بھی واقعات ہوئے ہیں(کئی واقعات میرے ذاتی علم میں بھی ہیں) اور ان کے باعث قوم کے موثر طبقات میں ملکی سلامتی کے اداروں اورامن کی کوششوں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ یہ واقعات، بظاہر لطیفہ کی حیثیت بھی ر کھتے ہیں اور متعلقہ خاندانوں اور طبقات کے لئے انتہائی دُکھی کرنے والے بھی، مثلاً، میانہ پورہ سیالکوٹ میں، ایک فرقہ ورانہ جماعت سے تعلق رکھنے والا نوجوان مطلوب تھا اور اس کا نام عمران تھا۔پکڑنے والے آئے اور ایک محنت کش کو پکڑ کر لے گئے کہ اُس کا نام بھی عمران تھا اور چھوٹی چھوٹی ڈاڑھی بھی تھی، تمام تر سفارشوں کے باوجود اُس کو کتنا ہی عرصہ جیل میں رہنا پڑا۔ ہمارے پسرور میں حافظ زاہد نام کا ایک نوجوان مطلوب تھا، اُس کی جگہ حافظ طیب زاہد کو پکڑ لیا۔۔۔ نام ملتے جلتے تھے،کسی اور کی واردات، کسی اور کو بھگتنی پڑ گئی۔

خود میرے ساتھ کئی لطیفے ہو چکے ہیں۔ نارووال ضلع میں پسرور کے مولوی محمد شفیق پر پابندی لگی، وہ سپاہ صحابہ کے ضلعی ذمہ دار تھے اور کئی فرقہ وارانہ معاملات میں ملوث سمجھے جاتے تھے۔ اُن کی پابندی کی خبر اخبارات تک پہنچی تو سرخی تھی ’’شفیق پسروری پر ضلع نارووال میں داخلے پر پابندی‘‘۔ایک بار انسداد دہشت گردی کی عدالت سے انہی مولوی شفیق ڈوگر کے وارنٹ نکلے تو اہلکار میرے گھر آ گئے، حالانکہ وہ ڈوگر اور مَیں رانا، پھر ان کی ولدیت اور قومیت بھی الگ ہے، پولیس سے ان کی پرانی آشنائی ہے پھر بھی ’’کُھرا‘‘ میرے گھر تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ایک بار میرے گھر پر ایک پولیس پارٹی نے چڑھائی کر دی، محلے دار اکٹھے ہوئے، اُن سے بات کی تو پتہ چلا کہ وہ شفیق ڈوگر کو پکڑنا چاہتے تھے۔

جب سے ’’ضربِ عضب‘‘ اور ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ کا آغاز ہُوا ہے،کامیابی سے دشمن ایجنٹوں پر کڑا ہاتھ ڈالا جا رہا ہے،اِس دوران میں بھی کئی افراد کو اُٹھا لیا گیا،مگر دو دو یا چار ماہ بعد وہ لوگ گھروں کو بھیج دیئے گئے، پتہ چلا کہ اُن کا کسی نے (ذاتی یا تنظیمی دشمنی کی وجہ سے)کہیں نام درج کرا دیا تھا۔ اس عرصے میں ان پر اور ان کے گھر والوں پر جو بیتی، وہ کتنی تکلیف دہ تھی، کون جانے؟ لیکن ان کے نام آگے پہنچانے والے اور بلا تحقیق اُٹھانے والے، اپنی جگہ پر اُسی طرح کام کر رہے ہوں گے۔

تھوڑا عرصہ قبل میرے گھر اور ڈیرے کے گرد اجنبی چہرے نظر آنے لگے، معلوم کیا کہ کون ہیں؟ پتہ چلا یہ فلاں محکمے کے ہیں اور پچھلے دو دن سے میرے گھر آنے جانے والوں کو دیکھ اور ٹٹول رہے ہیں۔ ہم حیران کہ کبھی غیر قانونی حرکت کا سوچا تک نہیں، علاقہ بھی گواہ ہے اور کردار بھی، پھر کیا معاملہ ہو گیا؟ متعلقہ محکمے کے افسر سے رابطہ کیا تو پتہ چلا، گوجرانوالہ کے ایک مولوی صاحب کے گھر گئے تھے پکڑنے کو، پتہ چلا ’’وہ پسروری صاحب کے گھر ہیں‘‘۔ ہم حیران کہ اُس مولوی کا ہمارے ساتھ کیا تعلق؟ معلوم ہوا وہ مولانا یوسف پسروری کے گھر لاہور میں ہیں اور محکمہ والے شفیق پسروری کے گھر پسرور شہر میں ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔ مولانا یوسف پسروری کا خاندان پسرور تحصیل گاؤں رتہ جٹھول سے تعلق رکھتا ہے، یہ پہلے اپنے نام کے ساتھ جٹھول لگاتے تھے، پھر پسروری لکھنے لگے، اب اِسی کے ساتھ مشہور ہیں اور سالہا سال سے لاہور میں گھر بنائے ہوئے ہیں، کسی گاؤں میں نہیں۔۔۔۔ ان پر کہیں کوئی مقدمہ درج ہو یا پابندی لگے تو محض پسروری کی نسبت سے بھگتان میری طرف آ جاتا ہے۔ ابھی دو روز قبل سپیشل برانچ کو ہیڈ کوارٹر سے یوسف پسروری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت ملی،تو ان کی رہائش لاہور ہونے کے باوجود پسرور کے اہلکار معلومات اکٹھی کرتے رہے اور پوچھ پڑتال میری کرتے رہے۔ ایسے میں، مَیں کیوں نہ سوچوں کہ کہیں ملتے جلتے ناموں سے،کسی روز مجھے کچھ بھگتنا نہ پڑ جائے! ذمہ دار کون ہو گا؟

مزید :

کالم -