کُج عمران نوں مرن دا شوق وی سی

کُج عمران نوں مرن دا شوق وی سی
 کُج عمران نوں مرن دا شوق وی سی

  

مرحوم منیر نیازی کی روح سے معذرت کے ساتھ!

کُج اُنج وی راہواں اوکھیاں سن

کُج گل وچ غم دا طوق وی سی

کُج شہر دے لوک وی ظالم سن

کُج ’’عمران نوں‘‘ مرن دا شوق وی سی

جی ہاں، گزشتہ دو ماہ کے دوران عمران خان کی سیاسی جدوجہد کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ شیخ رشید کی طرح میدان سیاست میں ان کے ستُو بھی مُک گئے ہیں!

مزے کی بات یہ ہے کہ 30ستمبر کے رائے ونڈ مارچ میں دو ہفتے سے بھی کم رہ گئے ہیں اور شاہ محمود قریشی، اسد عمر، جہانگیر ترین اور علیم خان ٹی وی سکرینوں سے غائب ہیں اور اگر ان میں سے کوئی ہے بھی تو اس قدر شدومد سے پی ٹی آئی کا مقدمہ نہیں لڑرہا ہے، جس شدت سے شیخ رشید عمران خان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیخ رشید کی طرح عمران خان بھی اپنی پارٹی میں اکیلے ہی رہ جائیں!

حیرت تو اس بات پر بھی ہوئی تھی کہ جب عمران خان نے رائے ونڈ مارچ کے لئے 30ستمبر کا اعلان کیا تو بھی ان کے دائیں بائیں جہانگیر ترین اورعلیم خان موجود نہیں تھے اور جو موجود تھے ان میں سے کوئی بھی خاموشی سے ان کا اعلان سننے کے لئے تیار نہ تھا، خان صاحب کو بار بار انہیں چپ رہنے کا کہنا پڑ رہا تھا۔اسی طرح عمران خان نے طاہرالقادری کے بارے میں بھی ایک لفظ تک نہ کہا ، کم از کم ان کا شکریہ ہی ادا کردیتے کہ حسب روائت وہ انہیں چکر دے کر نکل گئے ہیں۔

خبریہ ہے کہ طاہرالقادری نے بھی چیف صاحب کو اِسی طرح نالاں کردیا ہے، جس طرح ان سے قبل الطاف حسین اور آصف علی زرداری کر چکے ہیں۔ ان کے چلے جانے سے رائے ونڈ مارچ کے ٹائر میں سے ہوا نکل گئی ہے اور مسلم لیگ(ن) کے جانثار وزیراعظم نواز شریف کے گھر کے سامنے بلی سے شیر کا روپ دھار کر کھڑے ہو گئے ہیں، حالانکہ انہیں یہ دم خم اس وقت دکھانے کی ضرورت تھی جب ڈی چوک اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف پی ایم ہاؤس میں یرغمال بنے بیٹھے تھے۔

عمران خان نے ورکرز کنونشن سے خطاب میں قومی اداروں کو اس لئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ ان میں سے کسی نے بھی ان کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ ان کے نزدیک قومی ادارے ڈیلیور کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن یہ بات قومی اداروں تک موقوف نہیں ہے، سیاست دانوں کا بھی یہی حال ہے ۔ اِس لئے جب عمران خان قومی اداروں اور مخالف سیاست دانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو لگتا ہے جیسے وہ شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر کوس رہے ہوں، ان کی فرسٹریشن کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صحافیوں کو بھی بے شرموں اور بے ضمیروں کی صف میں کھڑا کردیا ہے ، اس جھنجھلاہٹ میں وہ اپنے کارکنوں پر بھی برس رہے ہیں مگر، کارکن ان کی سن رہے ہیں نہ قومی ادارے!

لوگ کہتے ہیں کہ رائے ونڈ مارچ عمران خان کا آخری چانس ہے، اگر یہاں بھی وہ عوام نہ دکھا سکے تو پھر کبھی نہیں دکھا سکیں گے۔کیا شاہ محمود قریشی سندھ سے اپنے مریدوں کو رائے ونڈ مارچ کے لئے لائیں گے؟۔۔۔کیا جہانگیر ترین لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے خزانوں کے منہ اسی طرح کھولیں گے جس طرح انہوں نے اپنے حلقے سے ضمنی انتخاب جیتنے کے لئے کھولے تھے؟۔۔۔کیا علیم خان رائے ونڈ پہنچنے کے لئے نوجوانوں میں موٹر سائیکل کی چابیاں بانٹیں گے؟۔۔۔ابھی تک کوئی بھی کھل کر سامنے نہیں آرہا ہے ، لگتا ہے کہ وہ عمران خان سے اور عمران خان ان سے چھپ پھر رہے ہیں!

دوسری جانب میڈیا میں بھی عمران خان کی حمایت کم ہو گئی ہے ، وہاں ان پر تنقید نہیں ہو رہی تو دھرنے کے دِنوں کی طرح بے جا تعریف بھی نہیں ہو رہی ہے۔ اس موقع پر ہمیں آصف علی زرداری کا 2013ء کے انتخابات کے بعد دیا جانے والا بیان یاد آرہا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سیاست 2018ء میں کرے گی ، ایسا لگتا ہے کہ بلاول بھٹو کا وقت شروع ہونے والا ہے، بہت جلد وہ ٹی وی کیمروں کا نیا ہیرو بننے جا رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان جان بوجھ کر دیا تھا تاکہ لمبے عرصے تک مُلک سے دور رہنے کا جواز پیدا کر سکیں۔یہ صورتِ حال اس بات کی چغلی بھی کھاتی ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایک دن بھی مخلص بن کر عمران خان کے لئے نہیں سوچا ہے، جبکہ عمران خان سمجھ رہے تھے کہ اگر وہ آصف علی زرداری کے خلاف تنقید بند کردیں گے تو بلاول بھٹو ان کے پیچھے کنٹینر پر آکر کھڑا ہو جائے گا۔ اب پیپلز پارٹی والے ہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ عمران خان رائیونڈ مارچ کا اعلان کرکے پھنس گئے ہیں، وہ جانتے ہیں تو پھنستے ہیں ، نہیں جاتے ہیں تو پھنستے ہیں، ان کے بقول وہ اگلی جائے نہ نگلی جائے جیسی صورتِ حال کا شکار ہیں۔

مزید :

کالم -