”قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے قوم متحد ہے“دفاع پاکستان کونسل کا مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ

”قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے قوم متحد ہے“دفاع پاکستان کونسل کا مسئلہ کشمیر ...
”قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے قوم متحد ہے“دفاع پاکستان کونسل کا مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ

  

لاہور(نیوز ڈیسک) ”قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے قوم متحد ہے“دفاع پاکستان کونسل کا مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دفاع پاکستان کونسل کی سٹیرنگ کمیٹی کے چیئر مین لیاقت بلوچ نے عبدالرحمن مکی ، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر ، سردار محمد خان لغاری ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،وحید شیخ ، حافظ ساجد انور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے قوم متحد ہے۔پاکستان کے دشمنوں اور ملک کے اندر دشمن کے آلہ کاروں کا مقابلہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کریں گے۔کشمیر میں آزادی اور حق خوداداریت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ آزاد کشمیر کو آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بنا کر پوری قوت سے کشمیریوں کا ساتھ دیا جائے۔ہم کور کمانڈرز میٹنگ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ ہم بنگلہ دیش میں محب اسلام اور بھارت مخالف دینی و جمہوری قوتوں کے خلاف حسینہ واجد کے ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک ،عوام کے قتل عام اور قائدین کی پھانسیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔بنگلہ دیش میں ظلم و جبر کا یہ کھیل بھارتی ایما پر کھیلا جارہا ہے۔بھارت پاکستان کے خلاف مقبوضہ کشمیر افغانستان اور بنگلہ دیش میں صف بندی کررہا ہے اور بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 1974ءمیں ہونے والے سہ فریقی معاہدے کو عالمی عدالت میں چیلنج کرنا چاہیے۔

اسٹیرنگ کمیٹی کے قائدین نے فیصلہ کیا ہے کہ 04 اکتوبر کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی اور دفاع پاکستان کونسل کے قائدین وزیر داخلہ ،وزیر دفاع اور وزیر سرحدی امور سے ملاقاتیں کریں گے،کوئٹہ پشاور اور اسلام آباد میں جلسے ہونگے اور اگر حکمران بھارتی دوستی سے باز نہ آئے تو کوئٹہ اور پشاور میں دھرنے دیے جائیں گے،افغان مہاجرین سے یکجہتی انسانی بنیاوں پر مسائل کے حل اور پاک افغان عوام کے درمیان مضبوط رشتے قائم رکھنے کے لیے افغان مہاجرین کی شوریٰ سے مسلسل رابطہ کیاجائے گا۔مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مظفر آباد اور سرینگر سے چکوٹھی تک عوامی مارچ بھی کیا جائے گا۔

مزید :

قومی -